گھر سے 80 کلومیٹر دور واقع سکول کی خاتون استاد کی مشکلات

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان میں تعلیمی شعبے کو سنگین مسائل درپیش ہیں۔ کہیں بچے چھت گرنے تو کہیں ٹرانسپورٹ کے حادثات میں جان کھو بیٹھتے ہیں۔ ان واقعات کی ذمہ داری کا تعین اپنی جگہ لیکن یہ سانحات ایک بنیادی سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ کیا ایسا مؤثر نظام موجود نہیں ہونا چاہیے جو حادثے سے پہلے حرکت میں آئے؟

مسائل تو بہت ہیں لیکن ایک بڑا مسئلہ خواتین اساتذہ کی دور دراز تعیناتی اور غیر محفوظ سفر کا بھی ہے۔

گھر سے سینکڑوں کلومیٹر دور تعیناتی، روزانہ کئی گھنٹوں کا سفر، تنخواہ کا بڑا حصہ سفری اخراجات کی نذر اور حادثات، ہراسمنٹ کا مستقل خوف، کیا خواتین اساتذہ کے لیے باعزت اور محفوظ سفری سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟

صبح کی اذان کے ساتھ ایک خاتون استاد کی دن بھر کی مشقت شروع ہو جاتی ہے۔ ابھی شہر کی سڑکوں پر معمولاتِ زندگی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئے ہوتے کہ وہ اپنے گھر سے نکل چکی ہوتی ہے۔ کبھی شدید سردی، کبھی جھلسا دینے والی گرمی اور کبھی دھند میں لپٹی سڑکیں، اسے ہر حال میں وقت پر سکول پہنچنا ہے۔

دشوار سفر کرنے کے بعد جب وہ کلاس روم میں داخل ہوتی ہے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پوری توجہ، تازہ دم ذہن اور بھرپور توانائی کے ساتھ بچوں کو تعلیم دے، ان کی تربیت کرے۔

یہ کسی ایک خاتون استاد کی کہانی نہیں۔ پنجاب میں سرکاری سکولوں کی متعدد خواتین اساتذہ کے لیے یہ روزمرہ زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے، جسے تعلیمی پالیسیوں، تبادلوں کے نظام اور سرکاری دعوؤں میں وہ اہمیت نہیں مل سکی جس کی یہ متقاضی ہے۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ٹیچر کی کہانی، ایک بڑے مسئلے کی تصویر کشی کرتی ہے۔ اس سکول ٹیچر جن کی تعلیم ایم فل ہے اور 2015 سے بطور سائنس ٹیچر پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں خدمات انجام دے رہی ہیں، گذشتہ چھ برس سے اپنے گھر اور سکول کے درمیان طویل فاصلے کی مشقت برداشت کر رہی ہیں۔

ان کے سکول کا یکطرفہ فاصلہ تقریباً 80 کلومیٹر ہے، جس کے باعث انہیں روزانہ تقریباً 160 کلومیٹر آمدورفت اور چھ گھنٹے تک سفر میں گزارنے پڑتے ہیں۔

ان کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 80 ہزار روپے ہے، جس میں سے 40 ہزار روپے سفری اخراجات پر صرف ہو جاتے ہیں۔ یوں ان مشکلات کو جھیل کر ان کی تنخواہ کا جو حصہ بچتا ہے وہ محض 40،000 روپے ہے۔ آج کل کے حالات میں یہ رقم آپ کو کتنا سپورٹ کرتی ہے، اس کا اندازہ لگانا کسی کے لیے مشکل نہیں۔

یہ محض آمدورفت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی معاشی، جسمانی اور ذہنی مشقت ہے جو کسی بھی سرکاری ملازم کی کارکردگی اور ذاتی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے سکول کے روٹ پر ماضی میں کئی حادثات پیش آ چکے ہیں جبکہ اگست 2024 میں ان ہی کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے میں تین خواتین اساتذہ شدید زخمی ہوئیں۔

جب سکول کا سفر جان لیوا خطرہ بن جائے

اس ٹیچر کے سکول کا روٹ چک بیلی روڈ سے گزرتا ہے جہاں اگست 2021 میں ایک حادثے میں پانچ افراد جان سے گئے، جن میں تین خواتین ٹیچرز اور ایک ٹیچر کا تین سالہ بچہ بھی شامل تھا۔ ذرا سوچیے! اس ماں پر روزانہ کیا بیتتی ہوگی، جس کا یہ روزانہ کا سفر اس کا آخری ثابت ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 خواتین اساتذہ کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف بچوں کو تعلیم دیتی ہیں بلکہ ان کی ذہن سازی، سماجی رویوں، اخلاقی تربیت اور مستقبل سنوارنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

پنجاب سکول ایجوکیشن کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے کے سرکاری سکولوں میں تقریباً 1 لاکھ 81 ہزار خواتین اساتذہ خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ یہ تعداد واضح کرتی ہے کہ خواتین اساتذہ صوبے کے سرکاری تعلیمی نظام کا ایک بنیادی ستون ہیں۔ ان کی مشکلات کو چند انفرادی شکایات قرار دے کر نظرانداز کرنا درست نہیں۔

تاہم، یہ اعدادوشمار خود اس بات کا تعین نہیں کرتے کہ ان میں سے کتنی خواتین روزانہ طویل فاصلہ طے کر کے اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں جاتی ہیں، مگر یہ بات پورے وثوق سے کی جا سکتی ہے کہ یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔

اس مسئلے کا ایک اہم پہلو دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں سکولوں کی ضروریات بھی ہیں۔ وہاں بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے اساتذہ کی موجودگی ناگزیر ہے، لیکن اگر ان سکولوں میں تعینات اساتذہ کے لیے محفوظ اور کم خرچ آمدورفت کا انتظام نہ ہو، تو یہ صورت حال بالآخر اساتذہ اور طلبہ، دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

آن لائن ٹرانسفر: سہولت یا مسلسل انتظار؟

پنجاب میں اساتذہ کے تبادلوں کے لیے آن لائن نظام موجود ہے۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ٹرانسفر پالیسی میں میرٹ، خالی آسامیوں اور مقررہ معیار کے مطابق تبادلوں کا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

پالیسی میں بعض مخصوص حالات میں ہمدردانہ بنیادوں پر تبادلوں کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، لیکن عملی طور پر دور دراز تعیناتی کی مشکلات کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ ان کی درخواستوں کو کس حد تک ترجیح ملتی ہے اور ان کی مشکلات کے حل کے لیے کیا متبادل موجود ہیں؟

اگر کسی ٹیچر کا گھر سے سکول کا فاصلہ 60، 70 یا 80 کلومیٹر ہو اور اس کے قریبی علاقے میں متعلقہ کیڈر کی کوئی خالی آسامی موجود نہ ہو، تو محض یہ جواب کہ قریبی سکول میں جگہ دستیاب نہیں، اس مسئلے کا حل نہیں۔

یہ بات درست ہے کہ ہر استاد کے لیے ان کے پسند کی پوسٹنگ ممکن نہیں۔ سکولوں میں خالی آسامیوں اور انتظامی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، لیکن ان تمام تقاضوں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ کیا ایک ایسا نظام تشکیل نہیں دیا جا سکتا جو دور دراز تعیناتی کے حوالے سے درپیش مشکلات کو بھی مدنظر رکھے؟

اگر تبادلوں کی درخواستیں ہر سال موصول ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ یہ معلومات بھی مرتب کی جانی چاہییں کہ کتنے اساتذہ روزانہ کتنے کلومیٹر سفر کرتے ہیں، ان کے سفری اخراجات ان کی تنخواہ کا کتنے فیصد ہیں اور کن علاقوں میں خواتین اساتذہ کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

 روٹیشن پالیسی؟

اس مسئلے کا ایک حل شفاف اور مرحلہ وار روٹیشن پالیسی ہو سکتی ہے۔ ایسی پالیسی کے تحت دور دراز علاقوں میں تعینات اساتذہ کو غیر معینہ مدت تک ایک ہی جگہ پوسٹنگ پر مجبور نہ رہنا پڑے بلکہ انہیں مقررہ معیار کے مطابق قریب تر تعیناتی کے لیے موقع مل سکے۔

سفری الاؤنس؟

اگر کسی استاد کو اپنے گھر کے قریب تعیناتی کی وجہ سے معمولی فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسرے استاد کو روزانہ کئی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے، تو دونوں کے سفری اخراجات یکساں نہیں ہو سکتے۔ اس کے باوجود اگر دونوں کو ایک جیسا کنوینس الاؤنس محض 5000 روہے ملتا ہے تو یہ بھی اس نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

یہاں مقصد ایک منصفانہ نظام کی تجویز دینا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کے سفر، آمدورفت کے دستیاب ذرائع اور اس مد میں ہونے والے اخراجات کا جائزہ لے کر دور دراز تعیناتی کے لیے الگ سفری سہولت یا الاؤنس کا میکنزم تیار کرے، خصوصاً ان خواتین اساتذہ کے لیے، جنہیں ایسے علاقوں میں جانا پڑتا ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ محدود ہے اور سپیشل گاڑی لے کر جانا مجبوری بن جاتا ہے، مشترکہ سرکاری ٹرانسپورٹ ایک مؤثر متبادل ہو سکتا ہے۔

اگر ایک مخصوص روٹ پر متعدد خواتین اساتذہ روزانہ سفر کرتی ہیں تو ان کے لیے مقررہ اوقات میں ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

محفوظ سفر، بہتر تعلیم

جب کسی خاتون کو منہ اندھیرے گھر سے نکلنا پڑے، طویل سفر کے دوران ہراسمنٹ کا خدشہ ہو، گاڑی بھی سفر کے لیے موزوں نہ ہو اور واپسی پر بھی گھنٹوں کا سفر کرنا پڑے، تو اس کے اثرات صرف اس کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہتے۔ مسلسل تھکن اور ذہنی دباؤ اس کی روزمرہ زندگی اور کام کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

اگر کسی استاد کا آدھا دن سفر میں گزر جائے، اس کی تنخواہ کا بڑا حصہ آمدورفت پر خرچ ہو اور اسے اپنی سکیورٹی اور مالی معاملات کے بارے میں مسلسل خدشات لاحق رہیں، تو اس کی مشکلات کو محض ملازمت کا معمول کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

خواتین اساتذہ کی دور دراز تعیناتی کو انفرادی مسئلہ سمجھنے کی بجائے اسے تعلیمی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ حکومت اگر واقعی پڑھا لکھا پنجاب چاہتی ہے تو اسے پڑھانے والوں کی آواز بھی سننا ہوگی۔

راولپنڈی کی ایک خاتون استاد کو روزانہ تقریباً چھ گھنٹوں میں 160 کلومیٹر آمدورفت کرنی پڑتی ہے۔ ان کی 80 ہزار روپے کی ماہانہ تنخواہ میں سے 40 ہزار روپے صرف سفر پر ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026 - 08:45
Main image: 

<p class="rteright">سات مئی 2008 کی اس تصویر میں لاہور میں خواتین اساتذہ تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کرتے ہوئے (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
گھر سے 80 کلومیٹر دور واقع سکول کی خاتون استاد کی مشکلات
Read Entire Article
Chatroom