سینیٹ کا اجلاس: مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

7 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف قرارداد پیش کی۔ امیرمقام کی قرارداد میں کہا گیا کہ 27 اکتوبر کو بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا،  بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر جبری قبضے کی مذمت کرتے ہیں، یہ ایوان بھارتی قبضے کو ناجائز قرارد دیتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے چناؤ کے حق کی حمایت کرتا ہے، ایوان اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل کرائے، یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کی سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھے۔ بعدازاں ایوان نے کشمیر کے حق میں قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری دےدی۔ شیری رحمان اور ناصر بٹ میں تلخ کلامی دریں اثنا سینیٹ کے اجلاس میں شیری رحمان اور ناصر بٹ میں تلخ کلامی ہوئی جس پر شیری رحمان ایوان سے چلی گئیں، ان کے بعد پیپلز پارٹی کے اراکین بھی ایوان سے نکل گئے۔ جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے لیے دعائے مغفرت سینیٹر اعظم خان سواتی نے ایوان میں کہا کہ میں آج جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کا جنازہ پڑھ کر آرہا ہوں، ان کے بارے میں سنا ہے وہ بڑے اصول پسند انسان تھے، یہ ملک آئین اور قانون کے مطابق چلے گا تو ملک آگے چلے گا۔ سینیٹ اجلاس میں مرحوم جنرل عبدالوحید کاکڑ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعا کروائی گئی، اِس وقت اجلاس میں حکومتی بنچوں پر صرف دو ارکان بیٹھے ہوئے تھے۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ اخبار میں خبر آئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں میں تبدیلیاں کی ہیں، خصوصاً این اے 2 تھری فو، 44 اور 45 کے حلقوں کی حدود میں تبدیلیاں کی گئیں، حلقوں کی حدود میں تبدیلیاں کرتے ہوئے عوام سے اعتراضات نہیں لیے گئے، یہ تبدیلیاں کسی ایک امیدوار کو جتوانے کیلئے کی جاتی ہیں۔
Read Entire Article
Chatroom