وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو کہا ہے کہ حکومت ’دہشت گردوں‘ کو بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کے اپنے مذموم عزائم میں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔‘
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعے کو جاری بیان میں کہا کہ دو ستمبر کو بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسند مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی ایک کمین گاہ کی نشاندہی کرکے اس کی نگرانی کی گئی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے اسے تباہ کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات بھی برآمد کیے گئے، جنہیں موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔‘
بلوچستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی
بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں۔ صوبہ کئی دہائیوں سے عسکریت پسندوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں شدت اور ان کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
عسکریت پسند سکیورٹی فورسز کے علاوہ سرکاری تنصیبات، ریلوے اور دیگر بنیادی ڈھانچے، ترقیاتی منصوبوں اور بعض معدنیاتی منصوبوں سے وابستہ مفادات کو بھی نشانہ بناتے رہے ہیں۔
2026 کے دوران بلوچستان میں بڑے حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جنوری 2026 میں بلوچستان میں ایک ہی وقت میں متعدد مقامات پر بڑے حملے بھی ہوئے۔ 31 جنوری کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے صوبے کے 12 مختلف مقامات پر مربوط حملے کیے تھے، جبکہ پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق ان حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائیوں میں 100 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے۔ ان واقعات میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد بھی جان سے گئے۔
بلوچستان میں عسکریت پسندی کا دائرہ صرف سکیورٹی تنصیبات تک محدود نہیں رہا۔ مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے دوران 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنائے جانے کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مسافروں کو بازیاب کرایا گیا جبکہ حملہ آور بھی مارے گئے۔
معدنی وسائل اور ترقیاتی منصوبے بھی نشانے پر
بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور یہاں چینی سرمایہ کاری سمیت مختلف بڑے ترقیاتی اور معدنی منصوبے موجود ہیں۔ گوادر میں چین کی جانب سے بندرگاہ اور دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ریکوڈک جیسے بڑے معدنی منصوبے بھی بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔
<p>پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف 24 اگست 2026 کو’پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی‘ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (فیس بک/ شہباز شریف)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·