ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گندم، سیب اور گاجروں میں غذائیت کی مقدار 1960 کی دہائی کے مقابلے میں نصف رہ گئی ہے۔
تحقیق کے مطابق، مٹی کے معیار میں کمی کے باعث پھلوں اور سبزیوں میں موجود غذائی اجزا کی مقدار بھی نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔
ڈیپ سائنس وینچرز کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پوٹاشیم، میگنیشیم اور کاپر جیسے معدنیات کی اتنی ہی مقدار حاصل کرنے کے لیے اب 60 سال پہلے کے مقابلے میں دو گنا پھل اور سبزیاں کھانے کی ضرورت ہے۔
محققین کے مطابق، اناج، روٹی، گاجر، سیب اور مٹر سمیت مختلف غذاؤں میں کئی اہم غذائی اجزا کی مقدار 20 سے 50 فیصد تک کم ہوگئی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فصلوں میں غذائی اجزا کی کمی اور وزن گھٹانے والی ادویات، مثلاً اوزیمپک اور مونجارو، کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث برطانیہ میں کام کرنے کی عمر کے تقریباً 50 لاکھ بالغ افراد ضروری وٹامنز اور معدنیات کی محفوظ سطح سے نیچے جا سکتے ہیں۔
ڈیپ سائنس وینچرز میں موسمیاتی امور کے سینیئر ایسوسی ایٹ ول سمرز نے کہا کہ گذشتہ 60 برس سے غذائی تحفظ کو کیلوریز اور فی ہیکٹر پیداوار کی بنیاد پر جانچا جاتا رہا ہے اور ان پیمانوں پر نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم خوراک کے اندر موجود غذائی اجزا خاموشی سے کم ہوتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزن کم کرنے والی ادویات کے باعث جب لوگ کم کھاتے ہیں تو خوراک کے ہر لقمے کی غذائی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ان کے بقول، فصلوں کی افزائش، مٹی کی صحت، منڈیوں اور پالیسیوں میں بہتری کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کے ذرائع پہلے سے موجود ہیں، تاہم اب تک اس مسئلے کی پیمائش اور اس کی بنیادی وجوہات دور کرنے کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کئی دہائیوں سے فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے کی جانے والی افزائش اور کاشت کاری کے طریقوں نے فصلوں میں متعدد غذائی اجزا کی مقدار کم کردی ہے۔
1960 کی دہائی کے بعد سے فی ہیکٹر اناج کی پیداوار میں 215 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں غذائی قلت کی شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد رہ گئی ہے۔
تاہم، تحقیق کے مصنفین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں اب بھی دو ارب سے زیادہ افراد کم از کم ایک ضروری خرد غذائی جزو (مائیکرونیوٹرینٹ) کی طبی طور پر تشخیص شدہ کمی کا شکار ہیں۔
برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں یہ مسئلہ واضح ہے، جہاں لوگوں کی خوراک میں کیلوریز کی مقدار زیادہ ہونے کے باوجود سیلینیم اور فولیٹ جیسے غذائی اجزا کی کمی پائی جاتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سیلینیم کے اچھے ذرائع میں ثابت اناج اور برازیلی میوے شامل ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق گندم میں اس معدنی جزو کی مقدار کم ہونے کے باعث اب خواتین کو سیلینیم کی تجویز کردہ روزانہ مقدار کا صرف ایک تہائی حاصل کرنے کے لیے بھی ثابت گندم کی روٹی کے چار سلائس کھانے پڑ سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق، 1960 کی دہائی کے بعد متعارف کرائی گئی گندم کی اقسام میں سے ایک تہائی سے بھی کم ایسی ہیں جو زنک کی تجویز کردہ مقدار کے معیار پر پوری اترتی ہیں۔
تحقیق میں غذائی اجزا کی کمی کے سنگین صحت کے اثرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
سیلینیم کی کمی مدافعتی نظام کو کمزور کرتی اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے، جبکہ زنک کی کمی جلد، بالوں اور مدافعتی نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔
آئرن کی کمی سے تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ اسی طرح پوٹاشیم کی کم مقدار فالج کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں فالج کے باعث سالانہ تقریباً 26 ارب پاؤنڈ کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔
مارک لیونارڈ ٹرسٹ کی ٹرسٹ ایگزیکٹو سیان فرگوسن نے کہا کہ صحت مند مٹی ہی صحت بخش خوراک کی بنیاد ہے۔
ان کے مطابق، رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ مٹی کی صحت بحال کرنا ان چند اقدامات میں شامل ہے جن سے خوراک میں غذائی اجزا کی مقدار، فصلوں کی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بیک وقت بہتر بنائی جاسکتی ہے، جبکہ کسان آج بھی ان اقدامات سے معاشی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔
<p>کراچی کی ایک سبزی منڈی میں لوگ سبزیاں خرید رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>
.png)
3 hours ago
2



English (US) ·