وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جمعرات کو 49 شہریوں کو جعلی عمرہ ویزے، فضائی ٹکٹ اور سفری پیکجز فروخت کرکے 70 لاکھ روپے (تقریباً 25 ہزار ڈالر) کا فراڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
پاکستان سے ہر ماہ ہزاروں شہری عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں اور مکہ اور مدینہ میں مقدس مقامات کی زیارت کرتے ہیں۔
پاکستانی وزارت مذہبی امور ہر سال تصدیق شدہ عمرہ کمپنیوں کی فہرست جاری کرتی ہے تاکہ زائرین عمرہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے بھیس میں لوگوں کو دھوکہ دینے والے فراڈیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (اے ایچ ٹی سی) کراچی نے بتایا کہ انہوں نے کاروانِ سفر ٹریول اینڈ ٹورز سے وابستہ ایک شخص، اشتیاق علی کو گرفتار کیا ہے، جس پر شہریوں کو عمرہ ویزے، فضائی ٹکٹ اور سفری پیکجز فراہم کرنے کے بہانے دھوکہ دینے کا الزام ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے 49 افراد سے تقریباً 70 لاکھ روپے وصول کیے، لیکن انہیں وعدے کے مطابق عمرہ ویزے فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
ادارے نے بتایا کہ اس کے بجائے ملزم نے جعلی فضائی ٹکٹ اور ہوٹلوں کے واؤچر جاری کیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایف آئی اے نے کہا کہ ملزم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 406 (امانت میں خیانت)، 420 (دھوکہ دہی اور بددیانتی سے کسی کو جائیداد حوالے کرنے پر آمادہ کرنا) اور 109 (جرم میں معاونت کی سزا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ اس نے ایک دوسرے ملزم کو بھی گرفتار کیا ہے جو انسانی سمگلنگ اور ویزا فراڈ کے ایک مقدمے میں مطلوب تھا۔ یہ مقدمہ 2014 میں درج کیا گیا تھا۔
ادارے کے مطابق ملزم شہزاد بلوچ کا نام مقدمے کی پہلی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) میں شامل تھا اور کئی سال تک عدالتی کارروائی میں پیش نہ ہونے کے باعث مجاز عدالت نے اسے اشتہاری قرار دے دیا تھا۔
ایف آئی اے نے کہا کہ شہزاد بلوچ مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ اور ویزا فراڈ کے ایک نیٹ ورک کا حصہ تھا، جو پاکستانی شہریوں کو جعلی ویزوں کے ذریعے پیسوں کے عوض متحدہ عرب امارات بھیجنے میں ملوث تھا۔ اسے بدھ کو گرفتار کیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق دونوں مقدمات میں قانونی کارروائی اور تحقیقات جاری ہیں۔
ادارے نے مزید بتایا کہ عمرہ پیکج فراڈ کے مقدمے میں تفتیش کار خرد برد کی گئی رقم کا سراغ لگانے کے ساتھ ساتھ دیگر ممکنہ متاثرین کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔
<p>پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے 5 نومبر 2026 کو جاری کی گئی تصویر میں کراچی میں عمرہ فراڈ کے الزام میں گرفتار ایک شخص کے ساتھ ادارے کا اہلکار بیٹھے ہوئے نظر آ رہا ہے (ایف آئی اے)</p>
.png)
3 hours ago
2




English (US) ·