خیالات کا قبرستان

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

کسی نے ایک بار دو ایسے الفاظ کا فرق بہت سادہ انداز میں سمجھایا جو اکثر ایک دوسرے سے گڈمڈ ہو جاتے ہیں: ’Illusion‘ یعنی ہوا میں محل تعمیر کرنا اور ’Delusion‘ یعنی ان محلوں میں رہنا شروع کر دینا۔

قومیں بھی یہ غلطی کر سکتی ہیں۔ میں نے اس کی ایک جھلک 1983 میں دیکھی، جب میرے والد کی تعیناتی تہران میں ہوئی اور ہماری تعلیم کے لیے ہمارا خاندان کراچی منتقل ہو گیا۔ ہمارا محلہ عام سا معلوم ہوتا تھا۔ شامیں کرکٹ، فٹ بال اور ہاکی کے نام ہوتیں اور میرے آس پاس کے لڑکے خوش مزاج اور پرامید تھے۔ اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ بہت جلد خیالات ہماری گلیوں میں داخل ہوتے ہیں اور بہت سی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل دیتے ہیں۔

چند ہی برسوں میں کرکٹ کے بلّوں کی جگہ ٹی ٹی پستولوں نے لے لی، جو 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں کراچی کے تشدد کی خوفناک شناخت بن گئے تھے۔ کچھ لڑکے نسلی مسلح گروہوں میں شامل ہو گئے، پہلے حریفوں سے لڑے، پھر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہو گئے۔ بہت سے مارے گئے۔ دوسرے غائب ہو گئے۔ چند سیاست میں داخل ہو گئے۔ ہڑتالوں اور کرفیو نے ہمیں ایک تعلیمی سال سے بھی محروم کر دیا۔ کئی برس بعد بھی سوال وہی ہیں: عام لڑکوں کو بندوق بردار کس نے بنایا؟ ان کے پیچھے کون کھڑا تھا؟ اور کون سا خیال تھا جس نے تشدد کو جائز محسوس کروایا؟

یونیورسٹی میں ’افغان جہاد‘ نے اسی نوعیت کے سوالات کھڑے کیے۔ نوجوان سرحد پار گئے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ اپنے مذہب اور اپنے مسلمان بھائیوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ جن طلبہ کو میں جانتا تھا، ان میں سے کچھ لڑنے چلے گئے۔ سب واپس نہیں آئے۔ برسوں بعد سبق مزید واضح ہوا: جو لوگ جنگ لڑتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہی اسے ترتیب دینے والے، جاری رکھنے والے یا اس سے فائدہ اٹھانے والے بھی ہوں۔

بلوچستان نے یہ سبق مزید قریب سے دکھایا۔ میں نے قبائلی رقابتوں، فرقہ وارانہ تشدد اور شورش کو پرانی شکایات سے توانائی حاصل کرتے دیکھا۔ پرانے تنازعات کو نئے ہتھیار مل گئے۔ نئی شکایات کو نئے بھرتی ہونے والے افراد مل گئے۔ بعض گروہوں کو ایک وقت میں برداشت کیا جا سکتا تھا اور اگلے ہی لمحے ان کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

ہر فریق کا یقین تھا کہ تاریخ اس کے مؤقف کو درست ثابت کرتی ہے اور ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ تشدد محدود رہے گا۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوا۔

پھر دارفور آیا۔ اقوام متحدہ کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہوئے میں نے عرب اور افریقی مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف نہایت سفاکی سے لڑتے دیکھا۔ مذہب انہیں جوڑتا تھا، لیکن شناخت اور طاقت انہیں تقسیم کرتی تھیں۔ سوڈان میں حکومت کی حمایت یافتہ عرب خانہ بدوش ملیشیا جنجاوید تباہ شدہ دیہات اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے منسلک ہو گئی۔

امن دستے مینڈیٹ کے ساتھ پہنچے، لیکن بہت زیادہ لوگوں کے لیے وہ بہت دیر سے آئے۔

جغرافیہ بدل جاتا ہے، لیکن یہ کشش نہیں بدلتی۔ طاقتور ریاستیں بھی اپنے تزویراتی مفادات کو نسبتاً کم سیاسی قیمت پر آگے بڑھانے کے لیے مسلح عناصر اور نجی عسکری ڈھانچوں پر انحصار کرتی رہی ہیں۔ عراق میں بلیک واٹر ایک متنازع نام بن گیا۔ بعد ازاں روس نے مختلف محاذوں پر ویگنر گروپ پر بہت زیادہ انحصار کیا، یہاں تک کہ ویگنر نے خود ماسکو کو چیلنج کر دیا۔ آج کا آلہ کل کا بوجھ بن سکتا ہے۔

پاکستان نے بھی اس کی اپنی مختلف شکلوں کا تجربہ کیا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ریاست کے ساتھ تصادم کے ماحول میں ابھری۔ بلوچ علیحدگی پسند تشدد پرانی شکایات سے قوت حاصل کرتا ہے اور ساتھ ہی ایک وسیع علاقائی مقابلے کے ساتھ جڑتا ہے۔ مذہبی بنیادوں پر ہونے متحرک تحریکوں نے دکھایا کہ شناخت اور شکایت کتنی تیزی سے سیاسی طاقت اختیار کر سکتی ہیں۔ ایک بار جب غصے کو منظم کر دیا جائے، اسے ایک بیانیہ دے دیا جائے اور طاقت کی پشت پناہی حاصل ہو جائے، تو اس کی سمت کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہم بار بار یہ ہی غلطی کیوں کرتے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاید اس لیے کہ فوری فائدہ بہت پرکشش لگتا ہے۔ بیرونی طاقتیں اثر و رسوخ چاہتی ہیں۔ حکومتیں دباؤ ڈالنے کی صلاحیت چاہتی ہیں۔ برادریاں تحفظ چاہتی ہیں۔ سیاسی عناصر حمایت چاہتے ہیں۔ افراد شناخت، وابستگی، انصاف یا انتقام کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ایک پراکسی، ملیشیا یا شدت پسند بیانیہ کسی وقتی مسئلے کا مفید حل دکھائی دے سکتا ہے۔ لیکن سیاست کے پاس تشدد کے لیے کوئی ریموٹ کنٹرول نہیں ہوتا۔ ایک بار اسے آزاد کر دیا جائے تو وہ شاذ و نادر ہی اپنے اصل آپریٹر کی اطاعت کرتا ہے۔

یہ ہی وہ فریب ہے جس کا سامنا کرنا چاہیے۔

ایک دشمن کے خلاف تیار کیے گئے گروہ خود خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایک برادری کے دفاع کے لیے کھڑی کی گئی ملیشیا دوسری برادری کو دہشت زدہ کر سکتی ہے۔ انصاف کا وعدہ کرنے والی تحریکیں خوف کے آلات میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

اور ضروری نہیں کہ سب سے اہم فیصلے میدان جنگ میں ہی کیے جائیں۔ اکثر وہ کانفرنس روموں، انٹیلی جنس بریفنگز اور دور دراز دارالحکومتوں میں ہوتے ہیں۔ کاغذ پر ایک پراکسی جنگ سے سستی نظر آ سکتی ہے، جبر سیاست سے تیز دکھائی دے سکتا ہے اور اصلاحات کے مقابلے میں دباؤ آسان معلوم ہو سکتا ہے۔ مگر زمین پر عام لوگ اس کے نتائج ورثے میں پاتے ہیں۔ منصوبہ ساز آگے بڑھ جاتا ہے، مگر محلہ اپنے زخم سنبھالتا رہتا ہے۔

یہ ناانصافی کے خلاف مزاحمت یا ریاست کے دفاع کے خلاف دلیل نہیں ہے۔ جائز شکایات کا ازالہ ہونا چاہیے اور ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تشدد سے محفوظ رکھیں۔ لیکن طریقہ کار اہمیت رکھتا ہے۔ جب تشدد کو ایک سہل سیاسی ہتھیار کے طور پر جائز قرار دے دیا جاتا ہے تو وہ اپنے حمایتی حلقے، اپنی معیشتیں اور اپنے بیانیے پیدا کر لیتا ہے۔ آخرکار وہ اسی مقصد کو نگل سکتا ہے جس نے ابتدا میں اسے جائز قرار دیا تھا۔

خیالات کا قبرستان صرف ترک کر دی گئی تحریکوں سے نہیں بھرا، بلکہ ان حکمت عملیوں سے بھی بھرا ہے جن کے نتائج ان کے معماروں کی زندگیوں سے زیادہ دیر تک باقی رہے۔

سرکاری خدمت کے برسوں نے مجھے ایک سادہ سبق سکھایا: کسی سنگین واقعے کے بعد ’یہ کس نے کیا؟‘ پوچھنا صرف آغاز ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ یہ ہونے کی اجازت کس چیز نے دی؟ ہم سے کیا نظرانداز ہوا؟ ہم کہاں غلطی کر گئے؟ اور کیا تبدیل ہونا چاہیے؟ قوموں کو بھی اپنی پالیسیوں کا جائزہ اسی نظم و ضبط کے ساتھ لینا چاہیے۔

پاکستان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے جب وہ دہشت گردی، فرقہ واریت، نسلی تشدد اور بڑھتی ہوئی تقسیم کا سامنا کر رہا ہے۔ ادارے بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں۔ نفرت کو چند دنوں میں متحرک کیا جا سکتا ہے۔ اصل انتخاب تنازع اور عدم تنازع کے درمیان نہیں ہوتا۔ تنازع سیاست اور معاشرے کا حصہ ہے۔ انتخاب اس بات کے درمیان ہوتا ہے کہ آیا ایسے ادارے موجود ہیں جو اسے سنبھال سکیں، یا پھر ہم بار بار اس غلط فہمی کا شکار ہوتے رہیں کہ شارٹ کٹس، وقتی مصلحت، پراکسی گروہ اور تشدد اس کام کو انجام دے سکتے ہیں۔

ہم ہوا میں بہت سے محل بنا چکے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان میں رہنا چھوڑ دیں۔

مصنف سابق وفاقی سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) اور اقوام متحدہ کے پولیس کمشنر رہ چکے ہیں۔ وہ جامعات میں قانون اور فلسفہ پڑھاتے ہیں۔

یہ تحریر جو اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

کسی سنگین واقعے کے بعد ’یہ کس نے کیا؟‘ پوچھنا صرف آغاز ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ یہ ہونے کی اجازت کس چیز نے دی؟
جمعہ, ستمبر 4, 2026 - 07:15
Main image: 

<p class="rteright">افراد شناخت، وابستگی یا&nbsp;انصاف کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ 26 اگست، 2026 کو اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال میں ایک شخص آتشزدگی سے مرنے والے بچے کے روتے ہوئے والد کو دلاسا دے رہا ہے (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
خیالات کا قبرستان
Read Entire Article
Chatroom