طورخم بارڈر پر 10 دنوں سے پڑی لاش، جسے اٹھانے والا کوئی نہیں

6 months ago 40

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کی بلدیاتی حکومت کے نمائندے شاہ خالد نے جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد پر گذشتہ تقریباً 10 روز سے ایک لاوارث لاش پڑی ہے، جسے جمعرات کو دونوں ملوں کے ایک جرگے کی کوششوں کے باوجود اٹھایا نہیں جا سکا۔

تاحال سرکاری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا کہ یہ لاش پاکستانی یا افغان شہری کی ہے، تاہم پاکستان کے ضلع خیبر کے جرگے کے ارکان کے مطابق افغان وفد کا کہنا ہے کہ یہ لاش ایک افغان محنت کش کی ہے۔

ضلع خیبر کے سرکاری حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ اس لاش کو اٹھانے کے سلسلے میں ضلع خیبر کے مقامی مشران اور افغانستان کے کچھ مشران کے جرگے نے آج طورخم پر ملاقات کی۔

اس موقعے پر پاکستانی جرگے میں شامل مقامی مشران نے سفید رنگ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

khyber jirga.jpeg

شاہ خالد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آج اس سلسلے میں افغان جرگے سے ملاقات کی اور جرگے کی درخواست پر آج شام ساڑھے پانچ بجے تک عارضی فائر بندی کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

شاہ خالد نے بتایا کہ ملاقات کا مقصد لاش کی شناخت اور اسے دفنانا تھا، تاہم وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا لیکن اب بھی ’امید‘ ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’افغان وفد نے لاش کی شناخت کی اور بتایا کہ یہ دراصل سرحد پر کام کرنے والے افغان پورٹر (ویل چیئر چلانے والا مزدور) ہے، جسے ذہنی مسائل بھی درپیش تھے، جو جھڑپوں کے دوران گیٹ کے پاس آیا اور مارا گیا۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

شاہ خالد نے بتایا کہ ’جب لاش کی شناخت ہو گئی کہ یہ افغان شہری کی ہے، تو افغان وفد نے بتایا کہ لاش اٹھانے سے پہلے وہ افغان حکام سے بات کریں گے، جس کے بعد وہ چلے گئے۔ پھر فائر بندی کا وقت بھی ختم ہو گیا اور وفد واپس نہیں آیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں سرکاری حکام نے یہ اختیار دیا تھا کہ اگر لاش کی شناخت نہ ہو سکی تو اسے اٹھا کر پاکستان میں عزت سے دفن کیا جائے لیکن چونکہ لاش کی شناخت ہوگئی تو افغان وفد سے لاش اٹھانے کی درخواست کی گئی۔

شاہ خالد کے مطابق: ’لاش کی حالت بھی خراب تھی اور پہچان سے باہر تھی لیکن کچھ نشانیوں سے شناخت ہوئی، جیسے سرخ ٹوپی، جو وہاں پر موجود تھی جبکہ ان کے پہنے ہوئے چپل سے بھی شناخت میں مدد ملی۔ ‘

انہوں نے بتایا کہ اب بھی ہماری کوشش ہے کہ افغان وفد سے رابطہ قائم رکھ سکیں اور لاش کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان حکام اسے اٹھائیں۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے رابطے کی کوشش کی، لیکن اس خبر کی اشاعت تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Read Entire Article
Chatroom