وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ کی حالیہ ’کشیدہ صورت حال‘ کے باعث پاکستان کی تجارت کو تقریباً دو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جام کمال نے کہا کہ چاول، تل اور چینی سمیت مختلف شعبوں میں آنے والی اس کمی کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی تجارت کو تقریباً دو ارب ڈالر کا فرق پڑا ہے۔
خلیجی ممالک کی مارکیٹس میں پاکستان کئی مصنوعات درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ برآمد بھی کرتا رہا ہے۔ لیکن خطے کی صورت حال کے باعث قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت ان تمام ممالک میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ ’پاکستانی تاجروں نے ان مشکلات کے باوجود اپنی برآمدی مارکیٹس کو متنوع بنایا اور جن مارکیٹس میں سپلائی چین متاثر ہوئی، وہاں ہونے والے نقصان کو دیگر خطوں میں اپنی رسائی بڑھا کر پورا کرنے کی کوشش کی۔
پاکستانی تاجر افریقہ، جنوبی امریکہ، یورپی ممالک اور وسطی ایشیا کی مارکیٹس میں گئے اور وہاں اپنی مصنوعات کی رسائی بڑھائی۔‘
دوسری جانب جولائی 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری جنگ بندی کے خاتمے سے پاکستان کو شدید معاشی اور تجارتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث پاکستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان تجارتی جہاز رانی مکمل طور پر رک گئی ہے اور بحیرہ احمر میں روزانہ گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد 80 سے کم ہو کر صرف چھ رہ گئی ہے۔
وزارت تجارت کی جانب سے مرتب کردہ دستاویزات، جو انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہیں، کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے نتیجے میں پاکستان کا مجموعی تجارتی خسارہ 23 فیصد اضافے کے ساتھ 3.95 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت میں برآمدات میں 1030 ملین ڈالر اور ٹرانزٹ آمدنی میں 150 ملین ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ آسیان ممالک کو ہونے والی برآمدات میں بھی 30 فیصد کمی آئی ہے۔ جبکہ ’’بلوچستان میں تفتان سرحد تک تجارتی سامان کی نقل و حمل سکیورٹی خدشات اور کارگو گاڑیوں پر حملوں کی وجہ سے انتہائی غیر یقینی اور خطرناک ہو چکی ہے۔‘‘
ان دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 سے جولائی 2026 تک پاکستان سے خلیجی ممالک کو ہونے والی تمام برآمدات صرف ہوائی راستے سے بھیجی گئیں، جبکہ سینکڑوں بحری جہاز باب المندب کے باہر پھنس کر رہ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگی دور کے دوران جی سی سی ممالک کو ہونے والی ماہانہ اوسط برآمدات میں 32.6 فیصد کی بڑی کمی آئی ہے، جس میں کویت کو ہونے والی برآمدات میں 49.8 فیصد، متحدہ عرب امارات میں 43.2 فیصد اور عمان میں 38.7 فیصد کی گراوٹ شامل ہے۔
درآمدات کے لحاظ سے بھی جولائی 2026 میں جی سی سی سے ہونے والی تجارت میں 32.5 فیصد کی سالانہ کمی دیکھی گئی، جس میں قطر سے درآمدات میں 96.1 فیصد اور کویت سے 92.8 فیصد کی ڈرامائی کمی ہوئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جبکہ علاقائی عدم استحکام کی وجہ سے وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ تجارت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور مجموعی طور پر ان ممالک کو برآمدات میں 72.3 فیصد کی سالانہ کمی آئی ہے۔
چاول کی برآمدات میں 1.2 ارب ڈالر کی کمی
وزیر تجارت نے کہا: ’پاکستان کے تجارتی خسارے میں نمایاں کمی بنیادی طور پر چاول کی برآمدات میں کمی کے باعث ہوئی، جس کا حجم تقریباً 1.2 ارب ڈالر بنتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ چاول کی برآمدی مقدار میں کمی نہیں ہوئی بلکہ پاکستان کو قیمت کے معاملے میں انڈیا سے سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑا۔‘
جام کمال نے کہا کہ انڈیا نے عالمی مارکیٹ میں چاول پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ رعایتی قیمتوں پر فروخت کیے، جس کے باعث پاکستانی برآمدات کرنے والوں کے لیے مقابلہ مشکل ہوا۔ عالمی مارکیٹ میں کامیابی کے لیے قیمت کے اعتبار سے مسابقتی ہونا انتہائی اہم ہے کیونکہ صارفین قیمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستانی باسمتی چاول اعلیٰ معیار کا ہے اور پاکستان نے دنیا کے کئی خطوں میں اس کی مارکیٹ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
تل اور چینی کی برآمدات
وزیر تجارت جام کمال نے بتایا کہ تل کی برآمدات میں بھی تقریباً 100 ملین ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ ’’گذشتہ سال پاکستان نے تقریباً 400 ملین ڈالر کی چینی برآمد کی تھی۔ لیکن رواں سال چینی کی برآمد کی اجازت نہ دیے جانے کے باعث اس مد میں تقریباً 400 ملین ڈالر کی کمی ہوئی۔‘‘
<p>چھ اپریل، 2023 کو کراچی کی بندرگاہ پر ایک جہاز پر رکھے شپنگ کنٹینرز نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
1



English (US) ·