امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے مبینہ دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے پیانگ یانگ کے متنازع جوہری پروگرام کی اہمیت کو کم کرکے پیش کیا ہے۔
امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا سکتی جبکہ شمالی کوریا کے پاس پہلے ہی جوہری ہتھیار موجود ہیں اور وہ اپنے جوہری ذخیرے میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنے پیش رو جو بائیڈن کو شمالی کوریا کے ساتھ معاملہ آگے نہ بڑھانے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور دعویٰ کیا کہ وہ دنیا میں واحد شخص ہیں جنہیں شمالی کورین رہنما کم جونگ ان پسند کرتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ’چونکہ آپ کے صدر مختلف تھے۔ وہ اسے روک سکتے تھے۔ وہ میرے دوست ہیں۔ کم جونگ اُن میرے دوست ہیں۔ وہ ٹرمپ کو پسند کرتے ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ پیانگ یانگ کے پاس ’کافی بڑا‘ جوہری ذخیرہ ہے۔
امریکی صدر نے شمالی کورین رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’وہ بہت سے دوسرے لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔ میں شاید پوری دنیا میں واحد شخص ہوں جسے وہ پسند کرتے ہیں اور میں انہیں پسند کرتا ہوں۔ جب تک میں یہاں ہوں، وہ ٹھیک رہیں گے۔ آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ میری عزت کرتے ہیں اور مجھے پسند کرتے ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’جب میں یہ کہتا ہوں تو مجھے بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت برا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کم جونگ اُن کی تعریف ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کے رہنما ولادی میر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا روس کی جانب سے ان کے ملک کے خلاف جاری جنگ میں مدد کے لیے مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پیانگ یانگ پہلے ہی 8 ہزار فوجیوں کو روس کی جانب سے لڑنے کے لیے بھیج چکا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی کم جونگ اُن کے ساتھ ایک اور سربراہی ملاقات کی خواہش کوئی راز نہیں ہے۔ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ رواں سال کے اختتام تک شمالی کوریا کے رہنما سے ’ملاقات کریں گے‘، حالانکہ اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی میڈیا کی جانب سے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے نجی طور پر اپنے معاونین پر زور دیا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کے اجلاس کے لیے چین کے دورے کے دوران کم جونگ اُن کے ساتھ ملاقات کا انتظام کریں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی ’الچی فریڈم شیلڈ‘ فوجی مشقیں محدود کر دی تھیں۔ انہوں نے 11 روزہ مشترکہ فوجی مشق کو شمالی کوریا کے لیے ’نامناسب اور جارحانہ‘ اور امریکہ کے لیے مہنگا قرار دیتے ہوئے تنقید کی تھی، جس پر ان کے اتحادی بھی حیران رہ گئے تھے۔
اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ 2018 میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کرنے والے پہلے موجودہ امریکی صدر بنے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے اس کے بعد مزید دو ملاقاتیں کیں، تاہم 2019 میں سفارتی عمل ختم ہو گیا۔
اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ’محبت بھرے خطوط‘ کا بھی فخریہ طور پر ذکر کیا ہے جو ان کے بقول انہیں شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے موصول ہوئے تھے۔
اس دوران شمالی کوریا نے روس کے ساتھ ایک سٹریٹجک دفاعی اتحاد قائم کر لیا ہے، جس کے تحت پیانگ یانگ نے اپنے روایتی ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کیا ہے اور فوجیوں اور ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے یوکرین کے خلاف جنگ میں ولادی میر پوتن کی مدد کی ہے۔ پیانگ یانگ نے چین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔
اس عرصے کے دوران شمالی کوریا نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس نے چھ الگ الگ مواقع پر جوہری بموں کے تجربات کیے ہیں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
پیانگ یانگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے رابطوں کا اسی انداز میں جواب نہیں دیا۔
امریکی صدر کی جانب سے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کیے جانے کے بعد کم جونگ اُن کی با اثر بہن کم یو جونگ نے کہا تھا کہ اگر امریکی اسے ’کسی قسم کے خیر سگالی کے اقدام‘ کے طور پر دیکھتے ہیں تو انہیں ’وہ جواب نہیں ملے گا جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں‘۔
کم یو جونگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ وہ کم جونگ اُن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے کسی رابطے سے ’مکمل طور پر لاعلم‘ ہیں۔
اسی دوران انہوں نے کہا کہ کم جونگ اُن کے دل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ’اچھی ذاتی یادیں اور جذبات‘ اب بھی موجود ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات ’بہترین‘ ہیں۔
<p class="rteright"> شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن 30 جون 2019 کو غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زی) میں واقع پانمنجوم کے مشترکہ سکیورٹی علاقے میں شمالی اور جنوبی کوریا کو تقسیم کرنے والی فوجی حد بندی لائن کے جنوب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کھڑے گفتگو کر رہے ہیں (برینڈن سمیالوسکی / اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·