یورپ کے مختلف ممالک میں جمعرات کو متعدد مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد فضائی سفر متاثر ہوا اور کئی پروازوں کا رخ موڑنا پڑا جبکہ بعض طیاروں نے ہنگامی لینڈنگ کی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پانچ نومبر کو ایک ہی ہفتے میں دوسری مرتبہ یورپی فضائی کمپنیوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں جن کے بعد فرانس، بلغاریہ، اٹلی، چیک ریپبلک اور دیگر ممالک میں سکیورٹی اقدامات کیے گئے۔
تاہم اب تک کسی طیارے سے دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
اس سے قبل منگل کو بھی یورپ میں کم از کم سات مسافر پروازوں اور ایک کروز جہاز کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں تاہم کسی جگہ سے دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
فرانس اور بلغاریہ میں ہنگامی لینڈنگ
آئرلینڈ کی فضائی کمپنی ایئر لنگس کی ڈبلن سے روم جانے والی پرواز EI402 کو بم کی دھمکی کے بعد فرانس کی جانب موڑ دیا گیا جہاں طیارہ پیرس سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ایوریو ہوائی اڈے پر بحفاظت اتر گیا۔
فرانسیسی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق طیارے میں 151 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے جنہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا جبکہ بم ڈسپوزل ٹیموں نے طیارے کی جانچ شروع کی۔
دوسری جانب بلغاریہ میں بھی بم کی دھمکیوں کے باعث تین ریان ایئر طیاروں نے ہنگامی لینڈنگ کی۔
حکام کے مطابق کوپن ہیگن اور میڈرڈ سے آنے والے دو طیارے صوفیہ جبکہ لندن سے آنے والا طیارہ پلوودیو میں اترا۔
بلغاریہ کی وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ تینوں طیاروں کی تلاشی کے دوران کوئی مشکوک چیز نہیں ملی اور ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمدورفت معمول پر آ گئی۔
اٹلی، چیک ریپبلک اور پولینڈ میں بھی دھمکیاں
اٹلی میں فن ایئر کی ہیلسنکی سے روم جانے والی پرواز کو بم کی دھمکی کے بعد اطالوی فضائیہ کے طیاروں کی نگرانی میں بحفاظت اتارا گیا۔
روم کے فیومیچینو ہوائی اڈے کی انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی جانچ میں کوئی خطرہ سامنے نہیں آیا۔
اسی طرح یونان کی ایجیئن ایئرلائنز اور ریان ایئر کی دو پروازیں بھی بم کی دھمکیوں کے بعد میلان کے مالپینسا ہوائی اڈے پر بحفاظت اتریں۔
چیک ریپبلک کی پولیس کے مطابق پراگ آنے والے چار طیاروں کو بھی بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں تاہم ابتدائی جائزے میں ان کے درست ہونے کا امکان کم قرار دیا گیا۔
پولینڈ کی فضائی کمپنی ایل او ٹی کی وارسا سے برسلز جانے والی پرواز سکیورٹی وارننگ کے بعد بحفاظت اتر گئی جبکہ پیرس جانے والی ایک اور پرواز کے مسافروں کو احتیاطاً دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا۔
رومانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی نے بھی میلان سے بخارسٹ جانے والی وِز ایئر کی پرواز کو موصول ہونے والی بم کی دھمکی کی تصدیق نہیں کی۔
ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ دھمکیاں
روئٹرز کے مطابق اس سے قبل منگل کو بھی یورپ میں کم از کم سات مسافر پروازوں اور ایک کروز جہاز کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں تاہم کسی جگہ سے دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
جمعرات کو میڈرڈ ہوائی اڈے پر بھی تین پروازیں بم کی جھوٹی دھمکیوں سے متاثر ہوئیں تاہم ہسپانوی حکام نے کسی خطرے کی موجودگی کو مسترد کر دیا۔
دھمکیوں کے پیچھے کون ہے؟
روئٹرز کے مطابق اب تک کسی ملک نے ان دھمکیوں کی ذمہ داری کسی مخصوص گروہ یا ملک پر عائد نہیں کی۔
یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب یورپی حکام روس اور ایران پر مبینہ ’ہائبرڈ حملوں‘ اور تخریب کاری کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں تاہم دونوں ممالک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دی انڈپینڈنٹ کے مطابق یورپ میں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیوں کا سلسلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسی ہفتے سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن نظام اور بلڈ بینک بھی سائبر حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہی ہفتے میں بم کی جھوٹی دھمکیوں کے باعث پروازوں کی ہنگامی لینڈنگ اور سائبر حملوں کے واقعات نے اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) کے ممکنہ خطرات سے متعلق سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
تاہم ان واقعات کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ہوابازی کے شعبے میں سائبر سکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنی سائوی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ایلیران الموگ کے مطابق بار بار بم کی دھمکیاں دینے کا مقصد فضائی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کے ساتھ یہ جانچنا بھی ہو سکتا ہے کہ فضائی کمپنیاں اور متعلقہ حکام ان پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
<p class="rteright">بم کی دھمکی کے بعد 5 نومبر 2026 کو ڈبلن سے روم جانے والی پرواز کا رخ فرانس کی جانب موڑے جانے پر ایئر لنگس کا ایئربس اے 320 طیارہ ایوریو کے فوجی ہوائی اڈے پر موجود ہے (روئٹرز)</p>
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·