14 اگست 1947 کو، برصغیر کے کروڑوں لوگوں کو ایک نئے ملک کے وجود میں آنے کی خبر سنائی گئی۔ یہ خبر ریڈیو پاکستان کی جانب سے نشر کی گئی، جس کے ذریعے لاکھوں سامعین تک پہنچی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس تاریخی واقعے کے پیچھے ایک ایسا مائیک موجود تھا، جو آج اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان کے میوزیم میں محفوظ ہے۔
Background & Context
پاکستان کے قیام سے قبل، برصغیر کے اس حصے میں ریڈیو کا بنیادی ڈھانچہ قائم ہو چکا تھا۔ 1935 میں پشاور میں ٹرانسمیٹر نصب کیا گیا، جبکہ دسمبر 1937 میں لاہور میں ایک ٹرانسمیٹر لگایا گیا۔
1938 میں ڈھاکہ میں ریڈیو ٹرانسمیٹر نصب ہوا، لیکن قیام پاکستان کے اعلان کے لیے لاہور کو خاص اہمیت حاصل ہوئی۔ سعید احمد شیخ کے مطابق، لاہور میں خبر کا شعبہ موجود تھا اور اس وقت کے سیاسی حالات کے باعث یہ شہر اہم سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھا۔
Key Details
14 اگست 1947 کو، مصطفیٰ علی حمدانی کی آواز ریڈیو پاکستان لاہور سے قیام پاکستان کا اعلان کرتے ہوئے لاکھوں سامعین تک پہنچی۔ اس تاریخی واقعے میں مائیک کا کردار بنیادی تھا۔
براڈکاسٹر مائیک کے سامنے بولتا، مائیک آواز کو برقی سگنل میں تبدیل کرتا اور پھر ٹرانسمیشن کا نظام اس سگنل کو ریڈیو لہروں کے ذریعے سامعین تک پہنچاتا۔
What Experts Say
سعید احمد شیخ کے مطابق، اس تاریخی نظام کو سمجھنے کے لیے مائیک اور ٹرانسمیٹر دونوں کا کردار سمجھنا ضروری ہے۔ یعنی ایک طرف آواز تھی، دوسری طرف اسے ہوا کے راستے لاکھوں سامعین تک پہنچانے کا نظام۔
Key Takeaways
- پاکستان کے قیام سے قبل، برصغیر کے اس حصے میں ریڈیو کا بنیادی ڈھانچہ قائم ہو چکا تھا۔
- لاہور میں خبر کا شعبہ موجود تھا اور اس وقت کے سیاسی حالات کے باعث یہ شہر اہم سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھا۔
- مصطفیٰ علی حمدانی کی آواز ریڈیو پاکستان لاہور سے قیام پاکستان کا اعلان کرتے ہوئے لاکھوں سامعین تک پہنچی۔
- اس تاریخی نظام کو سمجھنے کے لیے مائیک اور ٹرانسمیٹر دونوں کا کردار سمجھنا ضروری ہے۔
What This Means For You
یہ تاریخی واقعہ پاکستان کے قیام کے لیے ایک یادگار ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ریڈیو پاکستان کا کردار پاکستان کے قیام میں کتنا اہم تھا۔
اس کی یاد کا مطلب ہے کہ ہم اپنے تاریخ کو یاد رکھیں اور اپنے ملک کے قیام کی یاد کو زندہ رکھیں۔
.png)
1 day ago
2




English (US) ·