روس نے پیر کو ان خبروں کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی جن میں کہا گیا تھا کہ ایک لیبارٹری ٹیکنیشن طاعون (پلیگ) کے باعث ہلاک ہو گئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر روس کی مدد کے لیے تیار ہے۔
جمعے کو سامنے آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 28 سالہ خاتون داریا شیپیلووا، جو سائبیریا کے علاقے ارکوتسک میں قائم انسدادِ طاعون ادارے میں کام کرتی تھیں، نمونیاوی طاعون (Pneumonic Plague) سے مر گئی ہیں، جس پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے، روس سے طاعون پھیلنے کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے سوال پر کہا: ’ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، ابھی ابھی ہمیں اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہم ان کی مدد کریں گے، جتنی بھی کر سکتے ہیں کریں گے۔‘
روسی خبررساں ادارے پیپل آف بائیکال نے علاقائی سکیورٹی سروسز سے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ مرنے والی خاتون شاید ایک ٹوٹی ہوئی ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے نمونیاوی طاعون سے متاثر ہوئی تھیں۔
دیگر میڈیا رپورٹس میں بھی ان کی موت کو لیبارٹری میں پیش آنے والے ممکنہ حادثے سے جوڑا گیا۔
پیپل آف بائیکال کے مطابق تقریباً 200 ایسے افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جو ممکنہ طور پر ان کے رابطے میں آئے تھے، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
تاہم روسی حکام نے زور دے کر کہا کہ بعد از مرگ ٹیسٹوں میں طاعون کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ارکوتسک کے گورنر ایگور کوبزیف نے پیر کو بتایا کہ علاقے میں ماہرین کے خصوصی کمیشن کے معائنے سے پتا چلا ہے کہ ’موت کی وجہ نامعلوم نوعیت کا نمونیا تھی۔‘
انہوں نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ روسی صارفین اور صحت کے نگران ادارے روسپوتریبنادزور نے ٹیسٹوں کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’خاتون کے حیاتیاتی نمونوں میں ان کے پیشہ ورانہ کام سے منسلک کسی جرثومے کا سراغ نہیں ملا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کوبزیف نے مزید کہا کہ خاتون کی موت کے بعد انسدادِ طاعون ادارے کے کسی ملازم نے طبی امداد کی ضرورت کے تحت رجوع نہیں کیا۔
ان کے مطابق ارکوتسک میں وبائی اور صحتِ عامہ کی صورت حال ’مستحکم‘ ہے۔
انہوں نے کہا: ’صورت حال ہمارے اور ماہرین کے مکمل کنٹرول میں ہے۔‘
پیر کو اس معاملے پر سوال کیے جانے پر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں سے کہا کہ وہ ’افواہوں اور قیاس آرائیوں کے بجائے روسپوتریبنادزور کے سرکاری بیانات پر اعتماد کریں۔‘
طاعون ایک بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماری ہے جو مختلف شکلوں میں سامنے آ سکتی ہے۔ ان میں نمونیاوی طاعون سب سے زیادہ متعدی قسم سمجھی جاتی ہے اور یہ سانس کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہو سکتی ہے، جبکہ غدودی طاعون (Bubonic Plague) متاثرہ پسوؤں کے ذریعے پھیلتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اگر نمونیاوی طاعون کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
ان اطلاعات پر واشنگٹن میں بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جہاں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں شروع ہونے والی کووڈ 19 وبا کی یادیں ابھی تک تازہ ہیں۔
ٹرمپ طویل عرصے سے اس نظریے کی حمایت کرتے رہے ہیں کہ کوویڈ 19 چین کے شہر ووہان میں ایک لیبارٹری سے رساؤ کے نتیجے میں پھیلا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ روس کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے، لیکن فی الحال ’تشویش کی کوئی وجہ‘ نظر نہیں آتی۔
آئس لینڈ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا: ’ظاہر ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان سفر بہت محدود ہے، لیکن ایسی کوئی چیز اگر قابو سے باہر ہو جائے تو تیزی سے پھیل سکتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اسی لیے ہم صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ گھبراہٹ کی وجہ ہے، البتہ توجہ دینے اور اس پر نظر رکھنے کی ضرور ضرورت ہے، اور ہم یہی کر رہے ہیں۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس میں اختیار کیے گئے اقدامات بظاہر ’مناسب‘ معلوم ہوتے ہیں۔
امپیریل کالج لندن میں بیکٹیریا کی ویکسینولوجی کے کلینیکل ایسوسی ایٹ پروفیسر میلک جبانی نے ایک تبصرے میں کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ ممکنہ رابطے میں آنے والے افراد کو قرنطینہ میں رکھنے اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
<p class="rteright">6 اکتوبر 2026 کو ماسکو میں روس کے صارفین اور صحت کے نگران ادارے روسپوتریبنادزور کے مرکزی دفتر کے احاطے سے ایک خاتون باہر جا رہی ہیں۔ روسی حکام نے اسی روز ان خبروں کو غیر اہم قرار دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سائبیریا میں ایک لیبارٹری ٹیکنیشن طاعون کے باعث مر گئی ہے (اے ایف پی)</p>
.png)
3 hours ago
2


English (US) ·