ورلڈ اکنامک فورم کی پاکستان میں انتظامی یونٹس بڑھانے کی سفارش

2 hours ago 3

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

عالمی تنظیم ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) نے پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو فروغ دینے اور طرز حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے ملک کے انتظامی جغرافیے کی ازسرنو تشکیل اور نئے انتظامی یونٹس بنانے کی سفارش کی ہے۔

ڈبلیو ای ایف کے سینٹر فار ریجنز، ٹریڈ اینڈ جیو پولیٹکس کے مطابق مزید انتظامی یونٹس بنانے سے طرز حکمرانی بہتر ہو سکتی ہے، لیکن وسیع تر اصول یہ ہے کہ جب طرز حکمرانی کا پیمانہ معاشرے کے حجم سے ہم آہنگ نہ رہے تو ادارہ جاتی جغرافیے کو تبدیل ہونا چاہیے۔ اس کا موقف ہے کہ صوبوں، ریاستوں یا کاؤنٹیز کی کوئی ایک مثالی تعداد یا متفقہ حل نہیں ہے۔ 

سینٹر نے نو اکتوبر کو جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ بہت سی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں آبادی ان اداروں کی استعداد سے تجاوز کر رہی ہے جنہیں ان کا نظام چلانے کے لیے بنایا گیا تھا، جس سے آبادیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ طرز حکمرانی کا چیلنج پیدا ہو رہا ہے۔ 

فورم کے مطابق: ’جب چھوٹے معاشروں کے لیے بنائے گئے انتظامی نظاموں سے کہیں زیادہ بڑی، زیادہ شہری اور زیادہ غیر مساوی آبادیوں کو سنبھالنے کا کام لیا جاتا ہے، تو فیصلہ سازی کا عمل ان شہریوں سے بہت دور ہو سکتا ہے جن کی خدمت کے لیے وہ بنائے گئے۔‘

مزید کہا گیا کہ پاکستان اس بات کی واضح مثال ہے کہ یہاں اصلاحات کیوں ضروری ہیں اور انہیں کیسا ہونا چاہیے؟ 1951 کے بعد سے اس کی آبادی میں سات گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے تقریباً 26 کروڑ عوام انہی چار بنیادی انتظامی صوبوں میں رہتے ہیں لیکن وہاں واضح تفاوت موجود ہے۔

مثال کے طور پر، صرف پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ہے۔ اس کے برعکس، بلوچستان کا رقبہ بہت بڑا ہونے کے باوجود وہاں ڈیڑھ کروڑ سے بھی کم لوگ آباد ہیں۔ 

انتظامی نقشے اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ حکومتیں کس طرح ریونیو اکٹھا کرتی ہیں، عوامی فنڈز مختص کرتی ہیں، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، بحران میں ردعمل دیتی ہیں اور کارکردگی کا جائزہ لیتی ہیں۔ جب یہ نقشے مزید آبادیاتی اور معاشی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے، تو طرز حکمرانی کے مسائل شدت اختیار کر جاتے ہیں۔

پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی کچھ عرصہ قبل نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے ویڈیو ذیل میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ڈبلیو ای ایف کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب صوبائی دارالحکومت دور دراز کے اضلاع سے کٹتے چلے جاتے ہیں، جس سے شہریوں کے جڑے ہونے کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے اور سماجی و معاشی استحکام کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ پاکستان کی آبادی میں مسلسل اضافے کے پیش نظر، جس کے 2030 تک ممکنہ طور پر 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، انتظامی اصلاحات ایک مسلسل توجہ طلب مسئلہ بن جاتی ہیں۔

آبادی میں تبدیلی کے ساتھ قدم ملانا 

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے، حالیہ برسوں میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے ملک میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

مثال کے طور پر، 18ویں آئینی ترمیم اور ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت صحت اور تعلیم جیسی خدمات کی اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کر دی گئیں، جب کہ وفاقی ٹیکسوں میں ان کا حصہ 47.5 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا۔

اگرچہ یہ اقدامات حوصلہ افزا ہیں، لیکن اب بھی بہت سے فیصلے ان کمیونٹیز کی پہنچ سے دور ہیں جو ان سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ ضلع لاہور کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ہے، جب کہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں محض ایک لاکھ 28 ہزار افراد آباد ہیں، لہٰذا صوبائی دارالحکومت میں بنائی جانے والی پالیسی کو انتہائی مختلف زمینی حقائق کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے۔

شہریوں سے قربت

پاکستان اس حوالے سے کوئی منفرد مثال نہیں ہے۔ دیگر بڑے اور متنوع ممالک نے بھی اپنی آبادیوں اور معیشتوں کے ارتقا کے ساتھ ساتھ بار بار اپنے انتظامی جغرافیے میں تبدیلیاں کی ہیں۔

مثال کے طور پر، نائجیریا نے بار بار اپنے اندرونی انتظامی نقشے کی ازسرنو تشکیل کی اور آزادی کے وقت اپنے تین خطوں پر مشتمل ڈھانچے کی جگہ 1967 میں 12 ریاستیں اور بالآخر 1996 تک 36 ریاستیں قائم کر لیں۔ 

زیادہ یونٹس بہتر طرز حکمرانی فراہم کر سکتے ہیں لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جب طرز حکمرانی کا پیمانہ معاشرے کے حجم سے ہم آہنگ نہ رہے تو ادارہ جاتی جغرافیے کو تبدیل ہونا چاہیے۔ 

اداروں اور مالیاتی نظام میں تبدیلی

حدود، فنڈنگ اور اختیارات کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔ وسائل کی یقینی منتقلی، ٹیکس وصولی کے قابل اعتماد اختیارات اور خدمات کی فراہمی کی واضح ذمہ داریوں کے بغیر، چھوٹے یونٹس محض نچلی سطح پر اختیارات کے ارتکاز کا باعث بن سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے، اس بحث کو کسی ایک ’درست‘ نقشے کے مقابلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے کیوں کہ یہ طرز حکمرانی کے کئی منظرنامے پیش کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک مناسب اصلاح کے تحت ہر موجودہ صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس سے ابتدائی درجے کی 16 حکومتیں قائم ہوں گی اور ہر یونٹ کی اوسط آبادی تقریباً چھ کروڑ سے کم ہو کر لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ رہ جائے گی۔

ہر منظرنامے کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں۔ کم اور بڑے یونٹس کے لیے قانون سازی کرنا اور مالی وسائل فراہم کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ زیادہ یونٹس بنانے سے دارالحکومت، بجٹ اور سیاسی اختیارات شہریوں کے قریب تو آ سکتے ہیں، لیکن اس سے اختیارات کی منتقلی کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور اس کے لیے زیادہ مضبوط انتظامی صلاحیت درکار ہو گی۔

 دیگر ممالک سے ملنے والے شواہد بھی اس بات سے خبردار کرتے ہیں کہ حدود میں تبدیلی کو ہر مسئلے کا حل نہ سمجھا جائے۔ نئے انتظامی یونٹس عوامی مسائل پر ردعمل کو بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ان کے ساتھ باصلاحیت ادارے، وسائل کی شفاف منتقلی، کارکردگی کا تقابلی ڈیٹا اور مقامی سطح پر ریونیو اکٹھا کرنے کی ترغیبات موجود ہوں۔ 

محض زیادہ انتظامی یونٹس نہیں، بلکہ بہتر طرز حکمرانی 

مثال کے طور پر، پاکستان کے صوبوں پر اب عوامی خدمات کی فراہمی کی بھاری ذمہ داریاں عائد ہیں، لیکن ان کے اپنے ذرائع آمدن اب بھی محدود ہیں۔ سال 2024-2025 کے دوران، صوبائی ٹیکسوں کی مد میں صرف 983 ارب روپے جمع ہوئے، جو مجموعی ملکی پیداوار کے 0.9 فیصد سے بھی کم بنتے ہیں۔

دوسری جانب، قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ 24 فیصد ہے، لیکن اس شعبے کے حجم کو دیکھتے ہوئے زرعی انکم ٹیکس سے ہونے والی آمدن ہمیشہ سے بہت کم رہی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے تخمینے کے مطابق، زراعت پر ٹیکس کی مؤثر شرح محض 0.3 فیصد ہے، جب کہ 2025 میں ٹیکس کی شرح بڑھائے جانے کے باوجود زرعی انکم ٹیکس کی آمدن توقعات سے کم رہی ہے۔

کئی دہائیوں سے، صوبائی ٹیکس حکام کو محدود انتظامی صلاحیت، قوانین کے کمزور نفاذ اور معلومات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے زرعی آمدن پر ٹیکس کا تعین اور وصولی مشکل ہو گئی ہے۔

اس حوالے سے ایک سیاسی اور معاشی دلیل بھی موجود ہے۔ چھوٹے اور بہتر وسائل کے حامل انتظامی یونٹس سیاسی اور انتظامی قیادت کی راہیں وسیع کر سکتے ہیں۔ ان کے ذریعے مقامی سطح پر اقتصادی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنے، ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے، شہری آبادی میں اضافے پر قابو پانے اور تعلیمی خدمات کو ضلع کی سطح پر ضرورت کے مطابق ڈھالنے میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔

سیلاب، پانی کی قلت، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہر کاری اور نوجوانوں کے روزگار کے دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کرنے والے ملک کے لیے حکام کا عوام کے قریب ہونا محض کوئی عیاشی نہیں بلکہ مسائل پر قابو پانے کا حصہ ہے۔

اس حوالے سے رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ انتظامی نقشے کی ازسرنو تشکیل کا مقصد محض ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ کچھ ممالک کو اس کے برعکس خطرے کا سامنا ہے: مناسب مالی یا ادارہ جاتی صلاحیت کے بغیر، بہت سے کمزور مقامی اداروں کا قیام حکومتوں کو منقسم تو کر دیتا ہے لیکن وہ غیر مؤثر رہتی ہیں۔

اس کا مقصد محض انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ طرز حکمرانی کے پیمانے، اختیارات، وسائل اور احتساب کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہو گا۔

فورم کے مطابق جب چھوٹے معاشروں کے لیے بنائے گئے انتظامی نظاموں سے کہیں زیادہ بڑی آبادی کو سنبھالنے کا کام لیا جاتا ہے تو فیصلہ سازی کا عمل شہریوں سے بہت دور ہو سکتا ہے۔
ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 12:00
Main image: 

<p class="rteright">9 مارچ 2024 کو اسلام آباد میں صدارتی انتخاب کے دوران پاکستان کی پارلیمنٹ ہاؤس کا عمومی منظر (عامر قریشی / اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
ورلڈ اکنامک فورم کی پاکستان میں انتظامی یونٹس بڑھانے کی سفارش
Read Entire Article
Chatroom