حضرو کے گاؤں میں کچرے سے کھاد تیار کرنے کا منفرد منصوبہ

2 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

اٹک کی تحصیل حضرو کے گاؤں ویسہ میں کچرے کو مسئلہ سمجھنے کی بجائے اسے وسائل میں تبدیل کرنے کا منفرد تجربہ جاری ہے جہاں انمول ویلفیئر سوسائٹی نے صفائی، ری سائیکلنگ، نامیاتی کھاد کی تیاری اور روزگار کو ایک ہی نظام کا حصہ بنا دیا ہے۔

منصوبے کا آغاز کرنے والی انمول ویلفیئر سوسائٹی کے صدر وسیم خان کے مطابق گاؤں کو صاف ستھرا، سرسبز اور ماحول دوست بنانے کا سفر 2018 میں شروع ہوا۔ ابتدا میں کچرا روایتی انداز میں ایک جگہ پھینک دیا جاتا تھا تاہم زمین، ماحول اور زیر زمین پانی پر اس کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر کچرے کو سائنسی اور منظم انداز میں ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت مخیر حضرات کے تعاون سے ویسہ گاؤں میں پانچ کنال اراضی پر انمول ری سائیکل سینٹر قائم کیا گیا جس پر اب تک تقریباً پانچ کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

وسیم خان نے بتایا کہ ’گھروں سے روزانہ کچرا جمع کرنے کے لیے تین لوڈر رکشے استعمال کیے جا رہے ہیں جو گھر گھر پہنچ کر کچرا اکٹھا کرتے ہیں سبزیوں ،پھلوں کے پتوں اور چھلکوں کو چھوڑ کر دیگر کچرا اسی وقت علیحدہ کرلیا جاتا ہے جب کہ پلانٹ تک پہنچنے کے بعد کچرے کی مزید چھانٹی کی جاتی ہے۔‘

گتہ، کاغذ، پلاسٹک، دھات، ہڈیاں، پتھر، ڈائپرز کو الگ کر دیا جاتا ہے جب کہ پھلوں، سبزیوں، پتوں، گھاس اور دیگر نامیاتی فضلے کو کھاد بنانے کے عمل میں شامل کر دیا جاتا ہے۔

وسیم خان کے مطابق کھاد کی تیاری ایک طویل اور مسلسل نگرانی کا عمل ہے۔ نامیاتی فضلے کو مخصوص لمبی کیاریوں میں تقریباً 60 سے 90 دن تک مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ اس دوران درجہ حرارت کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جاتی ہے کیوں کہ کھاد کی تیاری میں درجہ حرارت انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پلانٹ انتظامیہ کے مطابق عموماً 50 سے 70 درجے سیلیئس کے درمیان درجہ حرارت کو کھاد بننے کے عمل کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ درجہ حرارت کی پیمائش کے لیے ڈیجیٹل میٹر استعمال کیے جاتے ہیں جب کہ چند روز کے وقفے سے نامیاتی مواد کو الٹ پلٹ بھی کیا جاتا ہے تاکہ ہوا کی مناسب آمدورفت برقرار رہے اور درجہ حرارت قابو میں رہے۔

کھاد کی کیاریوں میں مخصوص سوراخ دار پائپ بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ گیسوں کے اخراج اور ہوا کی آمدورفت میں مدد مل سکے

وسیم خان کے مطابق بعض اوقات زیادہ درجہ حرارت کے باعث یہ پائپ ٹیڑھے ہو جاتے ہیں جو کھاد کے اندر پیدا ہونے والی حرارت کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’کھاد بننے کے عمل کے دوران نامیاتی فضلے سے خارج ہونے والی رطوبت کو ضائع کرنے کی بجائے زیر زمین ٹینکوں میں جمع کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق اسے دوبارہ نامیاتی مواد کو نم رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے گلنے سڑنے کا عمل تیزی سےجاری رہتا ہے۔‘

وسیم خان کہتے ہیں کہ کئی ٹن نامیاتی فضلہ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد کم ہو کر تقریباً 10 سے 20 فیصد رہ جاتا ہے اور یہی حصہ تیار شدہ  کھاد کی شکل اختیار کرتا ہے جسے کسانوں کو تقریباً 1500 روپے فی من کے حساب سے فراہم کیا جاتا ہے۔

وسیم نے مزید بتایا کہ پلانٹ میں جانوروں کے گوبر کو بھی الگ طریقے سے پراسس کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے مخصوص کیاریاں بنائی گئی ہیں جہاں درآمد شدہ کیچوؤں اور کیڑوں کی مدد سے گوبر کو مزید بہتر نامیاتی کھاد میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کھاد تقریباً دو ہزار روپے فی من کے حساب سے کسانوں کو فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کا ایک اہم پہلو روزگار کی فراہمی بھی ہے۔ اس وقت تقریباً 15 سے 16 خاندان براہ راست اس منصوبے سے روزگار حاصل کر رہے ہیں جبکہ مستقبل میں ری سائیکلنگ کے دائرہ کار کو بڑھا کر مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح بنائی گئی کھاد کو کو مارکیٹ میں متعارف کرانے سے پہلے اسے مقامی زمینوں میں مختلف فصلوں میں آزمایا گیا جس کے بعد کسانوں کو بھی اس کے استعمال کی طرف راغب کیا گیا۔

کسان محمد عمران کے مطابق وہ پہلے مکئی کی فصل میں ڈی اے پی سمیت مختلف کیمیائی کھادیں استعمال کرتے تھے، تاہم اب انہوں نے انمول ری سائیکل پلانٹ کی تیار کردہ کمپوسٹ اپنی فصل میں استعمال کی جس کے بعد انہیں اپنی فصل میں اچھے نتائج محسوس ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے کسانوں کو بھی اس متبادل کو آزمانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

ویسہ کے ایک اور کسان شہزاد خان کے مطابق انہوں نے مکئی کی فصل میں کمپوسٹ استعمال کی اور ان کے مشاہدے کے مطابق فصل کا نتیجہ اچھا رہا۔ اب انہوں نے آلو اور گندم کی فصل میں بھی یہی کمپوسٹ استعمال کی ہے اور اس کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں محکمہ زراعت اٹک کے سینیئر سائنٹسٹ سوائل اینڈ کیمسٹری صفتین اللہ خان نیازی نے راولپنڈی سے آنے والے دیگر افسران اور ماہرین کے ہمراہ انمول ری سائیکلنگ سینٹر کا دورہ بھی کیا۔

صفتین اللہ خان نیازی کے مطابق ویسہ جیسے دیہی علاقے میں کچرے کو منظم انداز میں جمع کرکے اس سے کمپوسٹ تیار کرنا قابل توجہ اقدام ہے۔ ان کے مطابق اگر کمپوسٹ کی تیاری کے عمل کو مزید سائنسی اصولوں کے مطابق بہتر بنایا جائے اور خام مال سمیت تیار شدہ کھاد کی باقاعدہ لیبارٹری جانچ کی جائے تو اس کے زرعی استعمال کے نتائج اور معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ ایسے منصوبوں کو صرف ایک گاؤں تک محدود رکھنے کے بجائے دیگر دیہات، شہروں، تعلیمی اداروں اور مختلف سرکاری و نجی اداروں تک بھی وسعت دی جا سکتی ہے جہاں کچرے کو وسائل میں تبدیل کرنے کے ماڈل پر کام کیا جائے۔

انمول ویلفیئر سوسائٹی کے صدر وسیم خان کے مطابق منصوبے کا اگلا مرحلہ آٹومیشن، مزید ری سائیکلنگ اور زیرو ویسٹ کی جانب پیش رفت ہے۔ پلاسٹک بیگز، ڈائپرز اور دیگر مشکل فضلے کے لیے بھی حل تلاش کیے جا رہے ہیں تاہم اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مزید سرمایہ کاری درکار ہے۔ غیر ضروری کچرا فروخت کردیا جاتا ہے لیکن بہت جلد اس کچرے کو بھی ری سائیکلنگ کیجانب لانےکےلیے سوچ بچار جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مستقبل کا مقصد صرف کچرا اٹھانا یا کمپوسٹ تیار کرنا نہیں بلکہ پورے نظام کو ایک خود کفیل اور نفع بخش فلاحی ادارے میں تبدیل کرنا ہے جو اپنے اخراجات خود پورے کرے مزید لوگوں کو روزگار فراہم کرے اور حاصل ہونے والی آمدنی دوبارہ صفائی، ماحولیات اور علاقے کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جا سکے۔

گھروں سے فضلہ اکٹھا کرنے کے بعد اس کی چھانٹی کر کے ایسا مواد الگ کیا جاتا ہے جس کی مدد سے کھاد تیار کی جا سکے۔
سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 08:00
Main image: 

<p class="rteright">انمول ویلفیئر سوسائٹی نے صفائی، ری سائیکلنگ، نامیاتی کھاد کی تیاری اور روزگار کو ایک ہی نظام کا حصہ بنا دیا ہے (ندیم حیدر/انڈپینڈنٹ اردو)</p>

jw id: 
DPSSreAb
type: 
SEO Title: 
حضرو کے گاؤں میں کچرے سے کھاد تیار کرنے کا منفرد منصوبہ
Read Entire Article
Chatroom