پاکستان سمیت 19 ممالک کے وزرائے خارجہ نے بیت المقدس میں کولمبیا کا سفارت خانہ کھولے جانے کی جمعے کو مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کولمبیا نے بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ کھولا تھا، جو اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کولمبیا کی وزارت خارجہ نے سفارت خانے کے افتتاح کو ’سفارتی سنگ میل‘ قرار دیا جبکہ اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اسے ’اسرائیل اور کولمبیا کے تعلقات اور دارالحکومت یروشلم کے لیے جشن کا دن‘ قرار دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں پاکستان، الجزائر، جبوتی، مصر، انڈونیشیا، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، ملائیشیا، عمان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، شام، سوڈان، ترکی اور یمن کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘
بیان کے مطابق: ’مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت تبدیل کرنے یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا کوئی بھی اقدام غیر قانونی اور بے اثر ہے۔‘
وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 476 (1980) اور 478 (1980) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ قراردادیں مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت یا کردار تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہیں اور ممالک سے شہر میں قائم اپنے سفارتی مشنز واپس بلانے کا مطالبہ کرتی ہیں۔‘
مشترکہ بیان میں کولمبیا کی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ’اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے واپس لے، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرے۔‘
وزرائے خارجہ نے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت بھی دہرائی، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
<p class="rteright">ایک خاتون 14 اکتوبر 2026 کو مقبوضہ بیت المقدس میں کولمبیا کے سفارت خانے کی عمارت کے پاس سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·