پاکستان میں پرتشدد انتہا پسندی کے مقابلے کا راستہ

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان کی پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر آن پہنچی ہے۔ اگرچہ اس کے بنیادی اسباب وہی ہیں لیکن طالبان کی پانچ سالہ حکومت کے بعد ان میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جو مبینہ طور پر پاکستانی انتہا پسند گروہوں کو نظریاتی، لاجسٹک اور مالی سرپرستی فراہم کر رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی سکیورٹی کی صورتِ حال اور اس خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی شمولیت، ایک سکیورٹی فراہم کرنے والے اور امن قائم کرنے والے دونوں کرداروں میں بھی ملک میں پر تشدد انتہا پسندی کے مستقبل کے رخ پر اثر انداز ہوگی۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک تھا۔ پرتشدد انتہا پسندی کے تدارک کے لیے ایک جامع قومی پالیسی کا اعلان 2025 میں کیا گیا تھا، جو پاکستان میں اس انتہا پسندی کے تمام پہلوؤں کاجامع احاطہ کرتی ہے۔

تاہم اس پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک کے پاس محدود وسائل ہیں اور وہ گورننس کے چیلنجوں اور ریاست و معاشرے کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے سے نبرد آزما ہے۔ اکتوبر میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ پرتشدد انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔

بہرحال اس انتہا پسندی کی روک تھام اور اس کا مقابلہ کرنے والی کسی بھی پالیسی کے پرامن اور مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے عوامی حمایت انتہائی اہم ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو ریاست اور معاشرے کے مشترکہ و مربوط اندازِ فکر کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں پرتشدد انتہا پسندی ایک پیچیدہ اور ہمہ جہت چیلنج بن چکی ہے۔ اس کے متعدد راستے اور اسباب ہیں جو مسلسل ارتقا پذیر رہتے ہیں۔ پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام اور اس کے خاتمے کے لیے ایک مستقبل کی پالیسی کا تصور قائم کرنے کے لیے دو نکات کا مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے۔

پہلا یہ کہ شدت پسندی کی روک تھام کے لیے ایک ہی طرح کے حل (یکساں فارمولے) الٹے نتائج کا باعث بنتے ہیں کیونکہ وہ پیچیدہ مسائل کو حد سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور انہیں محض سکیورٹی کے ایک محدود نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں پرتشدد انتہا پسندی ایک سماجی مسئلہ ہے جو نظریاتی، سیاسی، معاشی اور نسلی عوامل کے پیچیدہ باہمی عمل سے جنم لیتا ہے۔

دوسرا یہ کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد جیسے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہوئی بنیادی اسباب کو حل کیے بغیر صرف عسکری اقدامات پر مسلسل توجہ نے حل تلاش کرنے کی بجائے مزید چیلنجز پیدا کیے۔ اس لیے پاکستان کو زمینی حقائق پر مبنی شدت پسندی کی روک تھام اور اس کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک بنانے کی ضرورت ہے، جو مسئلے کے حل پر مبنی ہو۔

مزید برآں اگرچہ پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف پالیسیاں ایک مضبوط ڈھال ثابت ہو سکتی ہیں لیکن وہ گورننس (حُسن انتظام) کے بنیادی اصولوں کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔ اچھا طرزِ حکومت وہ مضبوط جوڑ ہے، جو ریاست اور معاشرے کو ایک ساتھ باندھ کر رکھتا ہے۔ کسی ریاست کی ساکھ یا اس کی کمی ہی کامرانی یا ناکامی کا مرکزی عنصر ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح، انتہا پسندی بنیادی طور پر ایک غیر جانب دارانہ سماجی مظہر ہے اور اس میں کوئی اچھی یا بری بات نہیں ہے۔ درحقیقت، کسی معاشرے کے بنیادی ارکان کی حیثیت سے، افراد اپنے اپنے سیاسی، سماجی اور نظریاتی انتہا کے حق دار ہوتے ہیں۔ انتہا پسندی پر بحث کو ایک ایسے تسلسل (کنٹینیوم) کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس میں ایک مرکز، دائیں اور بائیں جانب کے زاویے ہوتے ہیں۔

اس تسلسل کا دایاں حصہ روایتی اقدار اور ان لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جو سیاست، مذہب اور معاشرے کے روایت پسند فریم ورک سے جڑے رہتے ہیں۔ وہ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد ہونے والی سیاسی، سماجی اور تکنیکی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے روایتی نقطہ نظر کا استعمال کرتے ہیں۔

اس کے برعکس اس سپیکٹرم کے بائیں جانب موجود لوگوں کو لبرل یا روشن خیال سمجھا جاتا ہے جن کا سیاسی، سماجی تبدیلیوں اور مذہب کے بارے میں ایک مستقبل بیں نقطہ نظر ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر وہ جدیدیت کے حمایتی ہوتے ہیں اور دنیا کو سمجھنے کے لیے اسی کو اپنے بنیادی منشور اور زاویے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اس تسلسل کا مرکز ان طبقات پر مشتمل ہوتا ہے جو دائیں اور بائیں دونوں اطراف کی انتہاؤں میں آہنگی پیدا کرتے ہوئے اعتدال پسندی کو اختیار کرتے ہیں۔ وہ ایسے گرے شیڈز (درمیانی راہوں) کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں ان کی سوچ اور افکار کسی ایک مخصوص زمرے میں نہیں آتے۔

مثال کے طور پر وہ اپنے مذہبی نقطہ نظر میں روایت پسند ہو سکتے ہیں لیکن اپنے سیاسی انتخابات میں روشن خیال ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ چند مذہبی امور پر محافظانہ خیالات رکھ سکتے ہیں جبکہ دیگر معاملات میں انتہائی لبرل ہو سکتے ہیں۔

ایک صحت مند معاشرے میں لوگوں کو اپنی اپنی انتہاؤں کا حق حاصل ہوتا ہے اور اس میں کوئی غلط یا خطرناک بات نہیں ہے بلکہ تمام تر انتہاؤں کو منفی اور خطرناک سمجھنے کا رجحان—جیسا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں دیکھا گیا—مسئلہ پیدا کرنے اور الٹے نتائج کا باعث ہے۔

اس لیے انتہا پسندی کے پرتشدد اظہار پر توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر لوگ دوسروں کی انتہاؤں کا احترام کرتے ہوئے اپنی اپنی انتہاؤں پر قائم رہتے ہیں، تو ان کے نظریات کا احترام اور برداشت کیا جانا چاہیے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کے نظریات دوسروں سے برتر ہیں اور وہ نہ صرف مختلف سیاسی و مذہبی اقدار پر عمل کرنے کی وجہ سے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے بلکہ اپنے انتہا پسندانہ نظریات کو تشدد کے ذریعے ان پر مسلط کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مؤثر پالیسی وضع کرنے کے لیے اس بات کی وضاحت انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان میں پرتشدد انتہا پسندی سے متعلق بحث کا ایک اور پہلو مقامی سطح پر علمیات اور وجودیات کے مباحث کا فقدان ہے۔ دہشت گردی کے متعدد ماہرین اور تجزیہ کاروں نے، چند قابلِ ذکر استثنیٰ کے علاوہ، پاکستان کے تناظر میں شدت پسندی، پرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسی اصطلاحات کو غلط طور پر ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا ہے۔

یہ کیفیاتی طور پر مختلف تصورات ہیں اور پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ان کے نتائج اور اثرات بھی الگ ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک ہی پالیسی فریم ورک وضع کرنا تخفیف پسندی کے مترادف ہے۔

نتیجے کے طور پر، ایسے بیانیے سے مرتب ہونے والے پالیسی فریم ورک مبہم حل پیش کرتے ہیں کیونکہ شدت پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ایک ہی چیز سمجھا جاتا ہے۔

بدلے میں، ایسی بلند نظر مگر غیر حقیقی پالیسیوں کو نافذ کرنے کی کوشش کرنے والے لوگ بغیر کسی قابلِ ذکر فائدے کے اپنا وقت، توانائی اور وسائل ضائع کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا وہ پیراڈائم (طرزِ فکر) جو محض طاقت کے استعمال کے اقدامات پر مبنی تھا، اس بات کی کھلی مثال ہے۔

اندرونی سماجی برائیوں، سیاسی تقسیم، معاشی بدحالی اور نظریاتی جمود کا اعتراف کرنا اور انہیں تسلیم کرنا ہی وہ پہلا قدم ہوگا جس کے بعد ایک غیر جانب دارانہ اور سائنسی تشخیص پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام اور اس کا مقابلہ کرنے کے علاج کی راہ ہموار کرے گی۔

2015 سے 2020 کے عرصے کے دوران، پاکستانی ریاست اور معاشرے نے قومی اتفاقِ رائے اور مالکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کا رخ موڑ دیا تھا۔ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایک بار پھر اسی جذبے اور جوش و ولولے کی ضرورت ہے۔ یہ پاکستان کے دل اور روح کی بقا کی جنگ ہے۔

مصنف ایس راجرٹنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔

یہ تحریر ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال اور اس خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی شمولیت، سکیورٹی فراہم کرنے والے اور امن قائم کرنے والے دونوں کرداروں میں ملک میں پر تشدد انتہا پسندی کے مستقبل کے رخ پر اثر انداز ہوگی۔
منگل, نومبر 3, 2026 - 06:15
Main image: 

<p class="rteright">کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے پروپیگنڈا مقاصد کے لیے 1 نومبر 2026 کو نامعلوم مقام پر لی گئی جنگجوؤں کی ایک تصویر (عمر میڈیا)</p>

type: 
SEO Title: 
پاکستان میں پرتشدد انتہا پسندی کے مقابلے کا راستہ
Read Entire Article
Chatroom