پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا ذکر ہو تو حرمین شریفین سے محبت، مذہبی عقیدت اور برادرانہ رشتوں کا حوالہ سب سے پہلے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاسی و مذہبی قیادت نے سعودی عرب پر حملوں کو ہمیشہ ریڈ لائن قرار دیا ہے۔
لیکن کیا یہ تعلق صرف عقیدت کا معاملہ ہے؟ کیا ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کو مشرق وسطیٰ کی ایک اور جنگ سمجھ کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا ایک نکتہ ہے؟
سعودی عرب میں پاکستانیوں کا روزگار، اربوں ڈالر کی ترسیلات زر، پاکستان کے لیے مالی معاونت، سرمایہ کاری کے امکانات اور علاقائی دفاعی تعاون اس رشتے کو براہ راست پاکستان کے قومی مفاد سے جوڑتے ہیں۔ حرمین شریفین کی حرمت اپنی جگہ مقدم، مگر سعودی عرب کا استحکام پاکستان کی معیشت اور لاکھوں خاندانوں کے مستقبل سے بھی وابستہ ہے۔
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرحالیہ حوثی حملوں نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ انتہاپسند صرف فوجی تنصیبات ہی کو نشانہ نہیں بناتے، یہ شہری مقامات پر حملے کرکے عام لوگوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ایسے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتے ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔
لیکن ان حملوں کا معاملہ صرف انسانی جانوں کے نقصان تک محدود نہیں۔ سعودی عرب وژن 2030 کے ذریعے تیل پر انحصار کم کرنے، سیاحت کو فروغ دینے اور خود کو ٹیکنالوجی، تجارت اور سرمایہ کاری کے عالمی مرکز کے طور پر ابھارنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر ہوائی اڈے خطرے میں ہوں، پروازیں متاثر ہوں اور توانائی کی تنصیبات حملوں کے خدشے سے دوچار رہیں تو سرمایہ کاروں کا اعتماد اور ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں اور یہ ہی حوثیوں کا اصل مقصد ہے۔
لیکن سعودی عرب کی معیشت میں عدم استحکام پاکستان کے لیے بھی بڑا معاشی خطرہ ہے۔ اس کی سب سے واضح وجہ دونوں ممالک کے درمیان روزگار اور ترسیلات زر کا تعلق ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں سعودی عرب سے پاکستان کو تقریباً 9.783 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جبکہ مجموعی ترسیلات زر 41.585 ارب ڈالر رہیں۔ یوں سعودی عرب پاکستان کے لیے ترسیلات زر کا سب سے بڑا انفرادی ذریعہ رہا، جس کا حصہ مجموعی رقم کا تقریباً 23.5 فیصد بنتا ہے۔
یہ محض اعداد و شمار نہیں۔ ان رقوم کے پیچھے وہ پاکستانی کارکن ہیں جو اپنے خاندانوں سے دور رہ کر محنت کرتے ہیں۔ ان کی بھیجی ہوئی رقم سے گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں، بچوں کی فیسیں ادا ہوتی ہیں، علاج معالجے کے اخراجات اٹھائے جاتے ہیں اور چھوٹے کاروباروں کو سہارا ملتا ہے۔ قومی سطح پر یہ رقوم زرمبادلہ کی دستیابی بہتر بنانے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس تعلق کی اہمیت خیبرپختونخوا بالخصوص اس کے شمالی اضلاع میں مزید نمایاں ہے۔ ان علاقوں کے بہت سے خاندانوں کے لیے سعودی عرب میں روزگار کرنے والے افراد کی آمدنی معاشی تحفظ کا اہم ذریعہ ہے۔ ان کی بھیجی ہوئی رقم صرف بینک ٹرانزیکشن نہیں بلکہ گھر کا راشن، بچوں کی تعلیم، والدین کی دوائیں اور گھر کی تعمیر کے اخراجات پورے کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔
مقامی سطح پر محدود معاشی مواقع کے باعث بیرون ملک روزگار پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے لیے سعودی عرب میں معاشی استحکام براہ راست اہمیت رکھتا ہے۔ اگر جنگ طویل ہو، کاروباری سرگرمیاں سکڑ جائیں یا نئی بھرتیاں محدود ہوں تو اس کے اثرات پاکستان کے دور دراز علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ آمدنی میں کمی بچوں کی تعلیم، گھریلو اخراجات اور خاندانوں کے معیار زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس لیے سعودی عرب کا استحکام پورے پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کے ان گھرانوں کے لیے بھی اہم ہے جن کا اس ملک سے تعلق سفارتی معاہدوں کے بجائے روزگار اور محنت سے قائم ہے۔ پاکستان اور اس کے صوبہ خیبرپختونخوا کی معاشی مضبوطی کو سعودی عرب کے استحکام سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
سعودی عرب کی اہمیت ترسیلات زر تک محدود نہیں۔ جب پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں، قرضوں کی واپسی اور زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے تو سعودی مالی معاونت نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
2026 میں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس فراہم کرنے کا وعدہ کیا جبکہ سٹیٹ بینک میں پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں بھی توسیع کی گئی۔
اس نوعیت کی مالی معاونت پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے انتظام، زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے اور مالیاتی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مشکل معاشی حالات میں کسی دوست ملک کی جانب سے اربوں ڈالر کے ڈپازٹس برقرار رکھنا اور اضافی معاونت فراہم کرنا پاکستان کے لیے اہم سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر سعودی عرب خود طویل جنگ یا معاشی غیر یقینی سے دوچار ہو تو اس کی مالی ترجیحات اور علاقائی کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حوثی حملوں کا ایک اور اہم پہلو باب المندب جیسی اہم بحری گزرگاہوں کی سلامتی ہے۔ ان راستوں میں خلل جہاز رانی کے اخراجات، ترسیل کے اوقات اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستان جیسی درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت میں اس کے اثرات توانائی، خوراک، خام مال اور صنعتی پیداوار کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
سعودی عرب میں سلامتی کی صورت حال خراب ہونے سے سیاحت، ہوابازی، تعمیرات اور ٹیکنالوجی کے شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی کاروباری اداروں اور آئی ٹی کمپنیوں کے لیے بھی یہ خطرہ اہم ہے، کیونکہ سعودی عرب ان کے لیے کاروبار اور سرمایہ کاری کی ایک اہم منڈی ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ اہمیت اختیار کرتا ہے، تاہم ایسے معاہدوں کی افادیت صرف اعلانات سے نہیں بلکہ ان کے عملی نفاذ، واضح مقاصد اورعلاقائی سلامتی بہتر بنانے کی صلاحیت سے متعین ہوتی ہے۔
اگر سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کی ریڈ لائن ہے تو اس لکیر کی حفاظت صرف بیانات سے نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے موثر اور فعال دفاعی تعاون درکار ہے۔
مصنف عرب نیوز پاکستان کے نامہ نگار ہیں۔ یہ تحریر ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">ریاض کے مرکزی علاقے میں ایک پاکستانی ڈیلیوری ورکر 19 جولائی 2024 کو گرمی سے بچنے کے لیے وقفے کے دوران تصویر بنوا رہا ہے (ہیثم التبیع/ اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
2



English (US) ·