فیکٹ چیک: ٹرمپ نے چاند کو امریکا کی ملکیت کہہ دیا، مگر کیا کوئی ملک چاند کا مالک بن سکتا ہے؟ جانیے

1 month ago 12

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی جس میں انہوں نے چاند کی تصویر کے ساتھ ’’چاند ہمارا ہے‘‘ لکھا۔ پوسٹ حقیقی ہے، لیکن کیا اس کا مطلب واقعی یہ ہے کہ امریکا نے چاند پر اپنی ملکیت کا اعلان کر دیا ہے؟ دعویٰ کیا ہے؟ 6 ستمبر کو ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر چاند کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ’چاند ہمارا ہے‘ لکھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ پھیل گیا کہ امریکی صدر نے چاند کو امریکا کی ملکیت قرار دے دیا ہے۔         View this post on Instagram                       BREAKING: President Trump declares the Moon is a U.S. territory. pic.twitter.com/BfG1obnxd3 — Polymarket (@Polymarket) September 6, 2026 BREAKING: Trump declares the moon is now The Moon of America. — Morgan J Freeman (@mjfree.bsky.social) 2025-01-23T23:30:10.385Z حقیقت کیا ہے؟ فیکٹ چیکنگ کے مطابق ٹرمپ کی مذکورہ پوسٹ حقیقی ہے اور اس کے الفاظ بظاہر چاند پر امریکی ملکیت کا تاثر دیتے ہیں۔ تاہم اسے امریکا کی جانب سے چاند پر باضابطہ قانونی دعویٰ قرار دینا درست نہیں۔ پوسٹ کے ساتھ کوئی ایگزیکٹو آرڈر یا ایسا قانونی اعلان جاری نہیں کیا گیا جس سے چاند امریکی علاقہ بن جائے۔ کوئی ملک چاند کا مالک نہیں بن سکتا: امریکا 1967 کے آؤٹر اسپیس ٹریٹی کی توثیق کر چکا ہے جس کے آرٹیکل II کے تحت کوئی بھی ملک خودمختاری، قبضے یا کسی دوسرے ذریعے سے چاند سمیت کسی آسمانی چیز کو اپنی قومی ملکیت قرار نہیں دے سکتا۔ چین، روس، بھارت اور جاپان سمیت خلائی سرگرمیوں میں شامل کئی دیگر ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ ہیں۔ نتیجہ ٹرمپ نے واقعی ’’چاند ہمارا ہے‘‘ لکھا تھا، لیکن امریکا نے چاند کو باضابطہ طور پر اپنی سرزمین قرار نہیں دیا۔ لہٰذا وائرل پوسٹ حقیقی ہے، مگر اسے قانونی طور پر چاند پر امریکی ملکیت کے اعلان کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن ہو گا۔
Read Entire Article
Chatroom