احمد علی بہاولپور کے رہائشی ہیں۔ ایک سال تک نوکری کی تلاش میں ناکامی کے بعد چھ ماہ قبل انہوں سٹاک ایکسچینج میں پہلا اکاؤنٹ کھلوایا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے سات ہزار روپے سے سرمایہ کاری شروع کی تھی۔ ابھی تک زیادہ منافع نہیں کما سکا لیکن بہت کچھ سیکھ گیا ہوں اور جو رقم لگائی تھی وہ بھی محفوظ ہے۔
فاطمہ رحمان کرپٹو ٹریڈنگ کرتی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ کرپٹو کے غیر مستحکم ماڈل کی وجہ سے وہ تین ماہ پہلے سٹاک ایکسچیبج کی طرف منتقل ہوئیں۔
پشاور کے بلال خان نے بتایا کہ انھوں نے سوشل میڈیا ویڈیوز سے متاثر ہو اپنے دس دوستوں کے ساتھ مل کر ایک سال قبل پاکستان سٹاک ایکسچینج میں دس اکاونٹ کھلوائے۔کچھ دوستوں نے منافع کمایا لیکن اکثریت کی رقم ڈوب گئی اور اب وہ کلاسز لے رہے ہیں تا کہ مارکیٹ کو سمجھ سکیں۔
پاکستان کی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں سٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹس کی تعداد 48 فیصد بڑھ کر 392,775 سے 583,052 ہوگئی ہے۔
اس دوران تقریباً 190,277 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جبکہ جنوری سے جون 2026 کے دوران نئے سرمایہ کاروں کے 45فیصد اکاؤنٹس 18سے 30سال کی عمر کے افراد نے کھولے ہیں اور پچھلے ایک ماہ میں تقریباً 25ہزار سے زیادہ نئے اکاؤنٹس کھلے ہیں جن میں تقریباً 53 فیصد اکاؤنٹس نوجوانوں نے کھولے ہے۔
یعنی جین زی اس سرمایہ کاری میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔ یہ دلچسپی بلاوجہ نہیں ہے بلکہ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ شاید جین زی وہ دیکھ رہی ہے جو جنریشن ایکس اور جنریشن وائے دیکھنے سے قاصر ہے۔
بڑی وجہ سوشل میڈیا پر کامیاب سرمایہ کاروں کی کہانیاں ہیں۔ مشہور کہاوت ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ جب سوشل میڈیا پر پڑھے لکھے نوجوان، سوشل میڈیا انفلوانسرز اور شوبز شخصیات بار بار آ کر بتائیں گے کہ ہم نے سٹاک ایکسچیبج سے ایک سال میں 55 فیصد سے زیادہ منافع کمایا ہے اور ساتھ میں وہ اپنا بہتر ہوتا لائف سٹائل بھی دکھائیں گے تو جین زی کا متاثر ہونا طے ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے علاوہ انفارمیشن تک رسائی بہت آسان ہو گئی ہے۔ پہلے کسی کمپنی کی آڈٹ رپورٹ لینے کے لیے سٹاک ایکسچیبج جانا پڑتا تھا۔ متعلقہ کمپنی کی آڈٹ رپورٹ حاصل کرنا بھی ایک مکمل امتحان پاس کرنے کے مترادف تھا جبکہ آج وہ رپورٹس ایک کلک پر دستیاب ہو جاتی ہیں۔
اگر کمپنی کی آڈٹ رپورٹ مل بھی جائے تو اسے سمجھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی اس کے لیے آپ کو مکمل نہ سہی لیکن نیم چارٹرڈ اکاونٹنٹ ہونا ضروری تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ جین زی کو جدید اے آئی ٹولز میسر ہیں اور وہ ان کا استعمال بے بی بومرز، جنریشن ایکس، اور جنریشن وائی کی نسبت بہتر انداز میں کرتی ہے۔
جین زی آڈٹ رپورٹ کا لنک اے آئی کو دیتی ہے اور اسے درست پرامٹ کے ذریعے حکم دیتی ہے کہ اس کا فنانشل تجزیہ کر دو اور اے ائی چند سیکنڈز میں کمپنی کے ہر پہلو کو سامنے بیان کر دیتی ہے۔ اس سے کم وقت میں بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ یوٹیوب، فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اسٹاک مارکیٹ، کمپنیوں کے منافع اور حصص کی قیمتوں سے متعلق معلومات بھی آسانی سے دستیاب ہیں۔
ایک بڑی وجہ ڈیجیٹل ماحول کا پروان چڑھنا ہے۔ موبائل فون نے سرمایہ کاری آسان بنا دی ہے۔ پہلے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے بروکر کے دفتر جانا اور نسبتاً پیچیدہ کارروائی مکمل کرنا پڑتی تھی۔ اب ڈیجیٹل سہولتوں اور آسان اکاؤنٹس کے ذریعے نوجوانوں کے لیے مارکیٹ تک رسائی زیادہ آسان ہوگئی ہے۔
مارچ 2026 میں ایس ای سی پی نے سہولت اکاؤنٹ کی سرمایہ کاری کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کردی تھی، جبکہ اگست 2026 میں اکاؤنٹ کھولنے کا عمل مزید آسان بنانے کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی نے بھی دلچسپی بڑھائی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بینچ مارک کے ایس ای 100انڈیکس میں روپے کے لحاظ سے تقریباً 44 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کارکردگی نے ان نوجوانوں کی توجہ بھی کھینچی جو پہلے اپنی بچت بینک اکاؤنٹس یا نقد رقم کی صورت میں رکھتے تھے۔
سہولت اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل ذرائع کے باعث نوجوان نسبتاً کم رقم سے بھی سرمایہ کاری کا آغاز کرسکتے ہیں۔ اس سے طلبہ، فری لانسرز اور ابتدائی ملازمت کرنے والے افراد کے لیے مارکیٹ میں داخل ہونا آسان ہوا ہے۔
بڑھتی ہوئی بے روزگاری بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ انٹرنیشل لیبر آرگنائیزیشن کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.8 فیصد ہے، جبکہ تقریباً 2.6 ملین نوجوان بے روزگار ہیں۔
ایسی صورت حال میں کم رقم سے سرمایہ کاری کر کے کچھ پیسے کمانا ایک پرکشش آفر دکھائی دیتی ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کے کریش نے بھی جین زی کو سٹاک مارکیٹ کی طرح راغب کیا۔ کرپٹو میں سٹاپ لاس بھی لگایا ہو تب بھی بروکر آپ کا اکاؤنٹ اڑا دیتا ہے۔ لیکن پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ایسا نہیں ہے۔ ایک مخصوص حد سے نیچے مارکیٹ گرے تو ٹریڈنگ بند کر دی جاتی ہے اور سرمایہ کار کو وقت مل جاتا ہے کہ وہ بہتر فیصلہ کر سکے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے بھی سٹاک مارکیٹ کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ گرتی ہوئی رئیل سٹیٹ، مستحکم ڈالر اور سونے کی گرتی قیمتوں نے بھی جین زی کو دیگر آپشن سوچنے پر مجبور کیا ہے۔
ایسے حالات میں جب آپ کو یہ پتہ چلے کہ سٹاک مارکیٹ نے 2024 میں تقریباً 83فیصد اور 2025میں تقریباً 54 فیصد منافع کمایا ہے اور باقی شعبے نقصان میں ہیں تو جین زی کے لیے یہ سرمایہ کاری کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p>کرپٹو مارکیٹ کے کریش نے بھی جین زی کو سٹاک مارکیٹ کی طرح راغب کیا (اینواتو)</p>
.png)
2 hours ago
1


English (US) ·