پنجاب حکومت نے سرکاری محکموں میں کرپشن ختم کرنے کے لیے حکام کو بلاامتیاز سخت کارروائی کا حکم دیا ہے جس کے بعد اینٹی کرپشن پنجاب نے بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
گذشتہ تین دن میں محکمہ پولیس اور ریونیو میں بڑی تعداد میں ملازمین کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ نظام کے اندر کرپشن ختم کرنے کی کتنی صلاحیت موجود ہے؟
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرپشن کا چیلنج ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اس بنیاد پر کئی حکمرانوں اور اعلیٰ افسران کے خلاف کرپشن سکینڈل بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ بڑے عہدوں پر اکثر اختیارات سے تجاوز کرنے اور آمدن سے زیادہ اثاثوں کے کیس بھی بنتے رہے ہیں۔
ہر دور میں اپوزیشن جماعتیں حکومتِ وقت پر کرپشن کے الزامات لگاتی آئی ہیں۔ وفاقی سطح پر قومی احتساب بیورو (نیب) اور صوبائی سطح پر اینٹی کرپشن کے محکمے قائم ہونے کے باوجود کرپشن کنٹرول نہ ہو سکی۔
لیکن موجودہ دورِ حکومت میں خود حکمران جماعت کے رہنما بھی کرپشن کی دہائی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیان دیا کہ بیوروکریٹس بیرونِ ملک شہریت لے کر جائیدادیں خرید رہے ہیں۔
اب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چند دن پہلے افسران سے خطاب میں کہا کہ ’جو سرکاری دفتر میں آتا ہے، جیب خالی کر کے گھر پہنچتا ہے۔‘
پنجاب حکومت نے آئی جی پنجاب سمیت تمام سرکاری محکموں کے سربراہان کو ہدایات جاری کیں کہ کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ کرپشن پر قابو پانے کے لیے اینٹی کرپشن پنجاب کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے۔
کرپشن کے الزامات پر کارروائیاں
ترجمان اینٹی کرپشن پنجاب نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ ’پنجاب میں کرپٹ عناصر کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا میگا آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں محکمہ پولیس اور محکمہ مال کے کرپٹ افسران کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سہیل ظفر چٹھہ نے تمام ضلعی اور ڈویژنل افسران کو کرپشن کے خاتمے کے لیے خصوصی ٹاسک سونپ دیا ہے۔
گذشتہ دو دن میں محکمہ مال اور محکمہ پولیس کے درجنوں افسران اور دیگر ملازمین کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘
ان کے بقول: ’ساہیوال سے سب انسپکٹر پنجاب پولیس عبدالسلام اور فیصل آباد کے اے ایس آئی محمد عرفان کو گرفتار، بہاولپور سے تحصیلدار یاسین شاکر اور نائب تحصیلدار حسنین غنی کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اسی طرح بہاولنگر سے سابق نائب تحصیلدار علی اکبر، پٹواری محمد وقاص اور پٹواری لیاقت علی گرفتار کیے گئے۔ ملتان کے ریکارڈ کیپر رجسٹری برانچ عمر دراز کو گرفتار کیا، ایل آر او نور الحسن، انچارج ریکارڈ سینٹر محمد علی راجپوت اور ایس سی او شاہد کو بھی سیالکوٹ سے گرفتار کیا جا چکا ہے۔
دیپال پور کے پٹواری مدثر سیف، ملتان سے پٹواری اللہ نواز، منڈی بہاؤالدین سے پٹواری محمد عثمان، ساہیوال سے پٹواری عثمان اقبال اور پرائیویٹ کلرک حمزہ الیاس، چنیوٹ کے پٹواری نذر عباس، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے کاشف صدیق کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔‘
ڈی آئی جی انویسٹیگیشن لاہور سید ذیشان رضا نے صحافیوں کو دی گئی تفصیلات میں مزید بتایا کہ ’گذشتہ دو دنوں میں کرپشن پر افسران سمیت لاہور سے 37 اہلکاروں کو معطل کر کے محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ کارروائی کے دوران 11 سب انسپکٹرز، 14 اے ایس آئی، چھ ہیڈ کانسٹیبل اور چھ کانسٹیبل معطل کیے جا چکے ہیں۔‘
ترجمان ساہیوال پولیس محمد سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ڈی پی او ساہیوال نے پچھلے ہفتے ایس ایچ او تھانہ ہڑپہ ماجد اشفاق کو کرپشن کے الزام میں معطل کیا تو تھانے کے اہلکاروں نے ایس ایچ او کو ہار پہنا کر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے رخصت کیا، تو ڈی پی او نے نو اہلکار بھی معطل کر دیے۔‘
حالیہ کارروائیوں سے کرپشن ختم ہوگی؟
وزیر اعلیٰ پنجاب سیکریٹریٹ میں کام کرنے والے سابق سیکریٹری یاور مہدی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’بلاشبہ کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جس نے نظام کو کھوکھلا کیا ہوا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن اس کے خلاف آپریشن سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ کرپشن ختم کرنے کے ذمہ دار حکمران اسی نظام سے جنم لے کر آتے ہیں۔ جو خود کرپٹ ہوں گے، وہ کیسے کرپشن کا خاتمہ کر سکتے ہیں؟
’کئی حکمرانوں پر کرپشن کے سنگین کیس بنائے گئے، لیکن آج تک کسی سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔ بڑے عہدوں پر بیٹھے اعلیٰ افسران بھی مراعات کے ساتھ کرپشن کو پیشہ بناتے ہیں۔
سروس میں آنے والے مڈل کلاس کے افسران بھی ریٹائرڈ ہونے پر اربوں کی جائیدادیں بنا چکے ہوتے ہیں۔ کبھی کسی نے ان سے پوچھا یہ پیسہ کہاں سے بنایا ہے؟ بیرونِ ملک دولت منتقل کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟‘
یاور کے بقول: ’جب بھی عوام کو دلاسہ دینے کے لیے کارروائی شروع ہوتی ہے، پکڑے چھوٹے ملازم ہی جاتے ہیں، جن کی ہزاروں میں کرپشن ہوتی ہے۔ مگر اربوں بنانے والا کوئی نہیں پکڑا جاتا۔ کرپشن روکنے کے لیے بنائے گئے احتساب کے ادارے خود کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں۔
اگر کرپشن ختم کرنے میں سنجیدگی ہو تو چین جیسا ماڈل اپنایا جائے۔ وہاں کرپشن پر کوئی رعایت نہیں، عبرت ناک سزا دینے سے سب سیدھے ہو جاتے ہیں۔
وہاں حکمران بھی احتساب سے بالاتر نہیں۔ چھوٹے ملازمین کی تو تنخواہ کم ہوتی ہے، وہ اپنے مستقبل کی فکر میں کرپشن کرتے ہیں۔ مگر بڑے عہدوں پر بیٹھے افسران لاکھوں روپے مراعات لے کر بھی کروڑوں کا غبن کرتے ہیں۔ انہیں پکڑتا بھی کوئی نہیں۔‘
ان کے بقول، ’جن محکموں یا حکام کو کرپشن ختم کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے، وہ پہلے کہاں تھے؟ پہلے تو ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اپنا کام کتنی ایمانداری سے کیا ہے۔ جب اوپر سے نیچے تک بلاامتیاز سزا و جزا کا نظام قائم ہوگا، تب ہی کرپشن قابو ہو سکے گی۔‘
<p>لاہور کی ایک گلی میں 14 نومبر، 2023 کو ایک آرٹ طالبہ کرپشن کے خلاف مہم میں دیواری تصویر بنا رہی ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·