پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 270 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ کارروائی گذشتہ شب شارع فیصل پر واقع کراؤن پلازا میں قائم ایک کال سینٹر پر کی گئی، جہاں سے غیر ملکی شہریوں کا حساس بینکنگ ڈیٹا اور بڑی تعداد میں ڈیجیٹل آلات برآمد ہوئے۔
ان کے مطابق گرفتار افراد میں تقریباً 100 خواتین اور 42 کم عمر بچے اور نوجوان شامل ہیں، جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
شہزاد اکبر کے بقول، کارروائی کے دوران 339 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور چار سی پی یوز قبضے میں لیے گئے۔ ان کے مطابق ضبط کیے گئے لیپ ٹاپ میں غیر ملکی شہریوں کے کریڈٹ کارڈز، بینکنگ معلومات اور دیگر حساس ذاتی ڈیٹا موجود تھا۔
فرضی ناموں سے غیر ملکی شہریوں کو کالز
شہزاد اکبر نے بتایا کہ کال سینٹر میں کام کرنے والے افراد اپنی اصل شناخت چھپا کر مارک، جان اور دیگر فرضی نام استعمال کرتے تھے اور بیرون ملک شہریوں کو فون کر کے خود کو مختلف بینکوں یا مالیاتی اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے تھے۔
ان کے بقول، ملزمان شہریوں کو مختلف مالیاتی سکیموں، کریڈٹ کارڈ کی واجب الادا رقم ختم کرنے یا شرح سود کم کرنے کی پیشکش کرتے اور اس بہانے ان سے کریڈٹ کارڈ کی حساس معلومات حاصل کرتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان معلومات میں کریڈٹ کارڈ نمبر، سی وی وی، ایکسپائری ڈیٹ اور دیگر ذاتی معلومات شامل ہوتی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر مرچنٹس کو فراہم کیا جاتا تھا اور ان کے ذریعے شہریوں کے اکاؤنٹس سے رقم نکالی جاتی تھی۔
شہزاد اکبر کے مطابق، اس نوعیت کی سرگرمیوں کو ڈیٹا ویلیڈیشن کا نام دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں متعلقہ قانونی دستاویزات اور اجازت کے بغیر بیرون ملک شہریوں کا ڈیٹا حاصل کرنا اور اسے مالی فراڈ کے لیے استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔
کراچی میں 300 سے 350 کال سینٹرز کا دعویٰ
شہزاد اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے پاس موجود ابتدائی معلومات کے مطابق کراچی میں تقریباً 300 سے 350 ایسے سکمنگ کال سینٹرز کام کر رہے ہیں جو غیر قانونی یا گرے ایریا میں سرگرم ہیں۔
ان کے بقول، ان میں سے تین بڑی کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے ایک کے خلاف گذشتہ شب کارروائی کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ متعلقہ کمپنی کے خلاف اس سے پہلے بھی کارروائی ہو چکی تھی، تاہم کچھ عرصے بعد اسی نیٹ ورک سے وابستہ افراد کسی دوسری کمپنی کے نام سے دوبارہ اسی نوعیت کی سرگرمیاں شروع کر دیتے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہزاد اکبر کے مطابق، ماضی میں عموماً صرف کمپنی مالکان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی درخواستیں سامنے آتی تھیں، لیکن اس مرتبہ پوری سرگرمی میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تمام گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
کال سینٹرز میں کم عمر بچوں کی شمولیت
شہزاد اکبر نے بتایا کہ ان سرگرمیوں میں 14 سے 15 سال کی عمر کے بچے بھی ملوث پائے گئے ہیں۔
ان کے مطابق، گذشتہ شب کی کارروائی میں گرفتار افراد میں 42 کم عمر بچے اور نوجوان شامل ہیں، جبکہ تقریباً 100 خواتین بھی گرفتار کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک کمپنی بند ہونے کے بعد اسی کے ملازمین کسی دوسری جگہ یا نئے نام سے رجسٹرڈ آئی ٹی کمپنی کے تحت دوبارہ اسی نوعیت کا کام شروع کر دیتے ہیں۔
شہزاد اکبر کے بقول، اسی وجہ سے اس مرتبہ صرف کمپنی مالکان کے بجائے پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار افراد کے جسمانی ریمانڈ، عدالتی تحویل یا ضمانت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔
مقدمہ درج، ڈیجیٹل آلات کی تحقیقات جاری
این سی سی آئی اے کے مطابق، اس کارروائی کے بعد ایف آئی آر نمبر 122/2026 درج کی گئی ہے، جس میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016، ترمیم شدہ قانون کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔
شہزاد اکبر کے مطابق، گرفتار افراد کے زیر استعمال ڈیجیٹل آلات تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق، ضبط کیے گئے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر آلات کا تکنیکی اور فارنزک جائزہ لیا جائے گا تاکہ برآمد ہونے والے ڈیٹا، مبینہ مالی فراڈ اور اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کے کردار کا تعین کیا جا سکے۔
<p>کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پانچ نومبر 2026 کو ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 270 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا (این سی سی آئی اے)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·