پاکستان فوج کا موقف: اچھی حکمرانی کے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے

2 weeks ago 8

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں اچھی حکمرانی کے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔

Background & Context

پاکستان میں سیاسی صورتحال مختلف وجوہات کی بدولت بدستور بدل رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان نے ایک نیا ایجنڈا شروع کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی کے لیے مؤثر طرزِ حکمرانی انتہائی ضروری ہے۔ اس بیان کے بعد سے فوجی ترجمان کی تقریر میں ان کے موقف کی وضاحت کی گئی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق، پاکستان کی سکیورٹی کے لیے مؤثر طرزِ حکمرانی انتہائی ضروری ہے، اور اگر مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کا مطلب ہے کہ گڈ گورننس کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

Key Details

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جہاں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں۔ ہارڈ اسٹیٹ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ریاستی امور فوج چلا رہی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’گڈ گورننس کے بغیر ملکی معاملات درست انداز میں نہیں چل سکتے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’رواں سال سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار سے زیادہ انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کیے جن میں 2084 دہشت گردوں کو مارا گیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’رواں سال اب تک 178 شہری شہید ہو چکے ہیں، جبکہ دہشت گردوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا اور 60 مقامات پر آگ لگائی۔‘

What Experts Say

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے موقف کی وضاحت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کے لیے مؤثر طرزِ حکمرانی انتہائی ضروری ہے۔

ان کے مطابق، پاکستان کی سکیورٹی کے لیے مؤثر طرزِ حکمرانی کا مطلب ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کے مطابق عمل کیا جائے۔

Key Takeaways

  • پاکستان میں اچھی حکمرانی کے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔
  • گڈ گورننس کے بغیر ملکی معاملات درست انداز میں نہیں چل سکتے۔
  • ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جہاں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں۔
  • سکیورٹی فورسز نے رواں سال 40 ہزار سے زیادہ انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کیے جن میں 2084 دہشت گردوں کو مارا گیا۔

What This Means For You

پاکستان میں سکیورٹی کے لیے مؤثر طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اگر ملک میں آئین اور قانون کے مطابق عمل نہیں کیا جاتا تو ملک میں حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

ہم سب پر لازم ہے کہ ریاست کے ساتھ وفادار رہیں، کیونکہ ریاست ہوگی تو سیاست بھی ہوگی۔ ریاست ہم سب کی جان ہے اور پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری شناخت ہے۔

سکیورٹی فورسز نے رواں سال دہشت گردوں کے خلاف 40 ہزار سے زیادہ آپریشنز کیے، لیکن حالات بہتر نہیں ہو سکتے ہیں جب تک کہ ملک میں آئین اور قانون کے مطابق عمل نہیں کیا جاتا۔

Read Entire Article
Chatroom