سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ 29 ستمبر، 2026 کو صبح 5 بج کر 11 منٹ پر مدینہ منورہ میں طیبہ گرڈ سٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان کی جانب سے جمعرات کی شب ایکس پر ایک نوٹس جاری کیا گیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
نوٹس کے مطابق متعلقہ حکام کی تحقیقات، دستیاب شواہد اور حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کے تجزیے سے حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی۔
ستمبر 2026 میں یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب پر متعدد ڈرون اور بیلسٹک/کروز میزائل حملے کیے، جن کا بنیادی ہدف جنوبی اور مغربی شہروں کے ساتھ ساتھ تیل کی تنصیبات تھیں۔
ابتدائی حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سعودی حکام کے مطابق 73 شہری (بشمول خواتین و بچے) زخمی ہوئے اور توانائی کی سہولیات میں آگ لگ گئی۔
بعد میں یانبو کی آرامکو تنصیبات، خمیس مشیط ایئر بیس اور دیگر مقامات پر بار بار حملے ہوئے۔
جمعرات کی شب جاری بیان کے مطابق اتحادی افواج کے مطابق حملے کے نتیجے میں بجلی کا ایک ٹرانسفارمر عارضی طور پر غیر فعال ہوا، تاہم مجموعی طور پر بجلی کی ترسیل اور نیٹ ورک متاثر نہیں ہوا۔
ترجمان نے کہا کہ مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والی شہری تنصیب کو نشانہ بنانا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی حوثی ملیشیا کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان نے اسے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو دانستہ طور پر مجروح کرنے والی اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا۔
اتحادی افواج نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو روکنے، حرمین شریفین کے تحفظ اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں زائرین کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
سال 2026 میں مشرق وسطیٰ میں امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملے شروع کیے اور یمن کے مغربی ساحل پر تیزی سے پیش قدمی کر کے مخا بندرگاہ اور باب المندب آبنائے کے قریب جزائر پر قبضہ کر لیا۔
ستمبر کے حملے اسی تناظر میں ہوئے، جنہیں حوثی سعودی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیتے ہیں، جبکہ سعودی عرب انہیں اپنی خودمختاری اور تیل کی تنصیبات پر حملہ سمجھتا ہے۔
یہ صورت حال عالمی تیل کی سپلائی اور خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
<p class="rteright">سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی حوثی حملے سے متاثرہ جگہ کی تصویر(ایکس اکاؤنٹ)</p>
.png)
3 hours ago
1




English (US) ·