لاہور پولیس نے مزنگ کے علاقے میں جمعرات کو سکوٹی پر سوار لڑکی کو موٹرسائیکل سوار کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔
مزنگ لنک روڈ پر گذشتہ روز سکوٹی سوار ایک لڑکی پر موٹر سائیکل سوار کے تشدد کی سی سی ٹی وی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے سکوٹی پر سوار لڑکی کا راستہ روکا، اسے موٹرسائیکل سے گرایا، تھپڑ مارے اور بال نوچے۔ اس موقعے پر وہاں ہجوم اکٹھا ہوگیا اور لڑکی کو مزید تشدد سے بچایا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور لڑکی کے والد کی مدعیت میں تھانہ مزنگ میں مقدمہ درج کر کے ملزم کی تلاش شروع کی گئی۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’واقعے کے بعد فوری طور پر سیف سٹی کیمروں کے ذریعے موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کی مدد سے ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کی شناخت غلام مصطفیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ ملزم چنیوٹ کا رہائشی ہے اور روزگار کے لیے لاہور آیا ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق: ’ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ سرِراہ خواتین کا راستہ روکنا، ہراساں کرنا اور تشدد کرنا ناقابلِ برداشت ہے۔ خواتین کو خوفزدہ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہوگی اور خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔‘
دوسری جانب ملزم نے پولیس کو بیان دیا کہ اوور ٹیک کی وجہ سے جینز اور ہیلمٹ کی وجہ سے انہوں نے سکوٹی سوار لڑکی کو لڑکا سمجھ کر ہاتھ اٹھایا۔
متاثرہ لڑکی نے مقدمے میں مؤقف اپنایا کہ ’ملزم نے مجھے بالوں سے کھینچا، گالم گلوچ کی اور ہراساں کیا اور بیگ چھین کر زمین پر مارا، جس سے 85 ہزار مالیت کا لیپ ٹاپ بھی ٹوٹ گیا۔ تشدد سے میرے ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور چہرے پر زخم آئے۔‘
پاکستان میں خواتین کے الیکٹرک سکوٹیز اورگاڑیاں چلانے کے رحجان میں غیر معمولی اضافہ ہوتا جارہا ہے، لیکن معاشرتی رویوں کی وجہ سے خواتین کو گھروں، دفاتر یا بازاروں کے علاوہ اب سڑکوں پر بھی ناخوشگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن اسما نواز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’جس طرح سکوٹی سوار بچی کو سفر کے دوران سڑک پر ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مرد عورت پر بالادستی کی سوچ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسے واقعات سے بچیوں کو سڑک پر نکلتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے، لہذا اس قسم کے افراد کو سمجھانے کے لیے قانونی کارروائی ضروری ہے جبکہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شعوری آگہی بھی بہت اہم ہے۔‘
<p class="rteright">واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل سوار ملزم نے سکوٹی پر سوار لڑکی کا راستہ روکا، اسے موٹرسائیکل سے گرایا، تھپڑ مارے اور بال نوچے (ویڈیو سکرین گریب/سی سی ٹی وی فوٹیج/ لاہور پولیس)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·