حنا جاوید قتل کیس: اہل خانہ کا پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان

2 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں واقع اپنے اپارٹمنٹ کے باتھ روم میں مردہ پائی گئیں حنا جاوید کے اہل خانہ نے سپیشل کمیٹی کی تحقیقات اور پولیس کے نتائج پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل خانہ نے پولیس کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دی ہے جس میں خاتون کے شوہر کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے کا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے قتل کا ذمہ دار ایک گھریلو ملازم کو قرار دیا گیا تھا۔

دو ماہ قبل 20 اگست کی صبح حنا جاوید کی لاش ان کے گھر کے واش روم سے برآمد ہوئی تھی، ان کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے جبکہ منہ پر کپڑا اور گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جس کو شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔

ہفتے کو حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فیصل اور امام نامی افراد کے ڈی این اے کے شواہد کو نظر انداز کر رہی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

فہد کا کہنا تھا ان کی ’بہن کو 19 اگست کی رات انتہائی بے رحمی سے قتل کیا گیا۔‘

حنا جاوید کے بھائی نے کہا کہ انہوں نے اپنی بہن کو خود قبر میں اتارا اور اس دوران جو مناظر دیکھے، وہ انہیں پوری زندگی اذیت دیتے رہیں گے۔

فہد نے الزام عائد کیا کہ قتل کو چوری کا رنگ دیا گیا اور چوری کا ڈراما رچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اب تک سپیشل کمیٹی کی تحقیقات اور پولیس کے نتائج سے مطمئن نہیں اور اپنی بہن کے قتل کی جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں۔

فہد جاوید نے وزیراعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور آرمی چیف سے اپیل کی اور حنا جاوید کو ’انصاف دلانے اور جوڈیشل انکوائری کمیشن بنا کر اصل حقائق‘ سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب حنا جاوید کے قتل کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے مقدمے میں نامزد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر کو بے گناہ قرار دیا ہے جبکہ مقدمے میں گرفتار دوسرے ملزم اور خاتون کے گھریلو ملازم ذیشان کو مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس قتل کی تحقیقات کرنے والے پولیس کے تفتیشی ادارے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حنا جاوید کے خاوند بےگناہ ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ’تفتیشی ٹیم نے اس مقدمے سے متعلق تمام شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کی ہے۔

 تفتیش کے دوران پولیس کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد اور ڈی این اے رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے اس واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کی گئی جبکہ ملزمان سے بھی متعدد بار راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جاکر کئی گھنٹے تفتیش کی گئی۔‘

ڈی این اے شواہد

تحقیقات کے دوران حنا جاوید کے جسم سے لیے گئے نمونوں اور اپارٹمنٹ سے برآمد ہونے والی اشیا سمیت 15 مقامات یا اشیا پر ذیشان ارشد کا ڈی این اے پایا گیا۔

بیڈ روم کے دروازے کے تالے کے بعض حصوں پر فیصل اصغر امام کا ڈی این اے بھی ملا، تاہم تفتیش کاروں کے مطابق یہ پہلے کسی وقت تالے کو چھونے کے باعث موجود ہو سکتا ہے اور اس سے قتل میں ان کی شمولیت ثابت نہیں ہوتی۔

اہل خانہ نے پولیس کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دی ہے جس میں خاتون کے شوہر کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے کا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے قتل کا ذمہ دار ایک گھریلو ملازم کو قرار دیا گیا تھا۔
ہفتہ, اکتوبر 17, 2026 - 19:30
Main image: 

<p class="rteright">حنا جاوید نے نومبر 2025 میں ریٹائرڈ کرنل اصغر علی فیاض کے بیٹے فیصل اصغر سے شادی کی تھی (انسٹاگرام، حنا جاوید)</p>

type: 
SEO Title: 
حنا جاوید قتل کیس: اہل خانہ کا پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان
Read Entire Article
Chatroom