Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد کردی گئی جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر عون عباس بپی نے ایوان میں بابی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد پیش کی جس کی حکومت کی جانب سے مخالفت کی گئی۔ قرارداد مسترد ہونے پر پی ٹی آئی سینیٹرز چئیرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور شدید احتجاج و نعرے بازی کی۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہتے ہیں، آج اس پر بات کرنی ہے تو تحریک کیوں پیش کی جارہی ہے؟۔ سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن پر چیزیں کلئیر ہوگئی ہیں، سلمان صفدر نے رپورٹ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سیکورٹی پر مطمئن ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا جیل کے ڈاکٹر ہر دوسرے روز معائنہ کرتے ہیں، اب تک باہر کے ڈاکٹروں نے 25 مرتبہ چیک اپ کیا، سپریم کورٹ میں ان کی پٹیشن پر فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا گیا، سپریم کورٹ میں انہوں نے کہا ہے انہیں کسی اور ڈاکٹر سے چیک اپ کیا جائے، حکومت نے سپریم کورٹ کو کہا ہے کہ کوئی اور ڈاکٹر کہیں گے تو ہم ان سے چیک اپ کروائیں گے، سپریم کورٹ سے جو بھی حکم ہوگا حکومت اس پر عمل کرے گی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے حوالے سے 4 ماہ کی غفلت والی کوئی بات نہیں لہٰذا ان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے، یہ کہنا غلط ہے کہ 4 ماہ سے شکایت کی جا رہی تھی، جب بھی عمران خان نے شکایت کی ان کا چیک اپ ہوا اس لیے 4 ماہ کی غفلت والی کوئی بات نہیں۔
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آنکھ کی بینائی ایک دم سے ختم نہیں ہوسکتی، رانا ثناء اللہ کو جو لکھ کر دیا گیا انہوں نے وہ پڑھ کر سنا دیا، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے لاپرواہی ہوئی ہے، جن ڈاکٹروں سے چیک اپ کروایا گیا وہ اس کے ماہر ہی نہیں تھے، ان کے وکلاء اور اہلخانہ کو کیوں مطلع نہیں کیا گیا؟۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کسی جرنیل، بیوروکریٹ یا جج کو جیل میں نہیں دیکھا، صرف سیاستدان جیلوں میں ہوتے ہیں، ہمیں کہیں سے تو واپس جانا پڑے گا، بیرسٹر سلمان کی رپورٹ میں جو لکھا ہے ان کی صحت کے حوالے سے وہ پڑھیں، تسلیم کریں کہ غلطی ہوئی ہے۔
سینیٹر فیصل جاوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2025 میں بانی پی ٹی آئی کی بینائی بلکل ٹھیک تھی، پھر اچانک بانی پی ٹی آئی کی نظر چلی گئی، یہ وہ شخص ہے جس کا علاج نہیں کروایا جارہا جس نے غریبوں کیلئے کینسر اسپتال بنایا۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ بار بار ہم آواز اٹھاتے رہے ان کے ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے، دو سال سے ہماری ملاقاتیں بند ہیں، ہم بار بار کہہ رہے تھے سیاست دانوں کو چھوڑیں ان کے ڈاکٹروں کو تو ان سے ملنے دیں، بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر شفاء آئی ہسپتال داخل کروایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے معالجین سے ملوایا جائے، نوازشریف کی بیماری پر بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا ان کو تمام طبی سہولیات دی جائیں، بانی پی ٹی آئی نے صرف اعلان نہیں کیا بلکہ نوازشریف کو جیل میں تمام سہولیات بھی دلوائیں۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں، قید میں شخص انسان کو علاج معالجے کی سہولتیں ملنی چاہئیں، یہ استدلال بنایا جارہا ہے کہ بیمار شخص بہت مشہور و معروف ہے، لہٰذا اس مبالغے میں ایک کردار تخلیق کرلیا جاتا ہے اور افسانے گھڑے جاتے ہیں، وہ ایک سزایافتہ مجرم ہے جس کو بددیانتی اور خیانت کے جرم میں عدالتوں سے سزا ہوچکی ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ میرا لیڈر جب علاج کیلئے باہر گیا تو یہ اس کو عدالتی مفرور کہا کرتے تھے، ایسی ہی تکلیف ہمیں بھی ہوتی تھی، اڈیالہ جیل کے ریکارڈ کو چیک کیا جائے، کیا نواز شریف کو 6 کمروں کی سہولت تھی؟، یہاں پر بیڈروم الگ، کچن الگ، ڈرائنگ روم الگ ملا ہوا ہے۔ پرویز رشید کی تقریر پر پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج شروع کردیا۔