ہندو وفد کے دورے پر خواتین عملہ ہٹانے کا تنازع، ایفل ٹاور کے سربراہ مستعفی

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ایفل ٹاور کا انتظام چلانے والی کمپنی کے سربراہ پیٹرک برانکو روئیوو  سال کے آخر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ یہ فیصلہ ہندو مذہبی گروپ کے دورے کے دوران خواتین ملازمین کو ہٹانے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایفل ٹاور کی آپریٹنگ سوسائٹی (Societe d’Exploitation de la Tour Eiffel) یا ایس ای ٹی ای کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرک برانکو روئیوو نے، جو 2018 سے اس عہدے پر ہیں، منگل کو اپنے عہدے سے استعفے کا اعلان کیا۔

ایس ای ٹی ای نے کہا کہ داخلی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس دورے کی منصوبہ بندی میں ’آپریشنل خامیاں اور کوتاہیاں‘ موجود تھیں، جس کے نتیجے میں خواتین عملے کو ہٹا دیا گیا۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ہندو مذہبی فرقے ’بوچاسانواسی اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا‘ جسے عام طور پر ’بی اے پی ایس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے ایک وفد نے ستمبر کے آغاز میں یادگار کا دورہ کیا۔ بی اے پی ایس کے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

تقریباً 100 افراد پر مشتمل یہ وفد پیرس کے قریب بی اے پی ایس کے پہلے مندر کے افتتاح کی تقریبات میں شرکت کے لیے فرانس میں موجود تھا۔

بعد ازاں خواتین ملازمین نے بتایا کہ انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وفد کی موجودگی کے دوران یادگار کے بعض حصوں سے دور رہیں۔ کچھ خواتین کو ان کی ڈیوٹی کی جگہوں سے ہٹا کر ان کی جگہ مرد ساتھیوں کو تعینات کر دیا گیا۔

ایفل ٹاور کے عملے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان ہدایات کے نتیجے میں دورے کے دوران ’خواتین ملازمین کو ان کی جنس کی بنیاد پر الگ کر دیا گیا، ان کی جگہ دوسرے ملازمین کو تعینات کیا گیا اور انہیں نظروں سے اوجھل کر دیا گیا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’کچھ سے کہا گیا کہ وہ اپنی ڈیوٹی کی جگہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں چلی جائیں۔ بعض مقامات پر ان کی جگہ مردوں کو تعینات کیا گیا اور تمام خواتین ملازمین کو ہدایت کی گئی کہ جب تک وفد موجود رہے، وہ مخصوص علاقوں سے نہ گزریں اور نہ ہی انہیں عبور کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایس ای ٹی ای نے بعد میں تسلیم کیا کہ وفد نے ’خواتین کے ساتھ میل جول‘ محدود کرنے کی درخواست کی تھی۔

تاہم کمپنی نے کہا کہ ’ان شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘

اس واقعے کے نتیجے میں ایفل ٹاور کے عملے نے 7 ستمبر کو ایک روزہ ہڑتال کی، جس کے باعث یادگار بند رہی۔

اس واقعے کی فرانس کی سیاسی شخصیات کی جانب سے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔ پیرس کے میئر ایمانوئل گریگوئر نے خواتین ملازمین کو ہٹانے کے فیصلے کو ’احمقانہ، ناانصافی پر مبنی اور ناقابل قبول فیصلہ‘ قرار دیا اور دو تحقیقات کا حکم دیا۔

انہوں نے کہا: ’یہ قابل قبول نہیں کہ ایسی شرائط کو برداشت کیا جائے۔ یہ نہ تو میری اقدار ہیں اور نہ ہی وہ اقدار جن کی ایفل ٹاور کو نمائندگی کرنی چاہیے، جہاں ہر شخص، جنس سے قطع نظر، مردوں اور خواتین کے درمیان کسی امتیاز کے بغیر آزادانہ طور پر گھوم پھر سکے اور کام کر سکے۔‘

اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی صفِ اول کی امیدوار میرین لے پین نے کہا کہ ’فرانس میں ہم کبھی بھی خواتین کی موجودگی کو محدود کیے جانے کو قبول نہیں کریں گے۔‘

En France, nous n’accepterons jamais que la présence des femmes soit « limitée ».

Toute la lumière doit été faite sur ce qui s’est passé lors de cette visite de la Tour Eiffel. https://t.co/rxdGKHjhfQ

— Marine Le Pen (@MLP_officiel) September 7, 2026

قومی اسمبلی کی صدر یائل براؤن پیویے نے بھی اس اقدام پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا: ’میں خواتین کو غیر ملکی مہمانوں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ایک طرف ہٹنے پر مجبور کیے جانے کی اجازت نہیں دوں گی۔‘

دوسری جانب بی اے پی ایس نے ’اس واقعے سے ہونے والی کسی بھی تکلیف یا زحمت‘ پر معذرت کی اور کہا کہ وہ ’باہمی احترام اور خدمت کی عالمگیر اقدار‘ پر یقین رکھتا ہے۔ یہ گروپ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں مندر چلاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بی اے پی ایس نے ’خواتین کے ساتھ میل جول‘ محدود کرنے کی درخواست اس لیے کی تھی کیونکہ وفد میں کئی سادھو شامل تھے، جن میں گروپ کے 93 سالہ روحانی رہنما مہنت سوامی مہاراج بھی شامل تھے، جن کے مذہبی عہد میں خواتین سے رابطہ کرنے کی ممانعت ہے۔

دریں اثنا، پیرس سینٹر کے میئر اور ایس ای ٹی ای کے چیئرمین ایریل وائل نے کہا کہ انہوں نے کمپنی میں ’مخصوص پروٹوکول شعبہ‘ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ صنفی مساوات کے فروغ کے لیے نئے اقدامات اور تربیتی پروگرام شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔

ایریل وائل نے کہا: ’آنے والے مہینے ہمیں بہترین ممکنہ حالات میں قیادت کی منتقلی کی تیاری کا موقع دیں گے۔‘

ایفل ٹاور پیرس شہر کی ملکیت ہے اور ہر سال تقریباً 70 لاکھ سیاح اس کا دورہ کرتے ہیں۔

پیٹرک برانکو روئیوو اس سے قبل پیرس کی سابق میئر این ایدالگو کے مشیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ وہ نومبر 2018 میں ایس ای ٹی ای کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے تھے اور 2026 کے آخر تک اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ایک ہندو مذہبی فرقے کے وفد کے دورے کے دوران خواتین ملازمین کو ان کی جنس کی بنیاد پر الگ کر دیا گیا، ان کی جگہ دوسرے ملازمین کو تعینات کیا گیا اور انہیں نظروں سے اوجھل کر دیا گیا۔
بدھ, ستمبر 30, 2026 - 11:45
Main image: 

<p class="rteright">بوچاسانواسی اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا (بی اے پی ایس) کے ہندو سادھو 3 ستمبر 2026 کو پیرس میں دریائے سین پر ہونے والی رسمی کشتیوں کی پریڈ سے قبل ایفل ٹاور کے سامنے مذہبی تقریب میں شریک ہیں&nbsp;(کینزو ٹریبوئیار / اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
ہندو وفد کے دورے پر خواتین عملے کو ہٹانے کا تنازع، ایفل ٹاور کے سربراہ مستعفی
origin url: 
https://www.independent.co.uk/news/world/europe/eiffel-tower-chief-resign-female-staff-paris-b3058684.html
Read Entire Article
Chatroom