وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آئندہ چند روز کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاجی مارچ اور دھرنوں کے پیش نظر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز پہنچانا شروع کر دیے ہیں جبکہ اسلام آباد میں ساڑھے 23 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
بیرون اضلاع سے آنے والی پولیس کے قیام کے لیے 54 سرکاری سکولوں سمیت مختلف سرکاری عمارتوں، کالجز، سپورٹس کمپلیکس اور دیگر مقامات کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خون، ادویات، ایمبولینسز اور ایمرجنسی بیڈز کے حوالے سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ انتظامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور پاکستان تحریک انصاف سمیت مختلف گروہوں کی جانب سے اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاج کے اعلانات کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
سکیورٹی پلان کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے 30 داخلی راستوں کو احتجاجی مارچ کے دوران سکیورٹی کے لیے بند کرنے کا منصوبہ ہے، جن میں 11 راستے راولپنڈی میں شامل ہیں۔ اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں کے علاوہ ریڈ زون اور ہائی سکیورٹی زون کو بھی خصوصی سکیورٹی حصار میں رکھا گیا ہے۔
ریڈ زون کے داخلی راستوں پر پہلے ہی کنٹینرز رکھے جا چکے ہیں، جبکہ شہر کے اہم راستوں اور شاہراہوں پر مزید رکاوٹیں لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے اس سے قبل ریڈ زون، ہائی سکیورٹی زون اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کی طلب کی تھی۔ دوسری جانب تازہ رپورٹس کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں تقریباً ایک ہزار کنٹینرز، ٹرک، ٹریلرز اور بھاری گاڑیاں تحویل میں لیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر اسلام آباد میں 23 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ ان اہلکاروں کی نگرانی کے لیے آٹھ ڈی آئی جیز، 10 ایس ایس پیز، 40 ایس پیز اور 58 ڈی ایس پیز شامل ہیں۔ راولپنڈی پولیس نے مقامی نفری کی معاونت کے لیے مزید نو ہزار اہلکار طلب کیے ہیں۔
اس کے علاوہ خیبر پختونخوا سے پنجاب آنے والے اہم راستے کی وجہ سے اٹک میں 30 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
مختلف اضلاع سے پولیس، پنجاب کانسٹیبلری اور دیگر فورسز کو اٹک بھیجا جا رہا ہے۔ راولپنڈی میں پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں بھی یکم اکتوبر تک منسوخ کر دی گئی ہیں، سوائے انتہائی ہنگامی حالات کے۔
اسلام آباد میں تعینات ہونے والی اضافی پولیس کے قیام کے لیے ضلعی انتظامیہ نے 54 سرکاری سکولوں اور تعلیمی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ان میں اسلام آباد ماڈل سکولز، ماڈل کالجز اور گرلز و بوائز ماڈل سکولز شامل ہیں، جو دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز اور مضافاتی علاقوں میں واقع ہیں۔
ان تعلیمی اداروں کو پولیس کے قیام کے لیے استعمال کیے جانے کے باعث وہاں معمول کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ بیرونِ اضلاع سے آنے والی پولیس اور ایف سی اہلکاروں کے لیے صرف سکول ہی نہیں بلکہ سرکاری عمارتوں، کالجز، سپورٹس کمپلیکس، میرج ہالز اور پولیس اسٹیشنز میں بھی قیام کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
اضافی نفری کے ساتھ آنے والے اعلیٰ پولیس افسران کے لیے اسلام آباد کے مختلف ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عام شہریوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر بند نہیں کی جائے گی۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور معمول کی سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اپنے حالیہ فیصلے میں شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادانہ نقل و حرکت متاثر کرنے والی سرگرمیوں کے حوالے سے واضح آبزرویشنز دی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ احتجاج کے حق اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
تاہم عملی طور پر اہم داخلی راستوں پر کنٹینرز، رکاوٹیں اور بعض مقامات پر دیگر حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے احتجاج کے دوران عام شہریوں کے لیے صورتحال اس بات پر منحصر ہو سکتی ہے کہ وہ کس راستے سے اسلام آباد میں داخل ہو رہے ہیں اور اس وقت وہاں احتجاج یا سکیورٹی کی صورتحال کیا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف داخلی راستوں پر سکیورٹی بڑھائی جا رہی ہے۔ ان میں فیض آباد، ٹی چوک، چکری، چنگی نمبر 26، پیرودھائی اور دیگر اہم راستے شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا کی جانب سے آنے والے راستوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ اسلام آباد کی جانب آنے والے ممکنہ احتجاجی قافلوں کو روکنے کے لیے راولپنڈی اور اٹک کو اہم سکیورٹی پوائنٹس سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پرامن شہریوں اور معمول کی شہری سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، تاہم قانون کی خلاف ورزی یا امن و امان خراب کرنے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔
اسلام آباد کے تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔ البتہ سکیورٹی فورسز کے قیام کے لیے لیے گئے 24 سرکاری تعلیمی اداروں میں معمول کی تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ان کو گھر سے کام کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
احتجاج اور ممکنہ ہنگامی صورت حال کے پیش نظر اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، ماہر ڈاکٹرز، بلڈ بینک انچارج، ڈپٹی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ، سکیورٹی افسران اور سٹور کیپرز کو اسٹیشن نہ چھوڑنے اور ضرورت پڑنے پر فوری ہسپتال پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بلڈ بینکوں کو کم از کم 100 خون کے بیگز کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام ایمبولینسز اور ان کے ڈرائیورز کو بھی تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہسپتالوں کے میڈیکل اور جنرل اسٹورز کو ایمرجنسی اور وارڈز کے لیے مناسب مقدار میں ضروری سامان رکھنے، جبکہ آکسیجن اور دیگر طبی گیسز کا وافر ذخیرہ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کو مردوں کے لیے 10 اور خواتین کے لیے 10 بستر مخصوص رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آفیسر وارڈ میں دو کمرے بھی ہنگامی صورتحال کے لیے محفوظ رکھنے کو کہا گیا ہے۔ ہسپتالوں کا ہائی الرٹ 30 ستمبر 2026 تک یا مزید احکامات تک برقرار رکھنے کی ہدایت ہے۔
اسلام آباد میں اس وقت صورت حال دو پہلو رکھتی ہے۔ ایک طرف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں، تاجروں، سرکاری ملازمین اور دیگر افراد کو اپنی قانونی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے اور غیر ضروری طور پر سڑکیں بند نہیں کی جائیں گی۔
<p>پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان 5 اکتوبر 2025 کو اسلام آباد میں احتجاج کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
2




English (US) ·