خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق بعد آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے معاملے پر بحث اور آئینی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج صبح 11 بجے اسلام آباد میں ہوگا۔

اجلاس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حکومتی اقدام اور گورنر راج کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کی پارلیمانی منظوری کے حوالے سے کارروائی متوقع ہے، جبکہ گورنر راج کی توثیق کے معاملے پر بھی پیش رفت کا امکان ہے۔

اس سے قبل بدھ کو قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی تھی۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر چار گھنٹے سے زائد بحث ہوئی، جس کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی اقدام کی مخالفت کی۔

وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صدرِ پاکستان کی منظوری کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی صورتِ حال کے پیش نظر یہ اقدام ناگزیر ہوگیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے اس کی منظوری حاصل کرنا آئینی تقاضا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے 3 ہزار 787 واقعات رپورٹ ہوئے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے حوالے سے مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث وفاقی حکومت کو آخری چارے کے طور پر آئینی اختیار استعمال کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے بھی صوبائی حکومت کی ترجیحات سے متعلق اپنے تحفظات صدرِ مملکت اور وزیراعظم کو خط کے ذریعے آگاہ کیے تھے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ایمرجنسی کے نفاذ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم ان کے بقول اس صورتِ حال کی ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں اور سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے اس کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے دائر درخواست میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے اقدام کی آئینی حیثیت اور قانونی جواز پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس اقدام سے صوبائی خودمختاری، منتخب حکومت اور شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے معاملے کی فوری سماعت کی جائے۔

گورنر راج کی پارلیمانی منظوری کا آئینی طریقۂ کار

آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے متعلق صدارتی اعلان پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ضروری ہے۔ مقررہ دو ماہ کے اندر پارلیمانی منظوری حاصل نہ ہونے کی صورت میں اعلان غیر مؤثر ہوجاتا ہے۔ آئین کے تحت پارلیمنٹ اس کی مدت میں مزید دو ماہ کی توسیع بھی کرسکتی ہے۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کے تناظر میں آج کا مشترکہ اجلاس اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اجلاس کی کارروائی اور اس میں ہونے والی پیش رفت آئندہ آئینی اور سیاسی صورتِ حال کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

اجلاس میں ایمرجنسی کے نفاذ کی پارلیمانی منظوری کے حوالے سے کارروائی متوقع ہے، جبکہ گورنر راج کی توثیق کے معاملے پر بھی پیش رفت کا امکان ہے۔
جمعرات, اکتوبر 15, 2026 - 09:30
Main image: 

<p>تین مارچ، 2024 کی اس تصویر میں اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے باہر موجود میڈیا ورکرز اور سرکاری اہلکار اجلاس سے قبل موجود ہیں (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق بعد آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب
Read Entire Article
Chatroom