پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا میں دفاعی تعاون بڑھانے کا معاہدہ

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ترکی کی وزارت دفاع نے بدھ کو بتایا کہ پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعت کو فروغ دینے کے لیے تعاون بڑھانے اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ترک وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ دوحہ میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت فوجی مشقوں اور تربیت، تحقیق و ترقی کے شعبوں میں تعاون کی حمایت کی جائے گی۔

بیان کے مطابق یہ معاہدہ چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں میں معاون ثابت ہوگا۔

اس نئے معاہدے کی تفصیلی شرائط سامنے نہیں آئی ہیں اور دستیاب معلومات میں اسے کسی مشترکہ دفاعی ضمانت یا کسی ملک پر حملے کی صورت میں لازمی فوجی مدد فراہم کرنے کے معاہدے کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ، خلیجی ممالک پر حملوں، بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کے خدشات اور امریکہ کے سکیورٹی کردار سے متعلق سوالات کے باعث علاقائی ممالک اپنے دفاعی تعاون کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

پاکستان کے موجودہ دفاعی معاہدے

اس سے قبل سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے سات اگست، 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

مکہ معاہدے میں فریقین کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی شق شامل ہے۔

اس میں انٹیلی جنس کے تبادلے، دفاعی صنعت میں تعاون، لاجسٹک معاونت اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کا بھی ذکر ہے۔

معاہدے میں حملے کی صورت میں مدد کی نوعیت اور دائرہ کار طے کرنے کا اختیار متعلقہ ممالک کے پاس ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترکی نے گذشہ روز (منگل کو) مکہ دفاعی معاہدے کو توثیق کے لیے اپنی پارلیمان میں پیش کیا۔ ترکی کے آئین کے تحت بیرون ملک فوج بھیجنے کے لیے پارلیمانی اجازت درکار ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے واضح کیا تھا کہ معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملے کرنا نہیں۔

مکہ کے سہ فریقی معاہدے سے پہلے پاکستان اور سعودی عرب ستمبر 2025 میں بھی باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکے تھے۔

یہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی اور سکیورٹی تعاون کو باضابطہ شکل دینے کی ایک اہم پیش رفت تھی۔

اس معاہدے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ریاض میں دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے اعلان کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

ترک وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ دوحہ میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت فوجی مشقوں اور تربیت، تحقیق و ترقی کے شعبوں میں تعاون کی حمایت کی جائے گی۔
بدھ, اکتوبر 21, 2026 - 16:30
Main image: 

<p>ترک&nbsp;وزارت دفاع کے مطابق پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے بدھ کو دفاعی تعاون بڑھانے اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں (پروفیسر ڈاکٹر ہالوک گورگن/ایکس)</p>

type: 
SEO Title: 
پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کا دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط
Read Entire Article
Chatroom