امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش میں ایران کے سکیورٹی چیف سے رابطہ کیا ہے تاکہ ملک پر نئے امریکی حملے کو روکا جا سکے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضایی کو ایک خط بھیجا ہے۔ اخبار کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قدم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ اس خط اور اس کے بعد امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں امن تجویز کی تفصیلات کی بجائے مذاکرات کے لیے ممکنہ فریم ورک پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ نے خلیجی ممالک سے توانائی کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں۔
جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کی اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی شروع کر دی، جہاں سے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا، اور اب وہ اس کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر باقاعدگی سے حملے کرتا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ نے ملک کی معیشت کو دبانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
While our Brave Armed Forces are fully prepared to defend the Homeland, Iran continues to give diplomacy a chance to succeed. We remain in close and ongoing contact with intermediaries to review ideas that can ensure implementation of our 7-Day Plan in even less than a week.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) October 28, 2026وال سٹریٹ جرنل نے بدھ کو یہ بھی رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے کئی خلیجی عرب ممالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ ’مختصر اور شدید فوجی مہم‘ کے لیے تیار رہیں۔
تاہم، اخبار نے اس بات چیت سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب، ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی نئے حملے کا وسیع تر جوابی کارروائی سے جواب دے گی، جب کہ رضایی کا کہنا ہے کہ وہ ڈیٹا سینٹرز اور دیگر مصنوعی ذہانت کے اہداف سمیت امریکہ سے وابستہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہیں: ایران
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو بتایا کہ تہران مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے طریقوں پر ثالثوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اگرچہ ہماری بہادر مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں، لیکن ایران سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دے رہا ہے
’ہم ثالثوں کے ساتھ قریبی اور مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ان تجاویز کا جائزہ لیا جا سکے جو ہمارے سات روزہ منصوبے پر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں عمل درآمد کو یقینی بنا سکیں۔‘
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے بدھ کو رپورٹ کیا ہے کہ قطر کی قیادت میں علاقائی ثالث تین نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور جنگ کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کے لیے ’سفارتی معاہدے‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں امریکی، اسرائیلی اور دیگر علاقائی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قطری حکام ایران کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ’امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں کچھ نرمی کے بدلے اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کو بمباری کا نشانہ بننے والی اپنی ایٹمی تنصیبات کے دورے کی اجازت دے۔‘
<p class="rteright">امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 27 اکتوبر، 2026 کو مشی گن میں وسط مدتی انتخابی مہم کی ریلی سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·