پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان نیا سہ فریقی دفاعی معاہدہ آئندہ چند روز میں عملی شکل اختیار کرے گا۔
اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے میں ایک تقریب کے موقع پر عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی سفیر نے کہا کہ تینوں ممالک خطے میں استحکام کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا، ’آنے والے دنوں میں ہم اس معاہدے کو عملی جامہ پہنائیں گے اور تینوں ممالک کے درمیان بھرپور تعاون دیکھنے کو ملے گا۔‘
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے رواں ماہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے میں ترکی کو بھی شامل کرتا ہے۔ ترکی نیٹو کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے۔
اس معاہدے کے تحت جوہری صلاحیت رکھنے والا پاکستان، دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک سعودی عرب اور خطے کی بڑی فوجی طاقتوں میں شامل ترکی ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں آ گئے ہیں۔
سعودی سفیر نے پاکستان کو موجودہ علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں ’انتہائی اہم ملک‘ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان آئندہ تین سے چار برس میں دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہوگا۔
سعودی سفیر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی مضبوط بنانے کی جانب ’اہم پہلا قدم‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ ’اکٹھا ہو رہا ہے‘ اور خطے کے ممالک زیادہ مؤثر انداز میں اپنا دفاع کرنے کے قابل ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اپنے ممالک اور پورے خطے کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
وزیراعظم نے ایکس پر بیان میں کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مل کر اپنے ممالک کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے دفاع کو یقینی بنانے میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔
اسلام آباد کے مطابق اصولوں سے اتفاق کرنے والے دیگر ممالک بھی مستقبل میں اس معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو محدود کرنے کی سفارتی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
فروری میں شروع ہونے والی امریکہ، ایران جنگ نے خلیج میں بحری آمدورفت اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی سے جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا، تاہم ابتدائی 60 روزہ مذاکراتی مدت پیر کو کسی حتمی امن معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی۔
پاکستان سمیت دیگر ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطے اب بھی جاری ہیں، تاہم سفارتی پیش رفت کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔
<p>سعودی عرب کے سفارتخانے کی جانب سے 26 مارچ 2026 کو جاری کی گئی ویڈیو سے لیا گیا سکرین گریب، جس میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی دکھائی دے رہے ہیں (عرب نیوز)</p>
.png)
2 hours ago
1




English (US) ·