وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بدھ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی عدم استحکام سے کوئی مطالبہ منوایا نہیں جا سکتا۔‘
رانا ثنا نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے 4 اکتوبر سے لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کی سڑکوں پر جا بجا کنٹینرز رکھے دیکھے جا سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مطالبات میں بانی چیئرمین عمران خان کی ہسپتال منتقلی، ان سے ملاقاتوں کی اجازت اور مقدمات سمیت دیگر معاملات شامل ہیں۔
بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا نے پی ٹی آئی رہنماؤں پر زور دیا کہ ’وہ عدم استحکام اور ذاتی سیاسی ایجنڈے کو قومی مفادات پر ترجیح دینے کے عمل کو خیرباد کہہ کر مذاکرات کے لیے بیٹھیں اور ان مسائل کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کریں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا: ’لیکن مذاکرات کی اس خواہش کو کسی صورت بھی ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی مطالبات منوانے کا ہتکھنڈا نہیں بننے دیا جائے گا اور میں یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ریاست کو یرغمال بنا کر اور سیاسی عدم استحکام کا رویہ اپنا کر کسی بھی مطالبے کو نہیں منوایا جا سکتا۔‘
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات بھی ہوئے لیکن انسداد دہشت گردی کے نکات پر ڈیڈ لاک کے باعث کامیاب نہ ہو سکے۔
گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں تو حکومت بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔
جس پر پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا تھا کہ وزیراعظم میڈیا پر مذاکرات کی بات نہ کریں اور اگر اختیارات ہیں تو ان کے جائز مطالبات تسلیم کریں۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا کہ ’لانگ مارچ جاری ہے اور کسی دباؤ کے تحت ختم نہیں ہوگا۔ لانگ مارچ ختم کرنے کی کنجی اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کے پاس ہے۔‘
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اپنی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف مارچ کے لیے کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کے تمام تر وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے حالیہ واقعات میں عام شہریوں سمیت سکیورٹی اہلکاروں کی اموات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’ایک طرف شہدا کے لاشے پڑے تھے اور دوسری طرف پوری صوبائی حکومت لوگوں کو ورغلا کر کے اسلام آباد کی طرف چڑھائی کے لیے تیار ہے۔‘
بقول رانا ثنا: ’یہ رویہ ہے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا، جسے کسی طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘
<p class="rteright">وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ سات اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے (سکرین گریب/ پی ٹی وی یو ٹیوب)</p>
.png)
2 hours ago
1




English (US) ·