کوئٹہ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ریٹائرڈ پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کو صوبے میں علیحدگی پسندوں کی حمایت اور سکیورٹی اداروں کے خلاف بیان کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف مقدمات سی ٹی ڈی پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر منیر حمد کی مدعیت میں درج کیے گئے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ تھانے میں ڈیوٹی پر موجود تھے اور سوشل میڈیا دیکھ رہے تھے کہ اس دوران فیس بک پر سابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کی پریس کانفرنس پر نظر پڑی۔
منیر احمد کے مطابق ڈاکٹر عائشہ فیض نے پریس کانفرنس میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے حق میں بات کی اور ان کے ’ریاست دشمن اور دہشت گردی پر مبنی اقدامات کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ریاست پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
ڈاکٹر عائشہ فیض نے 31 اگست، 2026 کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان کی سیاسی صورت حال، اس کے تاریخی پس منظر اور حالیہ واقعات پر اظہار خیال کیا تھا۔
ڈاکٹر عائشہ فیض نے اپنی پریس کانفرنس وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے اس بیان کے بعد کی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ پرتشدد واقعات کی صورت میں مستونگ کے باغات کو بلڈوز کر دیا جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پریس کانفرنس کے بعد ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف سی ٹی ڈی نے مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ انسداد دہشت گری ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہونے کے بعد پولیس انہیں حراست میں لے کر ہفتے کو جوڈیشل مجسٹریٹ سیف اللہ کی عدالت میں پیش کیا۔
عدالت نے ڈاکٹر عائشہ فیض کو تین دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
ڈاکٹر عائشہ فیض کون ہیں؟
ڈاکٹر عائشہ فیض کا تعلق ضلع مستونگ سے ہے۔ ان کے والد فیض محمد یوسفزئی کا قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں قوم پرست سیاست میں بنیادی کردار رہا۔
انہوں نے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیں۔ وہ ملازمت کے آخری ایام میں بطور پولیس سرجن سول ہسپتال کوئٹہ تعینات تھیں۔ وہ مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد پانچ ماہ قبل ریٹائر ہو گئی تھیں۔
ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری کی مذمت
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری اور ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کی مذمت کی ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف درج مقدمے کا فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔
سینیئر سیاست دان نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے بھی عائشہ فیض کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے قانون و اخلاق کی حدیں پار کر لیں۔

<p class="rteright">ڈاکٹر عائشہ فیض نے 31 اگست 2026 کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان کی سیاسی صورت حال، اس کے تاریخی پس منظر اور حالیہ واقعات پر اظہار خیال کیا تھا (سکرین گریب/بہرام خان ایکس اکاؤنٹ)</p>
.png)
2 hours ago
2



English (US) ·