ریاض ایئرپورٹ پر ’دھماکے کی آواز‘، درجنوں افراد زخمی

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کو پیش آنے والے ایک غیر واضح واقعے میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

عینی شاہدین نے ہوائی اڈے سے مسافروں کے انخلا اور دھماکے کی آواز سننے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جمعرات کو اسی ہوائی اڈے پر یمن کے حوثیوں کے حملوں میں سعودی ایئرلائنز کے ایک پائلٹ سمیت تین افراد جان سے گئے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ہفتے کے واقعے نے نئے حملے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ تاہم سعودی حکام نے نہ تو کسی تازہ حملے کی تصدیق کی اور نہ مسافروں کے انخلا کی وجہ بتائی۔

ریاض کے ایک ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کو ہوائی اڈے پر زخمی ہونے والے درجنوں افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں زیادہ تر سعودی شہری ہیں۔

ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ کم از کم پانچ زخمی سعودی شہری انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

بعض زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

تاہم ذرائع نے زخمیوں کی مجموعی تعداد یا ان کے زخمی ہونے کی وجہ کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ہوائی اڈے پر کیا ہوا؟

عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لوگوں کو باہر نکالا جا رہا تھا۔

ایک عینی شاہد کے مطابق وہ اپنی پرواز میں سوار ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ اس دوران اسے دھماکے کی آواز سنائی دی۔

ایک زخمی شخص کے رشتہ دار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہوائی اڈے پر پیش آنے والے واقعے میں شیشے کے ٹکڑے لگنے سے اس شخص کے کندھوں اور بازوؤں پر زخم آئے۔

دو دیگر عینی شاہدین نے بھی ہوائی اڈے سے لوگوں کے انخلا کی تصدیق کی، تاہم وہ یہ نہیں بتا سکے کہ انخلا کس وجہ سے کیا گیا۔

سعودی حکام کی ہفتے کو کسی نئے حملے یا انخلا کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی جبکہ حوثیوں نے بھی ہوائی اڈے پر کسی تازہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

مسافروں کو ایئرلائنز سے رابطے کی ہدایت

ہفتے کو ریاض کے ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ ہوائی اڈے روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی صورت حال کی تصدیق کر لیں۔

ہوائی اڈے کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ’براہ کرم ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہونے سے پہلے اپنی ایئرلائن سے براہ راست رابطہ کرکے اپنی پرواز کی صورت حال کی تصدیق کر لیں۔‘

اسی نوعیت کی ہدایت جمعرات کو بھی جاری کی گئی تھی، جب حوثیوں کے حملوں میں تین افراد مارے گئے تھے۔

ریاض ایئرپورٹ پر جمعرات کو کیا ہوا تھا؟

جمعرات کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثیوں نے قبول کی تھی۔

ان حملوں میں سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودی ایئرلائنز کے ایک پائلٹ سمیت تین افراد مارے گئے تھے، جبکہ ہوائی اڈے پر کھڑے ایک سعودی طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں سعودی حکام نے حوثیوں کے حملوں اور شہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق محدود معلومات جاری کی ہیں۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟

یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔

جولائی میں جنگ بندی ختم ہونے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور آئل ٹینکروں کو متعدد بار نشانہ بنایا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں پھیلنے والی آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران ریاض پر حالیہ حملوں کی شدت اور تعداد غیر معمولی رہی ہے۔

سعودی عرب یمن کی حکومت کو فوجی مدد فراہم کرنے والے بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کرتا ہے اور حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں یمن کی خانہ جنگی میں اس کی شمولیت مزید بڑھ گئی ہے۔

سعودی عرب اور حوثیوں، دونوں کی جانب سے سفارتی حل کے بجائے فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے اشارے ملے ہیں۔

یمن میں سرکاری فورسز کی پیش قدمی

دوسری جانب یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز نے آبنائے باب المندب کے اطراف حوثیوں کے خلاف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فوجی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سرکاری فورسز ان علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں جن پر حوثیوں نے گذشتہ ماہ قبضہ کیا تھا۔

یمنی حکومت نے گذشتہ ہفتے حوثیوں کے زیر قبضہ تمام علاقے واپس لینے کے لیے جوابی فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

یہ اعلان حوثیوں کی جانب سے ایک تیز رفتار کارروائی میں یمن کی پوری مغربی ساحلی پٹی پر قبضے کے بعد سامنے آیا تھا۔

حوثیوں نے تصدیق کی ہے کہ سرکاری فورسز نے آبنائے باب المندب کے علاقے میں حملہ کیا، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی ناکام بنا دی۔

آبنائے باب المندب کی اہمیت

آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کے راستے تیل اور تجارتی سامان کی بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔

اس علاقے میں لڑائی کے باعث نہ صرف یمن کی داخلی صورت حال بلکہ بحیرہ احمر میں بحری تجارت کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

تاہم زمینی صورت حال تیزی سے تبدیل ہونے اور صحافیوں کے لیے متاثرہ علاقوں تک رسائی مشکل ہونے کے باعث یمنی حکومت اور حوثیوں کے فوجی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کو پیش آنے والے ایک غیر واضح واقعے میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 20:00
Main image: 

<p>دو اپریل، 2026 کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے روانگی ٹرمینل سے مسافر گزر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
ریاض ایئرپورٹ پر ’دھماکے کی آواز‘، درجنوں افراد زخمی
Read Entire Article
Chatroom