وزیراعظم کا صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

7 months ago 37

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے کی کمی کا اعلان اور ملکی معیشت کے مستحکم ہونے کی نوید سناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔

اسلام آباد میں ملک کے نامور برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: ’آج میں بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ ہم ایک مستحکم معیشت بن چکے ہیں۔‘

وزیراعظم نے چند سال قبل ملک کے دیوالیہ ہونے کی قیاس آرائیوں اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹیا جارجیوا سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

بقول وزیراعظم جون 2023 میں پیرس میں ایک کانفرنس کے موقعے پر اس وقت ڈیفالٹ کا شکار سری لنکن صدر نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے پاکستان کے حق میں بات کی اور پھر ان کی بھی کرسٹینا چارجیوا سے ملاقاتیں ہوئیں، جس میں انہوں نے کہا کہ ’میں آپ سے کھلی اور کھری بات کرنا چاہتی ہوں کہ ماضی کا ہمارا تاثر ہے کہ آپ (آئی ایم ایف) پروگرام کرلیتے ہیں، لیکن بیچ میں ادھورے چھوڑ جاتے ہیں۔‘

جس پر بقول وزیراعظم شہباز شریف: ’میں نے کہا کہ اگر آپ کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ ہوگا تو میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم پوری روح اور عزم کے ساتھ اس معاہدے پر عملدرآمد کریں گے۔‘

وزیراعظم نے معاشی اعشاریوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے اور پالسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے سٹیٹ بینک کے گورنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تگڑے ہو کر فیصلے کریں، جگرا ذرا بڑا کرلیں، آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ کچھ تلخ حقائق بھی ہیں۔ ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر تقریباً ڈبل ہو چکے ہیں، اس میں دوست ممالک کے قرضے بھی شامل ہیں۔

’میں آپ کو کس طرح بتاؤں کہ کس طرح ہم نے دوست ممالک میں جا کر ان سے قرضے لینے کی درخواستیں کیں اور انہوں نے ہمیں مایوس نہیں کیا لیکن آپ جانتے ہیں کہ جو قرض لینے جاتا ہے، اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے اور پھر اس کے ساتھ جو ذمہ داریاں ہوتی ہیں، ان کا آپ کو اچھی طرح علم ہے۔

’میں اور فیلڈ مارشل خاموشی کے ساتھ کئی ممالک میں گئے اور ان سے کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ہے، آپ اتنے ارب ڈالرز دے دیں، میں ان ممالک کا بے حد شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ہماری پذیرائی کی، لیکن آپ جانتے ہیں کہ جب کوئی کسی سے مانگنے جاتا ہے تو اپنی عزت نفس کی قیمت اس کو چکانی پڑتی ہے۔ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور پھر بعد میں کہیں سے بھی کوئی ایسی خواہش ہو، جس پر عملدرآمد کا کوئی جواز نہ ہو تو آپ اس کا بوجھ لیتے ہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جن سے ہم گزرے۔‘

معاشی مشکلات کے دوران قرض فراہم کرنے والے دوست ممالک کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ بہت سے ممالک نے ہمارا ساتھ دیا۔ ’ان ممالک میں چین سرفرست ہے۔ مشکل ترین گھڑیوں میں چین نے ہماری مدد کی، سعودی عرب نے دل کھول کر مدد کی، متحدہ عرب امارات نے، قطر اور دیگر ممالک نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔‘

بقول وزیراعظم: ’ہماری معیشت مستحکم ہو چکی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔‘

انہوں نے معیشت سے جڑے کچھ ’تلخ حقائق‘ کا بھی تذکرہ کیا۔ ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: ’غربت بڑھ گئی، بیروزگاری بڑھ گئی ہے، ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہونا چاہیے تھا، جو نہیں ہوا، میں تسلیم کرتا ہوں۔ آپ کو ان ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے، جن کی مصنوعات سستی ہیں، اس لیے کہ بجلی سستی ہے، اس لیے باوجود اس کے کہ پالیسی ریٹ ساڑھے 21 سے ساڑھے 10 پر آ گیا، اس میں مزید کمی نہیں ہو گی تو آپ مقابلے میں اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکیں گے۔‘

وزیراعظم نے تقریب کے دوران ایوارڈز حاصل کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے بلیو پاسپورٹ کا بھی اعلان کیا۔

اپنی ٹیم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی خدمات خصوصاً گذشتہ برس مئی میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: ’آج آپ باہر جاتے ہیں تو آپ کے پاسپورٹ کو دوست ممالک رشک کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ پاکستانی آیا ہے، میں دیار غیر میں گیا فیلڈ مارشل کے ساتھ، تو میں نے محسوس کیا کہ نظریں بدل گئیں، چہرے بدل گئے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’فیلڈ مارشل کی سپورٹ نہ ہوتی تو کچھ مسائل تھے جو میں حل نہیں کرسکتا تھا، یہ ایک مشترکہ اونرشپ تھی، ایک پارٹنر شپ، جو قوم کی بہتری کے لیے پہلے کبھی نہیں ہوئی اور میں دعا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ قیامت تک اس طرح کی پارٹنر شپس چلیں گی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایسا ملک ہو گا، کہ ہندوستان کو غش کے دورے پڑیں گے کہ پاکستان اتنا تگڑا ملک بن چکا ہے۔‘

Read Entire Article
Chatroom