وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف دفاع فراہم کرنے کے لیے ’جو بھی ذرائع دستیاب ہوں گے‘ انہیں استعمال کرے گا۔
خواجہ آصف کا یہ بیان اب تک اسلام آباد کی جانب سے اس بات کا واضح ترین عندیہ ہے کہ وہ خطے میں پھیلتے ہوئے تنازعے میں براہ راست شامل ہو سکتا ہے۔
اگرچہ وزیر دفاع نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا پاکستانی فورسز پہلے ہی فضائی حملوں میں حصہ لے چکی ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ نئے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوں گی۔
روم کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں خواجہ آصف سے جب پوچھا گیا کہ آیا پاکستان یمن میں ایرانی اہلکاروں کے خلاف فضائی حملوں میں شامل رہا ہے تو انہوں نے کہا: ’میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا، لیکن ظاہر ہے جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم اس انتظام کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس جو بھی ذرائع دستیاب ہوں گے، وہ سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔ میرے خیال میں یہ ایک واضح بیان ہے۔‘
ان کے جواب سے پاکستانی فوج کی کسی بھی حملے میں شرکت کی براہ راست تصدیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آیا سعودی عرب، جسے حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کے بار بار حملوں کا سامنا رہا ہے، نے پاکستان سے مدد طلب کی ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں قرار دیا گیا کہ ایک رکن پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک نے اس معاہدے کو دفاعی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں ہے۔
فوجی کمانڈروں کی حالیہ ملاقات
خواجہ آصف کا یہ بیان پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے فوجی سربراہان کی ریاض میں ملاقات کے چند روز بعد سامنے آئے، جس میں حوثیوں کے حملوں کے ردعمل پر بات چیت کی گئی تھی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں اور یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اپنے کنٹرول کو وسعت دی ہے۔
حوثیوں نے حال ہی میں سٹریٹیجک اہمیت کے حامل بندرگاہی شہر موخا اور بحیرہ احمر کے کئی جزائر پر قبضہ کر لیا ہے، جس سے آبنائے باب المندب کی جانب ان کی رسائی بڑھ گئی ہے۔ اس سمندری راستے سے دنیا کی تقریباً 12 فیصد تجارت گزرتی ہے۔
حوثیوں نے عراق میں اتحادی ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر سعودی تیل تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں اور سعودی ٹینکروں کو آبنائے سے گزرنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔
نیا اتحاد ابھی تشکیل پا رہا ہے
خواجہ آصف نے حوثیوں کو ’جارح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے لیے پاکستان کا عزم واضح ہے۔
انہوں نے کہا: ’سعودی عرب کا کوئی بھی دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے۔‘
اس معاہدے میں تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب، نیٹو کے رکن ترکی اور جوہری ہتھیار رکھنے والے پاکستان کو ایک ساتھ لایا گیا ہے۔ خواجہ آصف نے جوہری ہتھیاروں کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا کہ وہ سعودی عرب کے لیے پاکستان کے عزم کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی نے اس اتحاد کے لیے ابتدائی آزمائش پیدا کر دی ہے۔ معاہدے کا مکمل متن جاری نہیں کیا گیا اور اس کی کمانڈ اور آپریشنل ساخت ابھی تشکیل دی جا رہی ہے۔
پاکستانی وزیر دفاع کے مطابق تینوں ممالک ایک سیکریٹریٹ قائم کر رہے ہیں اور اتحاد کے ڈھانچے کو تشکیل دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک نے بھی اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم فوری طور پر اتحاد کو وسعت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق یہ اتحاد اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ سکیورٹی انتظامات خلیجی ممالک کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ ایران سے متعلق تنازع پورے خطے میں پھیل رہا ہے۔
انہوں نے کہا: ’ایک بار جب آپ تنازع شروع کر دیتے ہیں تو آپ اس کے نتائج کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ آپ اس تنازع کی سمت کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔‘
پاکستان کے ایران سے تعلقات برقرار
ایران طویل عرصے سے حوثیوں کو ہتھیار اور دیگر معاونت فراہم کرتا رہا ہے، تاہم تہران انہیں فوجی کارروائیوں کی ہدایت دینے کی تردید کرتا ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عندیہ دیا کہ حوثی اور عراق میں موجود بعض ملیشیا اب ایران سے کافی حد تک آزاد ہو کر کارروائیاں کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا: ’ان میں سے کچھ پراکسی بے قابو ہو جاتے ہیں۔‘
سعودی عرب کی فوجی طور پر حمایت کرنے کے لیے پاکستان کی آمادگی کے باوجود خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد ایران سے متعلق وسیع تر تنازع ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر بھی زور دے رہا ہے اور تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان نے رواں سال کے آغاز میں امریکہ اور ایران کی جنگ میں خود کو ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی اور تنازع ختم کرنے کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔
اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ بالواسطہ مذاکرات ثالثوں کے ذریعے اب دوبارہ شروع ہو گئے ہیں، تاہم خواجہ آصف نے حالیہ کوششوں میں پاکستان کے کردار کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
رواں برس اپریل میں پاکستان نے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ دونوں فریق جون میں ایک عبوری معاہدے پر پہنچے اور 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنے پر رضامند ہوئے تھے، تاہم لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد یہ مدت گزر گئی۔
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے اعلیٰ سفارت کاروں نے بھی حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقعے پر ملاقات کی تھی، جس میں نئے دفاعی معاہدے پر عمل درآمد اور مکہ اور سعودی عرب کے دیگر مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے ردعمل میں رابطہ کاری پر بات کی گئی۔
<p class="rteright">خواجہ محمد آصف 26 دسمبر 2017 کو بیجنگ میں چین، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے پہلے سہ فریقی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (نکولس آسفوری / اے ایف پی)</p>
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·