وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو کہا کہ پاکستان چین کے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) کی مکمل حمایت کرتا ہے، تاہم اس کے اہداف کے حصول کے لیے عالمی سطح پر تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
چین کے نائب صدر ہان ژینگ کی میزبانی میں عالمی ترقیاتی اقدام پر اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جی ڈی آئی کے 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے اب چار سال باقی رہ گئے ہیں، تاہم پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پیش رفت اب بھی ناکافی اور سست ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل کی بڑھتی ہوئی کمی، شدید موسمیاتی آفات، خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے کئی دہائیوں میں حاصل ہونے والی ترقی ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
وزیراعظم نے کہا کہ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ چین اور اس کے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو نے ترقی پذیر دنیا میں ٹھوس اور عملی فوائد فراہم کیے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان جی ڈی آئی کی مکمل حمایت کرتا ہے کیونکہ یہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس نتائج کے حصول کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
انہوں نے کہا جی ڈی آئی کے اہداف پاکستان کے قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے سے بھی ہم آہنگ ہیں۔
سی پیک کا دوسرا مرحلہ
وزیراعظم نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کا تعاون بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے جاری ہے اور سی پیک اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا پاکستان 2030 کی جانب بڑھتے ہوئے جی ڈی آئی کے تمام شراکت داروں کے ساتھ تعاون مزید وسیع کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں کامیاب منصوبوں کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھانے کے ساتھ تعاون کے نئے اور جدت پر مبنی شعبوں کی نشاندہی بھی شامل ہے۔
شہباز شریف نے عالمی ترقیاتی اقدام کے تحت 2030 کے ایجنڈے پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی حکمرانی کے لیے ایک زیادہ نمائندہ ڈھانچہ ہونا چاہیے جو ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ’UN80 اقدام‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے اقوام متحدہ کے ترقیاتی ستون کو مزید مضبوط بنانے اور عملی سطح پر نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد کرنی چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان تمام اہم اقدامات کا پختہ حامی ہے اور چین سمیت گروپ آف فرینڈز کے دیگر ارکان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے تاکہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے تصور کو آگے بڑھایا جا سکے۔
<p>وزیراعظم شہباز شریف 24 مئی، 2026 کو ہانگژو میں منعقدہ پاکستان – چین بزنس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (وزیراعظم ہاؤس/ایکس)</p>
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·