جاپان میں ہفتے کو 16 روزہ ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب کے ساتھ کھیلوں کے سب سے بڑے ایشیائی میلے کا باضابطہ آغاز ہوگیا، تاہم باسکٹ بال، فٹبال سمیت کئی مقابلے افتتاحی تقریب سے پہلے ہی شروع ہوچکے تھے۔
ایشین گیمز میں روایتی اولمپک کھیلوں ایتھلیٹکس، تیراکی اور فٹبال کے علاوہ کبڈی، کُراش اور سیپاک تکرا جیسے ایشیائی کھیل بھی شامل۔ ایونٹ میں مکسڈ مارشل آرٹس، پیڈل، ٹیک بال اور ای سپورٹس بھی شامل کیے گئے ہیں۔
میزبان جاپان نے 933 ایتھلیٹس پر مشتمل سب سے بڑا دستہ بھیجا ہے، جبکہ چین کے دستے میں 800 سے زائد ایتھلیٹس شامل ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
تاہم افتتاح سے قبل منتظمین کو ایتھلیٹس کی رہائش اور سفری انتظامات سمیت بعض مسائل کا سامنا رہا۔ کچھ کھلاڑیوں نے رہائشی کمروں اور بستروں کے چھوٹے ہونے کی شکایات بھی کیں۔
افتتاح سے ایک روز قبل جنوبی کوریا اور بنگلہ دیش کے فیلڈ ہاکی میچ میں غلطی سے شمالی کوریا کا قومی ترانہ بجائے جانے کا واقعہ بھی سامنے آیا، جبکہ تائیوان کے کھیلوں کے وزیر لی یانگ کو ایک استقبالی تقریب میں عارضی طور پر شرکت سے روکے جانے کا واقعہ بھی پیش آیا، جسے ایشین اولمپک کونسل نے غلط فہمی قرار دیا۔
جاپان میں ہفتے کو 16 روزہ ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب کے ساتھ کھیلوں کے سب سے بڑے ایشیائی میلے کا باضابطہ آغاز ہوگیا، تاہم باسکٹ بال، فٹبال سمیت کئی مقابلے افتتاحی تقریب سے پہلے ہی شروع ہوچکے تھے۔
ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب جاپان کے شہر ناگویا میں منعقد ہوئی، جس میں جاپان کے شہنشاہ ناروہیتو، ملکہ ماساکو، ایشین اولمپک کونسل کے صدر شیخ جوعان بن حمد آل ثانی اور بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی صدر کرسٹی کووینٹری سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔
افتتاحی تقریب کا موضوع ’ہم آہنگ دل کی دھڑکن‘ تھا، جبکہ ناگویا سٹی سٹیڈیم کے میدان میں مرکزی سٹیج کو بڑے دل کی شکل دی گئی تھی۔
ایشین گیمز میں کم از کم 11 ہزار ایتھلیٹس شریک ہیں، جو 2024 کے پیرس اولمپکس میں شریک تقریباً 10,700 ایتھلیٹس سے بھی زیادہ ہیں۔ 2023 میں چین کے شہر ہانگژو میں ہونے والے گذشتہ ایشین گیمز میں تقریباً 12 ہزار ایتھلیٹس شریک ہوئے تھے۔ جاپانی منتظمین نے 45 ممالک اور خطوں سے آنے والے ایتھلیٹس کی حتمی تعداد ابھی جاری نہیں کی، تاہم امکان ہے کہ یہ تعداد گزشتہ ایشین گیمز کے قریب یا اس سے بھی زیادہ ہو۔
مقابلوں میں اولمپکس کے روایتی کھیلوں، جن میں ایتھلیٹکس، تیراکی اور فٹبال شامل ہیں، کے ساتھ ایشیا کے مخصوص کھیل بھی شامل ہیں، جن میں کُراش، کبڈی اور سیپاک تکرا قابل ذکر ہیں۔
کُراش ازبکستان سے شروع ہونے والی کشتی کی قدیم قسم ہے، کبڈی جسمانی رابطے پر مشتمل ٹیم گیم ہے جبکہ سیپاک تکرا والی بال اور فٹبال کا امتزاج ہے۔
منتظمین نے مقابلوں میں مکسڈ مارشل آرٹس، پیڈل اور ٹیک بال بھی شامل کیے ہیں جبکہ ای سپورٹس بھی شیڈول کا حصہ ہیں۔
میزبان جاپان نے سب سے بڑا دستہ بھیجا ہے جس میں 933 ایتھلیٹس شامل ہیں جبکہ چین کے دستے میں 800 سے کچھ زیادہ ایتھلیٹس ہیں۔ گزشتہ ایشین گیمز میں چین نے 201 طلائی تمغے جیتے تھے، جبکہ جاپان 52 اور جنوبی کوریا 42 طلائی تمغوں کے ساتھ اس کے بعد رہے تھے۔
روایتی مارچ میں افغانستان نے سب سے پہلے شرکت کی جبکہ میزبان جاپان آخر میں میدان میں آیا اور اسے شائقین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔
افتتاح سے قبل منتظمین کو کئی مسائل کا سامنا
ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب سے قبل منتظمین کو متعدد مسائل اور تنازعات کا سامنا بھی رہا۔
ان میں ایتھلیٹس کی رہائش کا مسئلہ نمایاں تھا۔ جاپانی منتظمین نے روایتی ایتھلیٹس ولیج تعمیر کرنے کے بجائے تقریباً 17 ہزار ایتھلیٹس اور حکام کو ایک بڑے کروز شپ، ہوٹلوں اور رہائش میں تبدیل کیے گئے لکڑی کے کنٹینرز میں ٹھہرانے کا فیصلہ کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کچھ ایتھلیٹس نے کمروں اور بستروں کے چھوٹے ہونے کی شکایت کی، جبکہ بعض نے لکڑی سے بنائے گئے رہائشی یونٹس میں پانی رسنے کی شکایات بھی کیں۔ ناگویا کے مختلف مقامات پر مقابلوں کے انعقاد کے باعث سفری اور انتظامی مسائل کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔
افتتاح سے ایک روز قبل سیاسی تنازعات
افتتاحی تقریب سے ایک روز قبل جمعے کو دو واقعات بھی خبروں کی زینت بنے۔ جنوبی کوریا اور بنگلہ دیش کے فیلڈ ہاکی میچ کے دوران منتظمین نے غلطی سے شمالی کوریا کا قومی ترانہ بجا دیا، جس پر جنوبی کوریا کے کھلاڑی حیران رہ گئے۔
اسی دوران تائیوان کے کھیلوں کے وزیر اور دو مرتبہ اولمپک گولڈ میڈلسٹ لی یانگ کو تائیوان سمیت شمالی کوریا، فلسطین اور انڈیا سے متعلق ایک استقبالی تقریب میں عارضی طور پر شرکت سے روک دیا گیا۔
ایشین اولمپک کونسل نے اسے غلط فہمی قرار دیا، تاہم واقعے کی مکمل وضاحت نہیں کی۔ بعد میں لی یانگ کو تقریب میں شرکت کی اجازت دے دی گئی۔
<p class="rteright"> جاپان کے ناگویا کے پالومہ میزُوہو سٹیڈیم میں 2026 ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب کے اختتام پر 19 ستمبر، 2026 کو آتش بازی کا منظر(اے ایف پی)</p>
.png)
3 hours ago
2




English (US) ·