گوگل ارتھ نے اپنی سیٹلائٹ تصاویر اپ ڈیٹ کی ہیں، جن میں غزہ میں ہونے والی تباہی کا بڑا حصہ نمایاں ہے اور پٹی کے بڑے حصے ملبے کا ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں 141 مربع میل پر محیط اس علاقے میں زیادہ تر رہائشی مکانات، ہسپتال، سکول اور دیگر عمارتیں متاثر یا تباہ ہوچکی ہیں۔ غزہ کو دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
نیتن یاہو کی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں، آزاد تفتیش کاروں اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔
دی انڈپینڈنٹ کے صحافی بیل ٹریو نے گذشتہ سال جنگ سے متاثرہ علاقے کا فضائی جائزہ لیا اور وہاں کبھی رونق رکھنے والے شہروں کے ’جھلسے ہوئے کھنڈرات‘ دیکھے، جو ان کے بقول غزہ کو ’راکھ اور تباہی‘ میں تبدیل کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے جیسے دیو قامت مخلوقات یہاں موجود ہر چیز کو روند گئی ہوں۔ دیوہیکل دانتوں نے ان چند عمارتوں کے بھی ٹکڑے نوچ ڈالے ہیں جو اب بھی زمین پر کھڑی ہیں، جبکہ باقی سب کچھ قدموں تلے کچلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔‘
ڈبلن سے یورپی پارلیمنٹ کے رکن بیری اینڈروز نے لکھا کہ ’غزہ کی گوگل سیٹلائٹ تصاویر میں ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹ واقعی حیران کن ہے، اور اب یہ سب کے سامنے ہے۔‘
یہ واضح نہیں کہ تصاویر کب اپ ڈیٹ کی گئیں۔ دی انڈپینڈنٹ نے گوگل سے اس حوالے سے مؤقف طلب کیا ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا تھا کہ بین الاقوامی تفتیش کاروں کو غزہ کے تمام علاقوں تک رسائی دی جائے تاکہ مبینہ خلاف ورزیوں کے شواہد اکٹھے اور ان کی دستاویز بندی کی جاسکے، جبکہ ملبے کے نیچے سے انسانی باقیات ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اس سے قبل بھی سیٹلائٹ تصاویر غزہ میں تباہی کے پیمانے کو ظاہر کرتی رہی ہیں، تاہم نئی تصاویر خطے میں ہونے والی تباہی کا تازہ ترین منظر پیش کرتی ہیں۔
گذشتہ ہفتے جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کام کرنے کی عمر کے 90 فیصد فلسطینی بے روزگار ہیں جبکہ سالانہ فی کس جی ڈی پی کم ہو کر 212 ڈالر رہ گئی ہے، یعنی تقریباً 58 سینٹ یومیہ۔
فلسطینیوں کے لیے قابلِ کاشت زمین کا صرف 1.5 فیصد حصہ قابلِ رسائی رہ گیا ہے جبکہ زرعی اور صنعتی سرگرمیوں میں 94 فیصد کمی آئی ہے۔
اس سال کے آغاز میں ریڈ کراس نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا تھا کہ پورے غزہ میں ملبہ ہٹانے کے لیے صرف ایک مکمل طور پر فعال کھدائی کرنے والی مشین موجود ہے۔ خدشہ ہے کہ ملبے کے نیچے ہزاروں افراد دفن ہیں۔
غزہ کی فرانزک شواہد ٹیم نے رواں سال کے آغاز میں دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ کی سہولت نہ ہونے کے باعث سیکڑوں لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔
ملبے کے نیچے سے کم از کم 1,129 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، تاہم ان کی شناخت نہیں ہوسکی۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تقریباً 6 کروڑ ٹن ملبہ پھیلا ہوا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملبہ صاف کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، تاہم مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تو یہ کام سات سال میں بھی مکمل کیا جاسکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق غزہ کے 90 فیصد ہسپتال متاثر یا تباہ ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر (UNOSAT) کے مطابق تقریباً 82 فیصد عمارتیں اور 90 فیصد سے زیادہ رہائشی یونٹس متاثر یا تباہ ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب تقریباً پوری آبادی بے گھر ہے اور بعض افراد منہدم عمارتوں کے باقی ماندہ حصوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں ایک عمارت منہدم ہونے سے کم از کم 21 افراد جان سے گئے جو وہاں پناہ لیے ہوئے فلسطینی خاندانوں میں شامل تھے۔ مرنے والوں میں آٹھ بچے بھی شامل تھے۔
سی بی سی نیوز کی ایک تحقیقات میں سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض مقامات پر اسرائیل کی جانب سے غزہ کا ملبہ دبانے اور ہٹانے کے شواہد دکھائی دیتے ہیں۔ اس ملبے میں انسانی باقیات اور مبینہ جنگی جرائم سے متعلق ممکنہ شواہد موجود ہوسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے ملبہ صاف کرنے سے مبینہ جرائم کے شواہد مٹ سکتے ہیں۔
رواں سال کے آغاز میں جینیوا میں قائم یورو میڈ مانیٹر نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ تین بھائیوں کی باقیات، جنہیں مبینہ طور پر ہسپتال کی جانب رینگتے ہوئے اسرائیلی سنائپرز نے قتل کیا تھا، اسرائیلی بلڈوزروں کے ذریعے صاف کیے گئے ملبے میں شامل تھیں۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے کہا: ’غزہ میں ملبے کو مسلسل ہٹانے، کچلنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے عمل سے بین الاقوامی جرائم کے شواہد ضائع نہیں ہونے چاہئیں اور نہ ہی محصور علاقے میں انسانی باقیات کی تلاش اور شناخت میں رکاوٹ پیدا ہونی چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات انتہائی اہم ہیں کیونکہ غزہ کے ملبے میں انسانی باقیات اور ایسے جسمانی شواہد موجود ہیں جو نسل کشی سمیت مبینہ بین الاقوامی جرائم کی تحقیقات سے متعلق ہوسکتے ہیں۔
اسرائیل جنگی جرائم کے ارتکاب کی تردید کرتا ہے اور نسل کشی کے الزامات کو ’یہود مخالف‘ قرار دیتا ہے۔
<p>گوگل ارتھ نے سیٹلائٹ تصاویر اپ ڈیٹ کی ہیں جن میں غزہ میں ہونے والی تباہی کو دیکھا جا سکتا ہے (گوگل گرتھ)</p>
.png)
6 hours ago
3




English (US) ·