میں کراچی کے ایک پاسپورٹ آفس میں تھی جب ایک خاتون اپنے نومولود بچی کے ساتھ آ کر میرے برابر میں بیٹھ گئیں۔ بچی شور شرابے کے باوجود کمبل میں لپٹی سو رہی تھی، اس بات سے بے خبر کہ اسے اپنی زندگی کی پہلی سرکاری دستاویز ملنے والی ہے۔
وہ اکیلے نہیں تھے۔ ہمارے سامنے ایک اور خاندان بیٹھا تھا، ان کے ساتھ بھی ایک شیر خوار بچہ تھا اور وہ بھی اپنی باری کے منتظر تھے۔ مجھے اندازہ تھا کہ انتظار کچھ طویل ہو گا، اس لیے میں نے بات چیت شروع کر دی۔ میں نے پوچھا کہ وہ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نومولود بچی کے والد نے کہا، سعودی عرب۔ عمرے کے لیے نہیں، چھٹیاں گزارنے کے لیے بھی نہیں۔ کام کی تلاش میں قسمت آزمانے کے لیے، وہاں ان کا ایک کزن تھا جو انہیں آنے کے لیے کہہ رہا تھا۔
ہمارے سامنے بیٹھے جوڑے نے پرجوش انداز میں کہا، ’ہم بھی!‘
’میرا بھائی پانچ سال سے ریاض میں ہے اور مجھے بھی مسلسل کہہ رہا ہے کہ آ کر اپنی قسمت آزماؤں۔‘ وہ شخص سافٹ ویئر ڈویلپر تھا۔
میں یہ واضح کر دوں کہ یہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ یہ کوئی سروے نہیں۔ میں نے ایک صبح ایک دفتر میں چند لوگوں سے بات کی۔ یہ اعداد و شمار نہیں ہیں اور میں انہیں اس طرح پیش بھی نہیں کروں گی۔ لیکن کبھی کبھی ایک کمرہ آپ کو ایسی بات بتا دیتا ہے جو اعداد و شمار نہیں بتا سکتے۔
دونوں خاندانوں کا منصوبہ ایک ایسے سفر کا تھا جو کچھ چھٹیاں گزارنے اور کچھ حالات کا جائزہ لینے کے لیے تھا۔ انہیں اپنے بچوں کے پاسپورٹ درکار تھے اور امید تھی کہ یہ ملتے ہی وہ جلد از جلد روانہ ہو جائیں گے۔ پھر حملے شروع ہو گئے۔ حوثیوں کے میزائلوں اور ڈرونز نے سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا، جن میں ریاض بھی شامل تھا، جہاں گذشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے میں کم از کم 12 افراد مارے گئے۔ پروازیں معطل ہو گئیں۔ منصوبہ مؤخر کر دیا گیا۔
اس کے بعد جو ہوا، اس نے مجھے حیران کر دیا۔
انتظار گاہ میں موجود دوسرے لوگ بھی گفتگو میں شامل ہو گئے۔ وہ مجھ سے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے۔ سعودی عرب میں آپ کس کو جانتے ہیں؟ آپ کا کزن کہاں ہے؟ میرے انکل ریاض میں ہیں۔ میرے دوست نے جدہ میں بہت ترقی کی ہے۔
یہ ایسی گفتگو تھی جو میں پاکستان میں پہلے بھی سن چکی تھی، مختلف دہائیوں میں اور مختلف شہروں میں۔ خاندان اور دوستوں کا ایک نقشہ، جو خلیج کے آرپار پھیلا ہوا تھا۔
لیکن ایک چیز بدل چکی تھی۔
جب میں بڑی ہو رہی تھی تو فقرہ ہوا کرتا تھا، ’دبئی چلو۔‘ یہ 1970 کی دہائی میں پاکستانیوں کی ایک نسل کا نعرہ تھا، اس نسل کا جس نے صحرا میں ایک شہر تعمیر کیا اور پیسہ واپس اپنے گھروں کو بھیجا۔ لیکن اس پاسپورٹ آفس میں نعرہ تھا، ’ریاض چلو۔‘
ایک معمر شخص نے کہا کہ دبئی اب پاکستانیوں کو اس طرح ویزے جاری نہیں کر رہا جیسے کبھی کیا کرتا تھا۔ ’اس شہر کو بنانے کے لیے ہم نے اتنا کام کیا، اس کے بعد بھی،‘ انہوں نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
ویزوں کے بارے میں ان کی بات مکمل طور پر درست تھی یا نہیں، لیکن اس کے پیچھے موجود احساس بالکل واضح تھا۔ خواب کی منزل بدل چکی تھی۔ اب اس کا رخ ایک ایسی مملکت کی جانب تھا جو تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میں نے پوچھا کہ اب ان کا کیا ارادہ ہے۔ ان کے جواب میں غصہ نہیں تھا۔ صبر تھا۔
انہیں امید تھی کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی تاکہ وہ جا سکیں۔ ان کے کسی جاننے والے نے وہاں کامیابی حاصل کی تھی۔ کوئی انہیں بتا رہا تھا کہ وہاں قسمت آزمانا فائدہ مند ہے۔ وہ انتظار کرنے کو تیار تھے۔ ایک اور بات بھی تھی جس پر میری نظر پڑی اور میں بار بار اسی کے بارے میں سوچتی ہوں۔
کسی نے پاکستان کے خلاف غصے میں طویل تقریر نہیں کی۔ نہ تلخی تھی، نہ شکایات کی لمبی فہرست۔ اگر کچھ تھا تو ایک عجیب سا قبول کر لینے کا احساس تھا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم ہیں۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے، یہ ہی ہے۔ اور یہ وہ جگہ ہے جہاں شاید ہم جا سکتے ہیں۔
یہ لوگ انتہائی مجبور حالات میں نہیں تھے۔ وہ ایگزیکٹو کاؤنٹر پر موجود تھے، جس کی فیس زیادہ ہوتی ہے۔ وہ بحیرہ روم میں کشتیوں کے ذریعے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے والے لوگ نہیں تھے۔ لیکن وہ خوش حالی میں بھی نہیں تھے۔
وہ کہیں درمیان میں تھے، اسی جگہ جہاں پاکستان کے بے شمار لوگ رہتے ہیں: اتنے آسودہ کہ منصوبہ بندی کر سکیں اور مستقبل کے بارے میں اتنے غیر یقینی کہ کسی دوسری جگہ کا رخ کرنے کے بارے میں سوچیں۔
لاکھوں پاکستانی خاندانوں کے لیے خلیج کوئی خیالی یا دور دراز تصور نہیں۔ سعودی عرب ان ترسیلات زر کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے جو گھرانوں اور معیشت، دونوں کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔ جب ریاض پر میزائل گرتے ہیں تو اس کا جھٹکا کراچی کے ویٹنگ رومز تک پہنچتا ہے، ان والدین تک جو فارم بھر رہے ہوتے ہیں، اور اس بچی تک بھی جو ابھی یہ نہیں جانتی کہ وہ بھی اس کہانی کا حصہ ہے۔
یہ جنگ پاکستان کے لیے ان حوالوں سے بھی اہم ہے جو سفارت کاری سے کہیں آگے جاتے ہیں۔ اسلام آباد نے حملوں کی مذمت کی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ لیکن اس معاملے میں داؤ پر لگے مفادات انتہائی ذاتی نوعیت کے بھی ہیں۔
بیرون ملک کام تلاش کرنے والے پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب سب سے بڑی منزل ہے اور وہاں پیدا ہونے والی ہر رکاوٹ پاکستان بھر کے گھروں میں محسوس کی جاتی ہے۔ کوئی ملک جب ملازمتوں اور ترسیلات زر کے لیے ایک خطے پر اس قدر انحصار کرتا ہو تو اس خطے کے حملوں کی زد میں آنے کی صورت میں خود بھی خطرات سے دوچار ہو جاتا ہے۔
اس کا سبق یہ نہیں کہ ہم خلیج سے نظریں پھیر لیں۔ سبق یہ ہے کہ اپنے کارکنوں کو بہتر طور پر تیار کریں، وہاں پہنچنے کے بعد ان کا تحفظ کریں اور اپنے ملک میں اتنے مواقع پیدا کریں کہ باہر جانا ایک انتخاب ہو، کوئی منصوبہ نہیں۔
میں ایک صبح کے مشاہدے سے بہت زیادہ نتائج اخذ نہیں کرنا چاہتی۔ شاید کسی اور دن، کسی دوسرے دفتر کی کہانی مختلف ہو۔ لیکن میں وہاں سے ایک ایسا سوال لے کر نکلی جس سے اب تک پیچھا نہیں چھڑا سکی۔
یہ ہمارے بارے میں کیا بتاتا ہے کہ ایک بچے کی زندگی کی پہلی سرکاری دستاویز ہی اس کے ملک سے باہر نکلنے کا راستہ بن جائے؟
مصنفہ ایک صحافی ہیں۔ یہ تحریر، جو اس سے قبل عرب نیوز پاکستان پر شائع ہوچکی ہے، ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">اسلام آباد میں ایک دفتر کے باہر ملازمت کے متلاشی نوجوانوں کی لمبی قطار (انڈپینڈنٹ اردو)</p>
.png)
1 hour ago
1



English (US) ·