سینیما کے سب سے مشہور اور یادگار کرداروں میں سے ایک ’زیرو زیرو سیون‘ (007) ہے۔
اگر 1967 کی ’کیسینو رائل‘ کے غیر سنجیدہ اور مزاحیہ ورژن کو نظر انداز کر دیں تو 1962 کی ’ڈاکٹر نو‘ میں شان کونری کی جانب سے تاش کی میز پر پہلی بار ’بانڈ، جیمز بانڈ‘ کہنے کے بعد اب تک چھ اداکار یہ مشہور کردار ادا کر چکے ہیں۔
ہر اداکار نے ہی دنیا کے سب سے مشہور جاسوس کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں
ان میں ایک ویلش اداکار تھا جو کردار میں شیکسپیئر جیسی سنجیدگی لے آیا، ایک آسٹریلوی تھا جو صرف ایک فلم تک محدود رہا اور ایک آئرش اداکار تھا جس نے ایک ایسی گاڑی چلائی جو نظر ہی نہیں آتی تھی۔
ان سب میں اپنی اپنی خوبیاں تھیں لیکن ان سب میں بہتر کون تھا؟ آخرکار وہ کون سا اداکار ہے جسے حقیقی معنوں میں حقیقی 007 کہا جا سکتا ہے؟
6۔ جارج لیزن بی
ذرا لیزن بی کے بارے میں بھی سوچیں۔ آسٹریلوی شہری جارج لیزن بی پہلے کار سیلز مین تھے۔ فلم پروڈیوسر کیوبی بروکولی نے انہیں فرائی چاکلیٹ کے ایک اشتہار میں نہایت وجیہہ انداز میں دیکھا اور جیمز بانڈ کے کردار کے لیے منتخب کر لیا۔
لیکن انہوں نے صرف ایک بار 007 کا کردار ادا کیا، 1969 کی فلم ’آن ہر میجسٹی سِکریٹ سروس‘ میں اور اس کے بعد فوراً ہی اس کردار سے کنارہ کش ہو گئے۔ یوں وہ ہمیشہ کے لیے اس فہرست میں موجود باقی تمام اداکاروں کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے۔
ان کے ہدایت کار پیٹر ہنٹ نے کاسٹنگ کے وقت کہا تھا: ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ اداکار ہیں۔‘ فلم دیکھنے سے بھی اس بات کی کچھ حد تک تصدیق ہوتی ہے۔ رومانوی مناظر میں ان کی اداکاری بے جان محسوس ہوتی ہے، وہ برجستہ مکالمے بولنے میں بھی مشکل کا شکار نظر آتے ہیں جبکہ ایک اہم عشائیے کے منظر میں ان کی کارکردگی اتنی کمزور تھی کہ ان کی آواز کسی دوسرے شخص سے ڈب کروائی گئی۔
ان میں شان کونری والی نفاست اور بااختیار انداز بالکل نہیں تھا۔
اس کے باوجود ’آن ہر میجسٹی سِکریٹ سروس‘ آج بھی بانڈ سیریز کی بہترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں شان دار سکیئنگ مناظر، ڈیانا رگ کی یادگار کردار کاؤنٹیس ٹریسی اور لوئس آرمسٹرانگ کا گایا ہوا ٹائٹل گانا شامل ہے۔ کرسٹوفر نولن اور سٹیون سوڈربرگ بھی اسے اپنی پسندیدہ فلموں میں شمار کر چکے ہیں۔
سوچیے، اگر اس فلم میں ایک بہتر اداکار ہوتا تو کیا ہوتا؟ صرف 29 سالہ ایسے شخص کے بجائے جو بنیادی طور پر لباس دکھانے کے لیے موزوں ماڈل جیسے نظر آتے تھے اور آڈیشن کے دوران ایک سٹنٹ مین کے چہرے پر غلطی سے مکا مار کر کردار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
5۔ راجر مور
راجر مور کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا۔ بھڑکیلی پتلون، قدرے اٹھی ہوئی بھنویں اور ہر موقعے کے لیے تیار ایک برجستہ جملہ، ان کے بانڈ کے کردار کو شاید جتنا سراہا جانا چاہیے تھا، اتنا نہیں سراہا گیا۔
انہیں کتنا ہی خراب مکالمہ دے دیں، وہ اپنی اداکاری سے اسے بھی مزاحیہ بنا دیتے تھے۔ ڈینیئل کریگ کو یہی مکالمہ دیا جائے تو وہ بالکل پھیکا اور بے جان محسوس ہوتا۔
یہ الگ بات ہے کہ راجر مور کی 12 سال میں بننے والی سات فلموں کا معیار یکساں نہیں تھا۔ ’اے ویو ٹو اے کِل‘ میں ان کی عمر 57 سال تھی اور فلم کی کہانی کی طرح وہ بھی خاصے تھکے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔
دوسری طرف ’سٹار وارز‘ سے متاثر ’مون ریکر‘ میں انہوں نے فلم کے مزاحیہ اور بناوٹی انداز کو اس حد تک بڑھا دیا کہ وہ خود اپنے کردار کا مذاق اڑانے جیسا محسوس ہونے لگا۔
لیکن ’دی سپائی ہو لَوڈ می‘ میں ان کے شان دار انداز کو ضرور سراہنا چاہیے۔ یہ ان کے دور کی سب سے نفیس اور محض تفریح کے لحاظ سے سب سے لطف دینے والی فلم تھی۔
وہ بانڈ کے سوٹ میں شاید کچھ زیادہ عرصہ رہے، لیکن یہ سوٹ ان پر خوب جچتا بھی تھا۔
4۔ پیئرس بروسنن
ملینیل نسل کے لیے پیئرس بروسنن ہی جیمز بانڈ کی اصل مثال ہیں۔ پرکشش، ہمیشہ بہترین انداز میں سنورے ہوئے اور ایسی مسکراہٹ کے مالک جو روس کی سردیوں کو بھی پگھلا دے۔
1995 کی ’گولڈن آئی‘ میں جب انہوں نے ایک بلند و بالا کنکریٹ ڈیم سے ناقابل یقین چھلانگ لگا کر 007 کے طور پر اپنا تعارف کروایا تو میں فوراً ان کا مداح ہو گیا۔
آپ اسے جذباتی وابستگی کہیں، لیکن مجھے آج بھی لگتا ہے کہ یہ ایک کلاسک فلم ہے۔ یہ پہلی بانڈ فلم تھی جو میرے والد مجھے سینیما میں دکھانے لے گئے تھے۔
لیکن بات صرف پرانی یادوں تک محدود نہیں۔ مور اور کونری کے انداز کے درمیان کہیں نظر آنے والے بروسنن کے بانڈ میں نہ صرف زبردست کشش اور ایسی صلاحیت تھی کہ وہ انتہائی بھدا ون لائنر بھی خوبصورت انداز میں بول سکتے تھے، بلکہ ان کے کردار میں نفسیاتی گہرائی بھی زیادہ تھی۔
مسئلہ یہ تھا کہ ان کے بعد آنے والی فلموں نے ان کے کردار کو بری طرح محدود کر دیا۔ ’ٹومارو نیور ڈائیز‘ چمک دمک سے بھرپور لیکن بے روح تھی، ’دی ورلڈ اِز ناٹ اِنف‘ حد سے زیادہ مصنوعی اور افسوس ناک حد تک بناوٹی تھی، جبکہ ’ڈائی اَدر ڈے‘ تو تقریباً تباہ کن ثابت ہوئی۔
دوسرے لفظوں میں، فلمیں بروسنن کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئیں۔
3۔ ٹموتھی ڈالٹن
ٹموتھی ڈالٹن کے بانڈ کو سراہنے میں لوگوں نے سب سے زیادہ وقت لیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ بہت زیادہ سنجیدہ اور اداس ہیں، جبکہ ناظرین ایک ایسے بانڈ کے عادی تھے جو اپنی میٹھی گفتگو اور دلکش انداز سے سب کو متاثر کر لیتا تھا۔
لیکن ویلش اداکار نے اس کردار میں گہری رومانوی اداسی کے ساتھ ایک سرد مہر اور سخت مزاج شدت بھی پیدا کی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
راجر مور کے ہلکے پھلکے اور آنکھ مار کر مذاق کرنے والے انداز کے مقابلے میں یہ تبدیلی بالکل درست وقت پر آئی تھی۔
ان کا صرف دو فلموں پر مشتمل دور افسوس ناک حد تک مختصر رہا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اندر اس کردار کو دینے کے لیے ابھی بہت کچھ باقی تھا۔
’دی لیونگ ڈے لائٹس‘ کو دیکھیے۔ یہ بانڈ سیریز کی بہترین فلموں میں سے ایک ہے۔ فلم سرد جنگ کی چمک دمک سے مراکش کی مہم جوئی تک انتہائی تیزی اور جوش کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور ڈالٹن اس کردار میں اپنی بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں۔
’لائسنس ٹو کِل‘ بالکل مختلف نوعیت کی فلم ہے۔ یہ بانڈ سیریز کی پہلی فلم تھی جسے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے نامناسب قرار دیا گیا۔ یہ زیادہ سخت، سنجیدہ اور تاریک فلم تھی، جس میں ایک کھردرا پن نمایاں تھا۔
ڈالٹن کو اس بات کا کریڈٹ ضرور دینا چاہیے کہ انہوں نے کردار کے ساتھ تجربہ کرنے کا خطرہ مول لیا۔
’لائسنس ٹو کِل‘ میں ان کے کردار کی انتقام کی شدید خواہش نے بعد میں ڈینیئل کریگ کے ’کوانٹم آف سولیس‘ میں نظر آنے والے شدید غصے والے بانڈ کے لیے راستہ ہموار کیا۔
بدقسمتی سے ’لائسنس ٹو کِل‘ اس دور کی سب سے کم کمائی کرنے والی بانڈ فلم ثابت ہوئی اور ڈالٹن کو جلد ہی پیئرس بروسنن کے لیے راستہ چھوڑنا پڑا۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ٹموتھی ڈالٹن کی میراث اور اس کردار میں ان کے مقام کو درست طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
2۔ ڈینیئل کریگ
یاد ہے جب 2005 میں یہ اعلان ہوا کہ اگلے جیمز بانڈ ڈینیئل کریگ ہوں گے تو کس قدر مخالفت ہوئی تھی؟ لوگوں نے کہا تھا کہ ان کے بال بہت سنہرے ہیں، وہ زیادہ وجیہہ نہیں اور ان میں بانڈ جیسی نفاست نہیں۔
لیکن وہ غلط ثابت ہوئے۔
2006 میں آنے والی ’کیسینو رائل‘ نے پوری بانڈ سیریز کو نئے سرے سے متعارف کروا دیا۔ سخت چہرے، فوجی جوان جیسا مضبوط جسم اور نفیس سوٹ کے نیچے ایک ایسا شخص جو اندر سے اپنے مشکل بچپن کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا، کریگ کا 007 بالکل مختلف تھا۔
اداکار اپنی بہترین کارکردگی شاید اس کم سراہی جانے والی فلم ’کوانٹم آف سولیس‘ میں دکھاتے ہیں۔ اس میں ان کا 007 ایسا لگتا ہے جیسے مکا بند کیے ہوئے غصے کا ایک مجسمہ ہو، جس کی انگلیوں کے بیچ سے جذبات بھی باہر آ رہے ہوں۔
کریگ کی تمام فلمیں کامیاب نہیں رہیں۔ بروقت برجستہ جملے یا جنسی اشاروں والے مکالمے بولتے ہوئے وہ کچھ بے آرام دکھائی دیتے تھے۔
’سکائی فال‘ اور ’سپیکٹر‘ میں بھی وہ کسی حد تک بندھے ہوئے محسوس ہوئے۔ 2015 میں تو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ دوبارہ بانڈ کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی کلائیاں کاٹنا پسند کریں گے۔
لیکن انہوں نے بانڈ سیریز کو وہ چیز دی جو ان سے پہلے کسی اداکار نے نہیں دی تھی یعنی ایسا بانڈ جس سے آپ کو خوف محسوس ہوتا تھا۔
1۔ شان کونری
اصل جیمز بانڈ اور وہ معیار جس کے ساتھ ڈینیئل کریگ سمیت بعد کے تمام اداکاروں کا موازنہ کیا گیا۔
محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے ایڈنبرا کے رہنے والے شان کونری کو ہدایت کار ٹیرنس ینگ نے نفاست اور شائستگی سکھائی۔ کونری نے 007 کے کردار کو ظاہری نفاست کے نیچے چھپی ایک ایسی سرد اور بے باک خود اعتمادی دی جو ایک نئے امیر شخص کی سی تھی۔
انہوں نے بانڈ کے کردار کا بنیادی سانچہ تیار کیا، یعنی ایک ایسا نفیس غنڈا جو دشمن کو ختم کر سکتا تھا اور اس کے دل کی دھڑکن تک نہیں بڑھتی تھی۔
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی تمام فلمیں وقت گزرنے کے ساتھ اچھی طرح برقرار رہی ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کے ساتھ ان کے کردار کا رویہ آج کے دور میں خاصا مسئلہ پیدا کرتا ہے۔
اور ’ڈائمنڈز آر فار ایور‘ میں، جو لیزن بی کے بعد انہیں دوبارہ بانڈ کے کردار میں واپس لانے کے لیے بنائی گئی، وہ لاس ویگاس کے فر والے ملبوسات اور مزاحیہ مناظر میں کچھ بے سمت دکھائی دیے۔
لیکن جب کونری اپنے عروج پر تھے، یعنی خاص طور پر اپنی پہلی تین فلموں میں، تو انہیں روکنا مشکل تھا۔ ان میں ’فرام رشیا وِد لو‘ سب سے نمایاں ہے، جو ہچکاک کی فلموں کی طرح جکڑ لینے والی اور انتہائی مربوط فلم تھی۔
کسی اور جیمز بانڈ نے آج تک کونری جیسی مضبوط اور بے ساختہ مردانہ کشش کا مقابلہ نہیں کیا۔
شان کونری نے 007 کو حقیقت میں جیمز بانڈ بنایا۔ اس کے بعد آنے والے تمام اداکار اپنے اپنے انداز میں ان کے بنائے ہوئے معیار تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔
<p class="rteright">چار اکتوبر 2016 کو برلن کے مادام تساؤ مومی عجائب گھر میں جیمز بانڈ کا کردار ادا کرنے والے اداکاروں کے مومی مجسمے نمائش کے لیے رکھے گئے۔ بائیں سے دائیں راجر مور، ٹموتھی ڈالٹن، ڈینیئل کریگ، شان کونری، جارج لیزنبی اور پیئرس بروسنن (اے ایف پی)</p>
.png)
2 hours ago
3




English (US) ·