کراچی: 1962 میں غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے والے حاجی ایوب کی داستان

2 months ago 12

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
حاجی ایوب کی داستان: غلافِ کعبہ کی تیاری میں ان کا حصہ

حالیہ دنوں میں 82 سالہ حاجی ایوب کا نام خبروں میں سامنے آیا جب انہوں نے غلافِ کعبہ کی تیاری میں اپنا حصہ ڈالا۔ یہ کہانی اس وقت کی ہے جب حاجی ایوب صرف 20 سال کے تھے اور پاکستان میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے منصوبے کا حصہ بنے تھے۔

Background & Context

حاجی ایوب کراچی کے علاقے بنارس ٹاؤن سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا تعلق بنارسی کاریگروں سے ہے جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان ہجرت کر آئے تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھ صدیوں پرانا بنارسی بُنائی کا فن لے آئے جس میں ان کے والدین اور دادا بھی مہارت رکھتے تھے۔

حالیہ عرصے میں حاجی ایوب کی کہانی کے بارے میں جاننے کے بعد اس کی تفصیلات سے کچھ نئی چیزیں سامنے آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں ان کے بڑے کاریگروں نے حصہ لیا تھا اور اس وقت ان کی عمر صرف 20 سال تھی۔

Key Details

حاجی ایوب کے مطابق غلاف کی تیاری روایتی بنارسی کھڈیوں پر ہوتی تھی اور اس کام میں صرف چند ماہر کاریگر ہی شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ غلاف کی تیاری میں کوریا سے درآمد کیا گیا اعلیٰ معیار کا ریشم استعمال کیا جاتا تھا جسے ’کتان‘ کہا جاتا تھا۔

حالیہ عرصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے کپڑے کے بارے میں جاننے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا عام کپڑا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔

Key Details (Continued)

حاجی ایوب کے مطابق غلاف کی تیاری میں صرف چند ماہر کاریگر ہی شامل تھے اور انہوں نے بتایا کہ غلاف کی تیاری میں کوریا سے درآمد کیا گیا اعلیٰ معیار کا ریشم استعمال کیا جاتا تھا۔

حالیہ عرصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے بارے میں جاننے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔

What Experts Say

بنارسی کلاتھ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ ظفر اللہ انصاری کہتے ہیں کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بنارسی کپڑے کی اصل پہچان روایتی کھڈی ہے، جہاں ہر ڈیزائن پہلے کاریگر کے ذہن میں بنتا، پھر کاغذ پر نقش کیا جاتا اور آخر میں ایک ایک دھاگے کو ہاتھ سے بُن کر کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔

Key Takeaways

  • حالیہ عرصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے بارے میں جاننے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔
  • حالیہ عرصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے بارے میں جاننے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔
  • حالیہ عرصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے بارے میں جاننے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔
  • حالیہ عرصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے بارے میں جاننے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔

What This Means For You

حالیہ عرصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے بارے میں جاننے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔

یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔

حالیہ عرصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے بارے میں جاننے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔

یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔

Read Entire Article
Chatroom