خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے مسائل کے حل تک نیا نظام چلے گا: مشیر اطلاعات

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

صوبہ خیبر پختونخوا کے عسکریت پسندی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے مجوزہ علاقائی ترقیاتی سیکرٹیریٹ کے مشیر اطلاعات محمود جان بابر نے ہفتے کو بتایا کہ عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے صرف انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن ہوں گے اور کسی قبائلی کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ کونسل کی تشکیل مکمل ہو گئی ہے اور توقع ہے وزیراعظم شہباز شریف پیر کو دورہ پشاور کے دوران کونسل کے ممبران سے ملاقات اعلان کریں گے۔

انہوں نے بتایا یہ نیا نظام یعنی سیکریٹریٹ مستقل بنیاد پر قائم کیا جا رہا ہے جسے وزیراعظم براہ راست خود دیکھیں گے۔

’جب تک لوگوں کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، یہ نظام چلتا رہے گا، اس کا کوئی ٹائم فریم اس کے علاوہ نہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ان کا کہنا تھا ’12 اضلاع کے بارے میں حقیقت یہ ہے کہ یہاں گورننس انتہائی خراب رہی۔

’ہماری انڈرسٹینڈنگ یہ ہے کہ دہشت گردی میں اضافے کی وجہ بری گورننس تھی۔ کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان اضلاع میں سابق حکومتوں کے دور میں شروع کیے گئے تمام ’اچھے منصوبوں‘ کو مکمل کیا جائے گا۔

’ترقیاتی منصوبے اور سکیورٹی امور ساتھ ساتھ دیکھے جائیں گے‘

محمود جان بابر نے واضح کیا کہ ’سکیورٹی امور پاکستان فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس مل کر دیکھے گی جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی سیکریٹریٹ کرے گا۔‘

وفاقی حکومت نے گذشتہ دنوں صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی ہے جس کے بعد اب دہشت گردی کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں خاتمے کے لیے عسکری پہلوؤں پر توجہ کے علاوہ طرز حکمرانی میں بہتری کے ارادے سے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

محمود جان بابر پشاور کے ایک معروف اور سینیئر صحافی ہیں جو قومی اور انٹرنیشنل میڈیا دونوں میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔

محمود کے مطابق نئے نظام کے تحت علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹ میں 12 اضلاع سے منتخب ارکان پر مشتمل ایک خصوصی کونسل قائم کی جا رہی ہے۔

’ان اراکین کو مقامی قبائل اور جرگے ضلع کی آبادی کے تناسب سے خود نامزد کریں گے۔ کہیں سے تین تو کہیں سے چار اراکین نامزد ہوئے ہیں۔

’اس میں قبائلی روایات، جرگہ نظام اور باہمی مشاورت کے تحت ہر ضلعے سے قبائلی عمائدین یا ملک منتخب کیے جائیں گے۔‘

اس فورم کو جسے علاقائی نمائندہ کونسل کا نام دیا گیا ہے، میں شامل کیے جانے والے قبائلی مشران وہ ہوں گے جن کو اپنے قبیلے کی مکمل حمایت حاصل ہو۔

انہوں نے کہنا ہے کہ یہ اراکین اپنے علاقوں میں موجود ہوں گے اور تجویز کرنے کا ادارہ ہوگا۔

’یہ لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا منصوبہ لے کے جائیں؟ وہ کہیں گے یہاں پانی نہیں، یہ پانی کا کہیں گے کہ اتنے ریجن میں پانی کا مسئلہ ہے، سڑکیں اتنی خراب ہیں، سکول اتنے نہیں، ہسپتال اتنے نہیں۔

’اس کے بعد سیکریٹریٹ اسے منصوبے کی شکل دے گا۔‘ یہ کونسل مکمل طور پر غیرسیاسی افراد پر متشمل ہوگی۔

محمود جان نے واضح کیا کہ ان اراکین کے انتخاب میں اس شرط پر کوئی نرمی نہیں دکھائی جائے گی کہ اس شخص کا ماضی میں کسی عسکریت پسند تنظیم سے کوئی تعلق یا رابطہ نہ رہا ہو۔

انتظامی طور پر سیکرٹیریٹ کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوں گے جبکہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس بھی اس کا حصہ ہوں گے۔

سیکرٹیریٹ کی بنیادی ذمہ داری ان اضلاع میں ترقیاتی ترجیحات کا تعین، وفاق سے ملنے والے فنڈز کا استعمال، عوامی مسائل کا حل اور امن و امان کی صورت حال کی نگرانی ہو گا۔

اس نئے نظام میں آٹھ قبائلی اضلاع (باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر) کے ساتھ ساتھ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔

محمود نے بتایا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ان مخصوص اضلاع میں سکیورٹی، پائیدار امن اور ترقیاتی کاموں کے لیے وفاق اور مقامی عمائدین کے مابین ایک مؤثر اور براہِ راست رابطہ کاری کا نظام قائم کرنا ہے۔

سیکورٹی اقدامات کے بارے میں محمود کا کہنا تھا ’ماضی میں یہ علاقے وفاق کے یا صوبے کے زیر انتظام تھے تو اس کے لیے مختص رقوم پشاور میں کسی اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے استعمال کر لیے جاتے تھے۔‘

ان کے نذدیک یہ بڑی وجہ تھی کہ ان علاقوں کے نوجوانوں کی بڑی تعداد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے۔

’وہاں ملازمت کا اتنا انتظام بھی نہیں کہ ایک نوجوان رات کو دو روٹی گھر لے جا سکے۔ ان اضلاع میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کچھ نہیں کر رہی۔

’وہ طالبان کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں جو انہیں چند پیسوں کے علاوہ ہاتھ میں بندوق بھی دے دیتے ہیں جس سے انہیں ایک دبدبہ اختیار بھی مل جاتا ہے۔‘

وزیراعظم کے براہ راست نگرانی میں سیکریٹریٹ چلانے کے لیے گذشتہ اتوار کو وفاقی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے تحت ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے محمد یحییٰ اخونزادہ کو تعینات کیا ہے۔

پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 20 کے افسر اخونزادہ اس سے قبل وزیراعظم کے دفتر میں بطور ایڈیشنل سیکریٹری خدمات انجام دے رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس نئی تعیناتی سے قبل وہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ، خیبر پختونخوا میں سیکریٹری صحت، اطلاعات اور تعلیم، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے کمشنر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

محمود جان نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے اور اگر ’ابھی ہم نے لوگوں کا اعتماد حاصل نہ کیا تو پھر کبھی نہیں۔‘

دہشت گردی کے خلاف ان فرنٹ لائن اضلاع میں پولیس کی ہینڈلنگ پر بھی کئی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

محمود جان کا اصرار تھا کہ اس بارے میں سابق صوبائی حکومت کا اپنا ایک موقف تھا۔

’وہ اس دہشت گردی کے مسئلے کو اپنے طریقے سے حل کرنا چاہ رہے تھے، تو وہ فوج کو فوج کے پاس پولیس کو نہیں جانے دیتے تھے، وہ کہتے تھے کہ پولیس جو ہے وہ ہمارے طریقے پہ چلے گی اور ہم اپنے طریقے سے استعمال کریں گے، تو پولیس ہمیشہ غیریقینی صورت حال کا شکار رہتی تھی۔

’اب جب صوبائی حکومت نہیں رہی تو پولیس کے ہاتھ کھل گئے اور وہ فری ہینڈ کے ساتھ فوج کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

’یہ مقامی آبادی کو ایک کلیئر کٹ میسج ہے کہ اگر آپ کے علاقے میں دہشت گرد نہیں ہوگا تو آپ کے علاقے میں ترقی خود آئے گی لیکن اگر وہ ہوں گے تو پھر وہاں مسئلہ ہوگا۔‘

مشیر اطلاعات نے امید کا اظہار کیا کہ عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ایک غیراعلانیہ پہلو ہے کہ مقامی قبائل اگر خود ہی اپنے (عسکریت پسندی میں ملوث) بندے کو راضی کر کے لے آئیں گے تو اس کے ساتھ کافی رعایت بھی کی جائے گی۔

’دہشت گردی میں جو بھی ملوث تھا، اگر قبیلہ لا کے حوالے کر دے تو اس کو پھر طریقے سے ہینڈل کیا جائے گا، لیکن اگر آپ حکومت کا ساتھ بھی نہیں دے رہے، تو پھر آپ ڈویلپمنٹ کیسے اپنے علاقے میں مانگ سکتے ہیں۔‘

12 اضلاع کے لیے مجوزہ ترقیاتی سیکرٹیریٹ کے مشیر اطلاعات نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران کسی قبائلی کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
ہفتہ, اکتوبر 17, 2026 - 17:30
Main image: 

<p>یکم فروری، 2023 کو&nbsp;پشاور میں پولیس اہلکار ایک سڑک پر پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے مسائل کے حل تک نیا نظام چلے گا: مشیر اطلاعات
Read Entire Article
Chatroom