’خوابوں کی گاڑی‘: لیمبرگینی کی پہلی پلگ اِن ہائبرڈ ایس یو وی

2 hours ago 3

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

میں نے ابھی دنیا کی تیز ترین پروڈکشن ایس یو وی چلائی ہے یا کم از کم اس کی تیار کنندہ لیمبرگینی کا اپنی نئی یورس ’ایس ای‘ کے بارے میں یہی دعویٰ ہے، جو ایک پلگ اِن ہائبرڈ ہے اور اس برانڈ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی گاڑی ہے۔

یہ شان دار ہے اور اگر ایسا کہنا ممکن ہو تو تقریباً ڈھائی لاکھ پاؤنڈ (سوا نو کروڑ پاکستانی روپے) کی قیمت کے باوجود بہترین قدر رکھتی ہے۔ اس کی ایک وجہ ہائبرڈ الیکٹرک بوسٹ ہے، جو آپ کو تقریباً 800 بی ایچ پی طاقت فراہم کرتا ہے اور چار لیٹر ٹوئن ٹربو وی 8 پٹرول انجن کی مدد کرتا ہے۔ یہ پرانی اور نئی ٹیکنالوجی کا انتہائی طاقتور امتزاج ہے۔

اسی وجہ سے یورس ایس ای 194 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے اور 0 سے 60 میل فی گھنٹہ تک صرف 3.4 سیکنڈ میں پہنچ جاتی ہے، یعنی تقریباً اتنے وقت میں جتنا آپ یہ سطور پڑھنے میں لگاتے ہیں۔

لیمبرگینی اپنے جدید ترین یورس ماڈل کو (اب خالص پیٹرول ورژن دستیاب نہیں) اس طبقے میں انتہائی مسابقتی سمجھتی ہے۔ یہ سڑک پر موجود تقریباً ہر چیز کا مقابلہ کر سکتی ہے، جن میں رولز رائس کلینن، فیراری پوروسانگوئے، آڈی آر ایس کیو 8، پورش کاین ٹربو جی ٹی اور بینٹلے بینٹائگا شامل ہیں۔

فیراری پوروسانگوئے اور رولز رائس کلینن کو بارہ سلنڈر (V12) انجن کی اضافی کشش حاصل ہے، جبکہ آڈی، پورش اور بینٹلے کچھ حد تک وی ڈبلیو گروپ کی ٹیکنالوجی یورس کے ساتھ بانٹتے ہیں، اگرچہ اطالوی برانڈ اپنی انجینیئرنگ شناخت کے تحفظ کے معاملے میں انتہائی حساس ہے اور بجا طور پر۔

اگر ان تمام گاڑیوں کے درمیان دوڑ لگائی جائے تو نتیجہ بہت قریب ہوگا اور میرے خیال میں یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب مل کر فزکس کے قوانین کی آخری حدود آزما رہی ہیں۔ حتیٰ کہ مکمل برقی طاقت کی حامل پورش کاین ٹربو الیکٹرک بھی اس سے خاص زیادہ تیز نہیں۔ بنیادی طور پر ان دیوہیکل گاڑیوں کی رفتار اپنی عملی انتہا تک پہنچ چکی ہے۔

لیمبرگینی اگلے سال مزید تیز پرفورمانتے ویریئنٹ متعارف کروانے کا وعدہ کر رہی ہے، جس میں زیادہ کاربن فائبر استعمال کیا جائے گا، جس سے وزن میں کمی آئے گی۔ یہ ایسی چیز ہے جس کا انتظار کیا جا سکتا ہے، اگرچہ اس کی قیمت تین لاکھ پاؤنڈ سے بھی اوپر جانے کا امکان ہے۔

یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کا بحران ابھی ہر طبقے تک نہیں پہنچا۔ کسی نہ کسی وجہ سے راحیم سٹرلنگ کا نام ذہن میں آتا ہے۔

  • خصوصیات
  • لیمبرگینی یورس ایس ای ہائبرڈ
  • قیمت: 250,000 پاؤنڈ (ٹیسٹ شدہ ماڈل، ابتدائی قیمت 208,000 پاؤنڈ سے)
  • انجن: 4 لیٹر پٹرول، وی 8 سلنڈر + 141 کلوواٹ رئیر موٹر، 8 سپیڈ آٹو، آل وہیل ڈرائیو
  • طاقت: 800 پی ایس
  • زیادہ سے زیادہ رفتار: 194 میل فی گھنٹہ
  • 0 سے 60 میل فی گھنٹہ: 3.4 سیکنڈ
  • ایندھن کی بچت: 50 میل فی گیلن (مکمل برقی موڈ میں)
  • کاربن اخراج (WLTP): 51 گرام فی کلومیٹر (مکمل برقی موڈ میں)

لیکن آخر کون ہے جو 100 میل فی گھنٹہ تک پہنچنے کے سیکنڈ گن رہا ہو جبکہ یورس اپنی بے پناہ طاقت اور اب بھی ڈرامائی شکل و صورت کے باوجود ایک زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی شخصیت کی حامل گاڑی ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسرے لفظوں میں بات صرف رفتار کی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈھائی ٹن وزنی لیمبرگینی، شان دار کارکردگی کے باوجود، مکمل برقی موڈ میں صرف 51 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ فی کلومیٹر خارج کرتی ہے، بشرطیکہ اسے اسی موڈ میں چلایا جائے، جو تقریباً 56 کلومیٹر یا 35 میل تک کام کرتا ہے۔

یوں یہ ایک پرسکون، تقریباً بے آواز لگژری گاڑی بن جاتی ہے، جس میں وہ تمام سہولیات موجود ہیں جو اس کا خوش نصیب مالک چاہ سکتا ہے، بشمول اندرونی اور بیرونی حسبِ منشا فنشنگ۔ گویا ایک لیموزین، لیکن اس اضافی فائدے کے ساتھ کہ اس میں بیٹھنا اور اترنا آسان ہے۔

کچھ ہفتے پہلے میں نے اسے اپنے دوستوں جارج اور کیرولائن لونکار کی شادی میں ویڈنگ کار کے طور پر استعمال کیا اور دلہن کے تقریب میں دیر سے پہنچنے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔

زیادہ عام پیٹرول ہائبرڈ موڈ میں یورس ایس ای ایک ٹویوٹا پریئس جتنی نرم مزاج محسوس ہوتی ہے، اگرچہ اس کے حجم کا احساس ہر وقت رہتا ہے۔ ہوابازی کے انداز کے کیبن کنٹرولز میں مختلف ڈرائیونگ موڈز یا ’انیما‘ بھی شامل ہیں:

سٹراڈا (عام سڑک)

کورسا (ریسنگ ٹریک)

سابیا (ریت)

ٹیرا (ہلکا آف روڈ استعمال)

نیوے (برف)

کسی بھی موڈ میں طاقت کی کمی محسوس نہیں ہوتی اور سٹیئرنگ بھی شان دار ہے۔

یورس ایس ای کی ڈرائیونگ کا انداز حالات کے مطابق بدل جاتا ہے۔ یورس نام دراصل اب معدوم ہو چکے اوروکس سے لیا گیا ہے، جو یوریشیا میں پایا جانے والا ایک دیوہیکل جنگلی بیل تھا۔ لیمبرگینی کی روایت ہے کہ اپنی گاڑیوں کے نام لڑاکا بیلوں سے منسوب کرتی ہے۔

پلگ اِن ہائبرڈ کے طور پر یہ عملی بھی ہے اور نسبتاً ماحول دوست بھی، اگرچہ ہائبرڈ نظام کی وجہ سے ڈگی کی گنجائش کچھ کم ہو گئی ہے، لیکن جیسے ہی آپ سٹیئرنگ پر موجود بوسٹ بٹن دباتے ہیں، یہ ایک مشتعل بیل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

موڑ کاٹتے ہوئے اور رفتار بڑھاتے ہوئے آپ کو اس کے بھاری بھرکم وجود کا احساس ضرور ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی اس کے بہترین بریکس اور استحکام برقرار رکھنے والے نظام بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں، جو مسافروں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ محظوظ بھی کرتے ہیں۔

اس کی جسامت اور منفرد انداز کی عادت جلد پڑ جاتی ہے، خاص طور پر نئے ’وایولا‘ رنگ میں۔ مجھے کبھی بھی اس کی صلاحیتوں پر شک نہیں ہوا۔

ایک حد سے زیادہ بڑے ہو چکے سکول کے لڑکے کی طرح مجھے یورس کی گرج دار آواز بے حد پسند ہے۔ ہر کسی کو پسند ہے، لیکن ہم جیسے بچوں کو شاید زیادہ۔ اس کا وی 8 انجن ایک سمفنی کی مانند آواز پیدا کرتا ہے، جسے آپ اپنی پسند اور موقع کی مناسبت سے زیادہ تر ایکسیلیریٹر کے ذریعے زیادہ باس یا زیادہ بلند سروں میں ڈھال سکتے ہیں۔

میرے خیال میں یہ روایتی معنوں میں حسین گاڑی نہیں، لیکن اس کی مضبوط اور جارحانہ لائنز اسے اپنے حریفوں کے مقابلے میں زیادہ پرکشش بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر بینٹائگا، کلینن یا کاین نسبتاً محتاط ڈیزائن رکھتے ہیں۔ کاین اب پہلے جتنی بدصورت تو نہیں رہی، لیکن اب بھی کچھ حد تک پھولی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

نئی ہائبرڈ پاور ٹرین کے ساتھ یورس کے اگلے اور پچھلے حصے کی ڈیزائننگ میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، اگرچہ بہت کم لوگ اسے محسوس کریں گے۔ میرے خیال میں کمپنی کو موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گاڑی کے ’چہرے‘ کو زیادہ کردار دینا چاہیے تھا، بجائے اس فیشن کے جس میں تقریباً ہر نئی گاڑی غصے اور جارحیت کا تاثر دیتی ہے۔

موجودہ صورت میں یہ ایسی گاڑی لگتی ہے جیسے کوئی اس میں گرِل لگانا بھول گیا ہو۔

دوسری جانب شاید یہی انفرادیت اسے منفرد بناتی ہے کیونکہ بہت کم گاڑیاں اپنے ڈرائیور کے مزاج کے مطابق خود کو اتنی آسانی سے ڈھال سکتی ہیں۔

قیمت کا ایک ایک پیسہ وصول۔ واقعی، کوئی مبالغہ نہیں۔

لگژری سپورٹس کار بنانے والے برانڈ کی پہلی پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی اتنی متاثر کن ہے کہ اس کی بھاری قیمت بھی جائز محسوس ہوتی ہے۔
بدھ, اکتوبر 21, 2026 - 08:00
Main image: 

<p class="rteright">یورس ایس ای 194 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے اور 0 سے 60 میل فی گھنٹہ تک صرف 3.4 سیکنڈ میں پہنچ جاتی ہے (لیمبرگینی ویب سائٹ)</p>

type: 
SEO Title: 
’خوابوں کی گاڑی‘: لیمبرگینی کی پہلی پلگ اِن ہائبرڈ ایس یو وی
origin url: 
https://www.independent.co.uk/life-style/motoring/lamborghini-urus-hybrid-car-review-b3060394.html
Read Entire Article
Chatroom