صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی پولیس ایک انوکھے مقدمے کی تفتیش کر رہی ہے۔ یہ مقدمہ آلو کے چپس کے پیکٹ میں پستول کی گولی کا خول برآمد ہونے کا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لنڈی کوتل میں ایک دکان دار سے بچے نے مقامی سطح پر بننے والے چپس کا پیکٹ خریدا اور کھولنے پر پتہ چلا کہ پیکٹ میں چپس کے ساتھ پستول کی گولی کا خول موجود ہے۔
لنڈی کوتل تھانے کے ایس ایچ او زاہد خان نے بتایا کہ مذکورہ دکان دار کو حراست میں لے لیا گیا۔
زاہد خان کے مطابق دکان دار کا کہنا ہے کہ ’پیکٹ میں گولی کا خول برآمد ہونے کے واقعے سے میرا کوئی تعلق نہیں کیوں کہ چپس تو ہم کارخانے سے لیتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’چپس بنانے والا کارخانہ چارسدہ میں واقع ہے اور وہاں کی مقامی پولیس کو بھی اس حوالے سے اطلاع دی گئی ہے تاکہ تفتیش ہو سکے۔‘
جس بچے کے چپس کے پیکٹ میں خول برآمد ہوا تھا، اس کے والد حاجی خان شنواری نے بتایا کہ بچہ پیکٹ گھر لایا تو اس میں بھاری خول سا موجود تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ ’بچے نے مجھے بتایا کہ پیکٹ میں یہ بھاری چیز موجود ہے تو جب دیکھا تو وہ پستول کی گولی کا خول تھا۔ اس کے بعد پولیس کو میں نے اطلاع دی۔‘
حاجی خان نے بتایا کہ بعد ازاں مقامی دکان داران سے ملے اور تھانے بھی گئے اور معاملے کو اسی پر ختم کر دیا کہ آئندہ احتیاط سے کام لیا جائے۔
انہوں نے بتایا ’غلطی ہوجاتی ہے اور متعلقہ افراد نے غلطی تسلیم کی لیکن یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ خوراک کی اشیا کا باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس موجود ہو۔‘
خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں چپس بنانے والے درجنوں کارخانے موجود ہیں۔
.png)
9 months ago
35


English (US) ·