سزائے موت سے بچنے والی امریکی خاتون ہوش میں آگئیں، بات کر رہی ہیں: وکلا

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

امریکی ریاست ٹینیسی کی جیل میں گذشتہ ہفتے سزائے موت کے عمل سے بچ جانے والی خاتون قیدی کرسٹا پائیک کے وکلا نے منگل کو بتایا کہ وہ اب ہوش میں ہیں اور بات چیت بھی کر رہی ہیں، تاہم ان کی صحت کے بارے میں حتمی پیش گوئی ابھی ممکن نہیں۔

50 سالہ کرسٹا پائیک کو، جنہیں نوعمری میں کیے گئے ایک قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، ایک ہفتہ قبل ٹینیسی کی جیل میں دوا پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دی گئی تھیں، جنہیں جان لیوا سمجھا جاتا ہے۔

تاہم وہ ان انجیکشنز کے لگنے کے باوجود زندہ بچ گئیں اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تشویش ناک حالت میں بے ہوش تھیں اور وینٹی لیٹر پر رکھی گئی تھیں۔

کرسٹا پائیک کے وکلا نے منگل کو کہا کہ ’تمام تر امکانات کے برعکس‘ وہ اب ’ہوش میں ہیں، بات کر رہی ہیں اور بدستور انتہائی نگہداشت میں ہیں۔‘

انہوں نے ایک بیان میں کہا: ’ان کے بازوؤں کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود انہیں اب بھی بستر سے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کے ذریعے باندھ کر رکھا گیا ہے۔ ان کی صحت یابی طبی تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال ہے۔ ان کی طویل مدتی صحت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم کم از کم ہمیں ایک طویل بحالی کے عمل کی توقع ہے۔‘

وکلا نے ایک بار پھر ٹینیسی کے گورنر بل لی سے مطالبہ کیا کہ کرسٹا پائیک کی سزائے موت کو پیرول کے بغیر عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

گورنر لی نے اس ناکام پھانسی کے بعد آزادانہ تحقیقات مکمل ہونے تک ریاست میں سزائے موت پر عمل درآمد معطل کر دیا تھا۔

بعد ازاں جیل کے سربراہ نے بھی استعفیٰ دے دیا۔

سزائے موت کے بعد زندہ بچ جانے والی پہلی قیدی

کرسٹا پائیک کی قانونی ٹیم اس سے قبل پھانسی کے لیے استعمال ہونے والے نس میں انجیکشن لگانے کے طریقہ کار پر اعتراض کر چکی تھی۔ وکلا کا کہنا تھا کہ ان کی باریک رگوں اور خون کی بیماری کے باعث یہ طریقہ غیر ضروری اذیت کا سبب بن سکتا تھا۔

وکیل سٹیفن فیرل کے مطابق طبی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ سوئیاں رگ سے نکل سکتی ہیں یا اسے چھید سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں مہلک دوا خون میں شامل ہونے کے بجائے خاتون کے بازو میں پھیل سکتی ہے۔

عدالتی دستاویزات میں پینٹوباربیٹل کو ایک نہایت تیز اور جلن پیدا کرنے والا مادہ قرار دیا گیا ہے، جو جلد، بافتوں اور رگوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ دستاویز کے مطابق ہسپتال پہنچنے پر کرسٹا پائیک کے دونوں بازو ’سوجے، جھلسے اور چھالوں سے بھرے ہوئے‘ تھے۔

ڈیتھ پینالٹی انفارمیشن سینٹر، جو امریکہ میں سزائے موت سے متعلق اعداد و شمار اور تجزیے جاری کرتا ہے، کے مطابق کرسٹا پائیک پہلی قیدی ہیں جو ’پھانسی کے لیے دی جانے والی مہلک ادویات کی خوراکیں لینے کے بعد بھی زندہ بچ گئی ہیں۔‘

کرسٹا پائیک کا مقدمہ کم عمر مجرموں کو سزائے موت دینے کے حوالے سے ایک نئی بحث کا سبب بنا ہے، کیونکہ 1995 میں جب انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر 19 سالہ کولین سلیمر کو تشدد کے بعد قتل کیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 18 برس تھی۔

اس قتل نے قومی سطح پر اس وقت توجہ حاصل کی تھی جب سلیمر کی لاش ملی اور اس کے سینے پر ایک پینٹاگرام کندہ تھا، جسے عموماً شیطانی علامت سمجھا جاتا ہے۔

کرسٹا پائیک کے وکلا نے معافی یا رعایت کی درخواست کرتے ہوئے ان کی کم عمری، بچپن میں جنسی استحصال اور ذہنی صحت کے مسائل، جن میں پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) بھی شامل ہے، کا حوالہ دیا تھا۔

مقدمہ پہلے ہی خاصی توجہ حاصل کر چکا تھا کیونکہ اگر سزائے موت پر عمل درآمد ہو جاتا تو کرسٹا پائیک دو صدیوں سے زائد عرصے میں ٹینیسی کی جانب سے موت کے گھاٹ اتاری جانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔

طے شدہ پھانسی کی رات صحافی ان کے آخری الفاظ سننے اور ان کی موت کی تصدیق کے لیے موجود تھے۔

لیکن اس کے برعکس وہ حیرت زدہ ہو کر گواہان کے کمرے سے باہر نکلے اور بتایا کہ جان لیوا ادویات دیے جانے کے بعد بھی کرسٹا پائیک نہ صرف سانس لے رہی تھیں بلکہ خراٹے بھی لے رہی تھیں۔

ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق امریکہ میں 1976 سے اب تک 18 خواتین کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

پائیک کے وکلا نے منگل کو کہا کہ ’تمام تر امکانات کے برعکس‘ وہ اب ’ہوش میں ہیں، بات کر رہی ہیں اور بدستور انتہائی نگہداشت میں ہیں۔‘
بدھ, اکتوبر 7, 2026 - 10:30
Main image: 

<p class="rteright">وکلا کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران کرسٹا پائیک نے یکم اکتوبر 2026 عملے کی دو آئی وی لائنیں لگانے میں مدد کرنے کی بھی کوشش کی تھی (روئٹرز)</p>

type: 
SEO Title: 
سزائے موت سے بچنے والی امریکی خاتون ہوش میں آگئیں، بات کر رہی ہیں: وکلا
Read Entire Article
Chatroom