پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کا غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور جامع منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ

4 hours ago 3

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے 21 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی اور غزہ کی صورت حال پر مشترکہ بیان جاری کیا۔ یہ بات دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہی گئی۔

مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ جامع منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی باقی ماندہ ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرے، جن میں انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کے سامان کی فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ ترسیل کے ساتھ ساتھ اہم انفراسٹرکچر کی بحالی میں سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔ وزرائے خارجہ نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور اس کی تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیا۔

بیان کے مطابق روڈ میپ کو جامع منصوبے کا لازمی حصہ قرار دیا گیا، جو منصوبے کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت کے لیے عملی خاکہ فراہم کرتا ہے۔ اس میں اسرائیل کے مکمل انخلا کے ساتھ ہتھیاروں کے خاتمے، بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی، غزہ کی انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی (این سی اے جی) کی جانب سے پوری پٹی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے، اور غزہ بھر میں ابتدائی بحالی و تعمیرِ نو کے آغاز جیسے نکات شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ نے تمام فریقین سے اپنی اپنی ذمہ داریاں نیک نیتی اور بلا تاخیر پوری کرنے کا مطالبہ کیا۔

بیان میں فلسطینی عوام کو ان کے وطن سے بے دخل یا جبری طور پر بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش، یا مقبوضہ فلسطینی علاقے کی جغرافیائی و آبادیاتی نوعیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا۔ اسرائیلی کنٹرول اور الحاق کو مستحکم کرنے کے اقدامات، جن میں بستیوں کی توسیع، زمینوں پر قبضہ، فلسطینی گھروں کی مسماری اور آباد کاروں کا تشدد شامل ہیں، پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے یروشلم میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔

بیان میں برطانیہ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف حالیہ اقدامات، بشمول ان بستیوں کے ساتھ تجارت روکنے کے فیصلے، کے ساتھ ساتھ دیگر قومی اور یورپی کوششوں کو خوش آئند قرار دیا گیا اور بستیوں کی توسیع روکنے اور آباد کاروں کے تشدد پر احتساب یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا لازمی حصہ رہے گا اور جامع منصوبے کے نفاذ سے مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، اور غزہ پٹی کے دوبارہ اتحاد میں مدد ملنی چاہیے۔ بیان کے مطابق یہ عمل ایک خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی راستہ ہونا چاہیے، جو دو ریاستی حل کے ذریعے ممکن ہو۔

بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہا گیا اور جامع منصوبے کے نفاذ میں امریکہ کے کردار کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی مسلسل اور فعال شمولیت جاری رکھے تاکہ اسرائیل سمیت تمام فریقین اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور روڈ میپ کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔ بیان کے مطابق زمینی سطح پر ٹھوس پیش رفت سے بورڈ آف پیس کی ساکھ اور منصوبے کی اتھارٹی مضبوط ہو گی۔

آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکہ، بورڈ آف پیس، فلسطینی اتھارٹی اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر جامع منصوبے اور اس کے روڈ میپ کے مکمل نفاذ کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ فلسطینی عوام کی مشکلات کم ہوں اور خطے میں منصفانہ، پائیدار اور جامع امن قائم کیا جا سکے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ اجلاس، غزہ کی صورت حال پر بیان جاری۔
منگل, ستمبر 22, 2026 - 17:45
Main image: 

<p>شمالی غزہ پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کے جبالیہ کیمپ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے پاس سے 8 فروری 2026 کو گزرتے بچے (عمر القطاع / اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کا غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور جامع منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ
Read Entire Article
Chatroom