مردان: پولیس اہلکار نے ’سخت عقائد‘ پر گردوارے کے نگران سکھ جوڑے کو قتل کیا

3 months ago 42

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ سے ہونے والے قتل کے واقعے میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ پولیس اہلکار خود ایک پولیس اہلکار تھا۔

پس منظر اور معاملے کی فطرت

مردان میں واقع ایک تاریخی گوردوارے میں تقریباً تین سال قبل سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات رہنے والے ایک پولیس اہلکار نے اپنے سابقہ فرائض کے بعد تقریباً ہفتے سے ایک منٹ قبل ایسے وقت میں فائرنگ کا واقعہ پیش کیا جب یہ گوردوارہ تقریباً چار سو افراد کے ساتھ بھرپور ہوا ہوا تھا۔ اس واقعے سے پہلے، پولیس اہلکار نے ایک سکھ جوڑے کے خلاف فائرنگ کا واقعہ پیش کیا، جس سے دونوں افراد ہلاک ہوگئے۔

یہ واقعہ مردان میں واقع ایک تاریخی گوردوارے میں پیش ہوا، جس کا نام ڈیرہ ہوتی والا بابا کرم سنگھ ہے۔ یہ گوردوارہ تقریباً 150 سال پرانا ہے اور تقریباً 70 سالہ جگنات سنگھ اور ان کی اہلیہ کی رہائش گاہ تھا۔

قتل کے واقعے کے اہم تفصیلات

ڈی پی او مسعود بنگش نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس اہلکار شیر شاہ 2011 میں پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہوا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم تقریباً تین سال قبل اسی گوردوارے پر سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات رہ چکا ہے۔

ڈی پی او نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو ٹریس کیا گیا اور اسی لباس میں گرفتار کیا گیا جس میں وہ واردات کے وقت موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ملزم نے ذاتی سوچ اور سخت نظریات کی بنیاد پر یہ اقدام کیا۔

ڈی پی او نے مزید بتایا کہ ملزم کے والد بھی پولیس میں ملازم ہیں۔

تجارتی تجزیہ

اس واقعے کے بعد، سکھ برادری نے اپنے Members کے لیے فوری بھرتی کی اور پوری برادری نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔

اس واقعے کے بعد، پولیس اہلکار کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے سزا کی یوں کہیں ہوئی۔

مضامین

  • گوردوارے کے اندر فائرنگ سے ہونے والے قتل کے واقعے میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
  • اس پولیس اہلکار نے اپنے سابقہ فرائض کے بعد تقریباً ہفتے سے ایک منٹ قبل فائرنگ کا واقعہ پیش کیا۔
  • اس واقعے سے پہلے، پولیس اہلکار نے ایک سکھ جوڑے کے خلاف فائرنگ کا واقعہ پیش کیا، جس سے دونوں افراد ہلاک ہوگئے۔
  • اس واقعے کے بعد، سکھ برادری نے اپنے Members کے لیے فوری بھرتی کی اور پوری برادری نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔

یہ کیا کہنا ہے؟

اس واقعے کے بعد، پوری قوم نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ پاکستان میں امن اور ترقی کے لیے ایک بڑی چیلنج کا باعث بن گیا ہے۔

اس واقعے کے لیے، ہمیں قومی یکجہتی کا اظہار کرنا چاہئے اور ان تمام افراد کو پوری حمایت کرنی چاہئے جنہوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

اس واقعے کے لیے، ہمیں قومی یکجہتی کا اظہار کرنا چاہئے اور ان تمام افراد کو پوری حمایت کرنی چاہئے جنہوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

Read Entire Article
Chatroom