حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کا بھانڈا پھوٹ گیا، ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہونے کا انکشاف

7 months ago 23

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی حالیہ رپورٹ میں حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کا بھانڈا پھوڑ دیا گیا ہے اور انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں تعلیم کے حصول پر مجموعی اخراجات 500 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں مگر اس کا بڑا بوجھ اب حکومت نہیں بلکہ عام پاکستانی خاندان اٹھا رہے ہیں اور ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار گھریلو اخراجات حکومتی تعلیمی بجٹ سے بڑھ گئے ہیں، پندرھویں ایڈیشن کی رپورٹ کے مطابق ڈھائی کروڑ  بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم کے حصول کے لیے عوام 280 ارب روپے جبکہ حکومتی سرمایہ کاری 220 ارب روپے رہ گئی ہے یعنی تعلیم کا 56 فیصد بوجھ عوام اور صرف 44 فیصد ریاست اٹھا رہی ہے، والدین ایک ہزار 310 ارب روپے نجی اسکولوں کی فیس کی مد میں اور 613 ارب روپے کوچنگ اور ٹیوشن اور 878 ارب روپے دیگر ذاتی تعلیمی اخراجات پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ پالیسی ڈائیلاگ میں آئی سیپس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان ہمایوں نے بتایا کہ جب گھریلو اخراجات تعلیم پر سرکاری سرمایہ کاری سے بڑھ جائیں تو یہ ایک سنجیدہ مساواتی بحران کی نشان دہی کرتا ہے۔ ورلڈ بینک کی سینئر ایجوکیشن اسپیشلسٹ عزا فرخ نے کہا کہ نجی اسکولوں کا پھیلاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاندان سرکاری نظام سے نکلنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ آئی سیپس کے ڈائریکٹر پروگرامز احمد علی کا کہنا تھا کہ نجی اخراجات میں اضافہ حکومت کے لیے ایک واضح پالیسی پیغام ہے، یہ رجحان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنایا جائے، وسائل مؤثر انداز میں استعمال ہوں اور بالخصوص لڑکیوں اور محروم طبقات کے لیے مساوات کو تحفظ دیا جائے۔
Read Entire Article
Chatroom